Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

علاقائی فضائی حدود کی پابندیاں کم ہوتے ہی خلیجی ایئرلائنز کی احتیاط کے ساتھ پروازوں کی بحالی

ایمریٹس نے مزید کہا کہ ’ایمریٹس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
ایمریٹس اور اتحاد ایئرویز نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود کے کچھ حصے دوبارہ کھلنے کے بعد محدود پروازیں بحال کر دیں، جبکہ قطر ایئرویز نے بھی دوحہ سے آنے اور جانے والی محدود پروازیں، مخصوص پابندیوں کے تحت، دوبارہ شروع کر دی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق پروازوں کی بتدریج بحالی اس فوجی کشیدگی کے چند دن بعد سامنے آئی ہے جو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھنے کے بعد ہزاروں پروازوں کی منسوخی اور رخ موڑنے کا باعث بنی اور خطے میں وسیع پیمانے پر فضائی حدود بند کرنا پڑی، جس سے اہم عالمی فضائی راہداریوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
قطر ایئرویز نے کہا کہ اس وقت پروازیں صرف اُن مسافروں کے لیے چل رہی ہیں جن کی حتمی منزل دوحہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کے کچھ حصے کھلنے کے باوجود فضائی پابندیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔
ایمریٹس نے اپنے بیان میں کہا کہ دبئی سے گزر کر سفر کرنے والے ٹرانزٹ مسافروں کو صرف اُس صورت میں قبول کیا جائے گا جب ان کی اگلی کنیکٹنگ پرواز آپریٹ کر رہی ہو۔
ایئرلائن نے مزید کہا کہ ’ایمریٹس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنی پروازوں کے شیڈول میں اسی کے مطابق تبدیلی کرے گی۔‘
اتحاد ایئرویز نے بتایا کہ اس نے متعلقہ حکام کے ساتھ حفاظتی جائزوں کے بعد چھ مارچ سے چند منتخب مقامات کے لیے محدود تجارتی پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔
اتحاد نے کہا کہ ’یہ فیصلہ متعلقہ حکام کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد، وسیع حفاظتی اور سکیورٹی جائزوں کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔ اتحاد صورتحال کا قریب سے جائزہ لیتا رہے گا اور صرف تب ہی پروازیں چلائے گا جب تمام حفاظتی معیار پورے ہوں گے۔‘
فضائی آپریشن میں یہ خلل دبئی، ابوظبی اور دوحہ کے بڑے ہب ایئرپورٹس کو متاثر کر رہا ہے، جہاں یہ تینوں ایئرلائنز معمول کے مطابق روزانہ تقریباً 90 ہزار مسافروں کو سنبھالتی ہیں۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب امارات اور قطر کو سب سے زیادہ مالی خطرات لاحق ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

فِچ ریٹنگز کے مطابق 28 فروری سے پانچ مارچ کے درمیان سات بڑے علاقائی ایئرپورٹس پر 15 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، جس سے 15 لاکھ سے زائد مسافر متاثر ہوئے۔ کچھ پروازوں کا رخ بھی یورپی ایئرپورٹس کی طرف موڑا گیا۔
ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ وہ ایئرلائنز جن کے ہب براہِ راست متاثرہ ممالک میں ہیں، خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور قطر، اُنہیں سب سے زیادہ مالی خطرات لاحق ہیں، جبکہ دیگر ایئرلائنز معطل راستوں اور محدود فضائی حدود کی وجہ سے متاثر ہوئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اس خلل کے باعث ایئرلائنز کو زیادہ طویل راستے اختیار کرنے، اضافی تکنیکی رکاؤٹیں کرنے، عملے کے اوورٹائم کی ادائیگی، اور رہائش و گراؤنڈ ہینڈلنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے آپریٹنگ لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

شیئر: