انڈیا، شہریت بل راجیا سبھا سے بھی منظور

حکام نے ریاست آسام میں فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی پارلیمان کے ایوان بالا راجیا سبھا نے شہریت سے متعلق متنازعہ ترمیمی بل پاس کر لیا ہے۔
بل کے حق میں 117 ووٹ جبکہ اس کے خلاف 97 ووٹ پڑے۔ بل انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے ایوان بالا میں پیش کر دیا تھا۔
دریں اثنا انڈیا کے شمال مشرقی علاقوں میں حکام نے شہریت سے متعلق بل کی منظوری کے خلاف مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔
خیال رہے قبل ازیں خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک سینئر فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا  کہ ریاست تری پورہ میں فوج تعینات کی گئی ہے جبکہ آسام میں فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
تاہم نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق فوج نے وضاحت کی ہے کہ تریپورہ میں تعینات دو دستے آسام رائفل کے ہیں فوج کے نہیں۔  
دونوں ریاستوں میں پولیس تین دن سے شہریت بل کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں سے برسر پیکار ہیں۔
گو کہ اسلامی گروپوں، اپوزیشن جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دوسروں کے لیے انڈیا کی شہریت سے متعلق بل وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت کے انڈیا کے 20 کروڑ مسلمانوں کو پسماندہ رکھنے کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ تاہم انڈیا کے شمال مشرقی علاقوں میں  جہاں تین دنوں سے مسلسل احتجاج ہو رہا ہے کئی افراد بالکل مختلف وجوہات کی بنا پر اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں۔
وہ اس بل کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے مطابق اس کا مقصد حالیہ دہائیوں میں بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے انڈیا آنے والے لاکھوں ہندوں کو انڈین شہریت دینا ہے۔
بدھ کو پولیس نے ریاست آسام کے سب سے بڑے شہر گوہاٹی کے مختلف علاقوں میں مظاہرین پر اس وقت آنسو گیس کے شیل پھینکے اور لاٹھی چارج کیا جب ہزاروں افراد نے رکاوٹیں  توڑ کر ریاستی دارلحکومت دسپور  جانے کی کوشش کی۔
حکام کے مطابق تریپورا میں حکومت نے مظاہروں کے پیش نظر موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی ہے۔
مقامی کارکن عقیل گوگی  نے کہا کہ اگر آج سی بی اے کو راجیا سبھا سے پاس کیا گیا تو ہم تمام طلبا، سویلینز، چائے کے باغات میں کام کرنے والے کارکنان اور معاشرے کے تمام دیگر طبقات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کے خلاف کل دوبارہ سڑکوں پر آئیں۔

تریپورا میں حکومت نے مظاہروں کے پیش نظر موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

شہریت بل کو انڈیا کے پارلیمان کی ایوان زیریں نے پیر کی رات کو گرما گرم بحث کے بعد پاس کیا تھا۔
پارلیمان کے ایوان بالا میں اپوزیشن کے رکن ڈیرک اوبرائن نے بدھ کو کہا کہ شہریت بل 1930 کی دہائی کے نازی جرمنی میں یہودیوں کے خلاف بنائے گئے قوانین کے ساتھ خطرناک حد تک مماثلت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 1935 میں جرمنی میں جرمن لوگوں کے تحفظ کے لیے قانون بنایا گیا اور آج ہم ایک بل کے ذریعے یہ طے کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ کون سچے انڈین ہیں۔
خیال رہے اس بل کے تحت افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کی چھ مذہبی اقلیتی برادریوں کو انڈیا کی شہریت کی اجازت ہوگی جس میں مسلمان شامل نہیں ہیں۔
انڈیا کے کئی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ مودی کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد ان کو دوسرے درجے کا شہری باور کرایا جا رہا ہے۔

انڈیا کے شہریت بل  پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ادارے بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں (فوٹو اے ایف پی)

انڈیا کے شہریت بل پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ادارے بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انڈیا کی حکومت لاکھوں مسلمانوں کو شہریت تک مساوی رسائی کے بنیادی حق سے محروم رکھنے کے لیے قانونی گراؤنڈ بنا رہی ہے۔‘
جبکہ مذہبی آزادیوں پر امریکی وفاقی کمیشن نے شہریت بل کو ’غلط سمت میں ایک خطرناک قدم‘ قرار دے دیا ہے۔

شیئر: