مشرقِ وسطی میں ثالثی کے لیے سعودیوں کی ترجیح جاپان

جاپان جی ٹوئنٹی ممالک کی فہرست میں شامل ہے(فوٹو الشرق الاوسط)
یوگو کے ایک حالیہ سروے کے مطابق سعودی عرب میں نصف سے زیادہ افراد سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ممکنہ امن معاہدہ کرانے کے لیے جاپان سب سے زیادہ غیرجانبدار ملک ہے۔
ماضی میں امریکہ کو مشرقِ وسطٰی میں امن کا سب سے بڑا ثالث سمجھا جاتا تھا لیکن اب 20 فیصد کی فوقیت سے 51 فیصد رائے دہندگان کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطٰی میں امن کا ثالث جاپان بن سکتا ہے۔

جائزے کے لیے 3033 عربی بولنے والوں کی رائے حاصل کی گئی(فوٹو عرب نیوز)

عرب نیوز کی جانب سے کرائے جانے والے اس سروے کا مقصد جاپان کی ثقافت، معاشرت اور معیشت کے بارے میں عربوں کے تصورات سے آگاہی حاصل کرنا تھا۔
یوگو نے رائے عامہ کے اس جائزے کے لیے 3033 عربی بولنے والوں کی رائے حاصل کی جن کی عمر سولہ برس یا اس سے زیادہ تھی اور جو عرب دنیا کے مختلف ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔
اس جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ38 فیصد رائے دہندگان کا خیال ہے کہ جاپان میں شہنشاہ قانون پر دستخط کرتے ہیں جبکہ وہ رائے دینے والے جن کا خیال ہے کہ یہ اختیار جاپان میں شہنشاہ کے پاس نہیں بلکہ وزیرِ اعظم، صدر یا سپریم کورٹ کے پاس ہے ان کی تعداد بالترتیب 35، 21 اور چھ فیصد ہے۔

جاپان جی سیون گروپ کا رکن ہے(فوٹو الشرق الاوسط)

ان نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ64 فیصد سعودی رائے دہندگان نے درست بتایا کہ جاپان جی ٹوئنٹی ممالک کی فہرست میں شامل ہے جبکہ 59 فیصد نے کہا کہ جاپان جی سیون گروپ کا رکن ہے تاہم 33 فیصد نے غلط رائے دی کہ جاپان اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا رکن ہے۔
رائے دہندگان کی اکثریت خلیج تعاون کونسل اور جاپان کے درمیان سیاسی تعلق کے بارے میں مثبت رائے رکھتی تھی اور سروے میں شریک 38 فیصد سعودی شہری ایسے تعلق کے حامی تھے، 20 فیصد کوئی رائے نہیں رکھتے تھے جبکہ 40 فیصد اس تعلق کے بارے میں مثبت رائے رکھتے تھے۔ صرف ایک فیصد کی رائے منفی تھی۔
سِرل ویڈرشوون ویروسی کے ڈائریکٹر ہیں جو نیدرلینڈ کی ایک مشاورتی فرم ہے اور مشرقِ وسطٰی اور شمالی افریقہ میں سرمایہ کاری، توانائی اور تجارتی ڈھانچوں کو درپیش خطرات اور کاروباری مواقع پر پیشہ ورانہ رائے دیتی ہے۔

38 فیصد کا خیال ہے کہ جاپان میں شہنشاہ قانون پر دستخط کرتے ہیں(فوٹو ٹوئٹر)

اس مشاورتی فرم کے سربراہ نے جاپان میں اختیارات کی تقسیم کے نظام کی بنیاد پر کہا کہ "ابھی تک جاپان میں شہنشاہیت ہے لہذا سعودی عرب کے لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں بھی سیاسی نظام شاہی خاندان کی زیرِ قیادت چلتا ہے۔"
وہ کہتے ہیں "بہت سے سعویوں اور خطے میں عام عربوں کے لیے اخِتیارات کے سہ رخی نظام کو سمجھنا مشکل ہے جس میں شاہی خاندان، سیاسی جماعتوں اور عدالتوں کے اختیارات کا علیحدہ علیحدہ ہونا بہت واضح ہوتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے قانونی اور مالیاتی نظم میں اس سہ رخی نظام کے مضمرات کو سمجھنا بھی آسان نہیں ہوتا۔"
انھوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ "جس طرح کا جمہوری نظام جاپان میں ہے، واضح اور محکم نہیں ہوتا۔ ایسا نظام چند خاص انتظامات پر منحصر ہوتا ہے جنھیں کسی خاص ملک کی روایات اور قوانین کی کے تحت طے کیا جاتا ہے۔

شیئر: