شہریت قانون: ’انڈیا میں ہندوؤں کے لیے بھی باعثِ خوف‘

ابھیجیت بینرجی کا کہنا ہے کہ افسران کو انتا زیادہ اختیار دینا خطرناک ہے۔ فوٹو: روئٹرز
انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون سٹیزن امینڈمنٹ ایکٹ (سی اے اے)  اور اس سے جڑے نیشنل رجسٹر آف سیٹیزن (این آر سی) کے خلاف جہاں مسلمان اور دیگر اقلیتیں سراپا احتجاج ہیں، وہیں سیکولر سوچ رکھنے والے ہندو بھی پریشان نظر آتے ہیں اور وہ مسلمانوں کے ساتھ سڑکوں پر ہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ ہندوؤں کا سی اے اے یا این آر سی سے کیا لینا دینا اور وہ اس سے خوف زدہ کیوں ہیں؟
واضح رہے کہ انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ سی اے اے کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں بسنے والے غیر مسلموں کو انڈیا کی شہریت دی جائے گی، اور اگر این آر سی کا قانون آتا ہے، جیسا کہ آسام میں ہوا، تو ہندوؤں سمیت سب کو یہ ثبوت دینا ہوگا کہ وہ انڈیا کے مستقل رہائشی ہیں۔
 
این آر سی کا ڈر ہندوؤں کو اس لیے ہے کہ انہیں شہریت کا ثبوت لینے والے افسران کو ’رشوت‘ دینا پڑے گی۔
ٹائمز آف انڈیا میں اس بارے میں لکھتے ہوئے ملک کے نامور مصنف چیتن بھگت کا کہنا ہے کہ ’سرکاری بابو‘ کو یہ اضافی اختیار حاصل ہوگا کہ اگر شہری انہیں ان کی مانگی ہوئی رقم دینے سے انکار کریں گے تو  وہ جب چاہیں شہریوں کے برتھ سرٹیفکیٹ کو مسترد کر سکیں گے۔ ’جس جگہ پر معیار زیادہ سخت ہوگا، وہاں کا ریٹ زیادہ ہوگا۔‘
چیتن بھگت کا مزید کہنا ہے کہ اگر ’بابو‘ شہریوں کا برتھ سرٹیفکیٹ مسترد کرتے ہیں تو انہیں اس کی صداقت کا ثبوت دینے کے لیے ساری عمر عدالت کے چکر کاٹنے پڑیں گے۔
ان جیسے اور بھی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ انڈیا کی ہندو اکثریت کو بھی ہراسگی کا سامنا ہوگا۔
انڈیا کے نوبل انعام یافتہ ابھیجیت بینرجی کا کہنا ہے کہ افسران کو انتا زیادہ اختیار دینا خطرناک ہے۔
انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کو سوچ کر بھی ڈر لگتا ہے کہ کل کو انہیں کوئی آکر یہ کہے کہ ’میں آپ کے نام کے آگے مشکوک لکھ بھی سکتا ہوں، اور نہیں بھی۔‘
انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے والا افسر یہ مطالبہ بھی کر سکتا ہے کہ اس کے فیصلے کا انحصار ان 10 ہزار روپے پر ہو سکتا جو وہ مانگے گا۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے حکومتی افسران شہریوں کو حراساں بھی کر سکتے ہیں۔ فوٹو: روئٹرز

این ڈی ٹی وی کے مطابق این آر سی اور شہریت کے ترمیمی قانون پر نظرثانی سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ اس کے منفی اثرات کی زد میں انڈیا کا ہر شخص آسکتا ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا پیروکار ہو۔ متاثرہ افراد کو یا تو حراستی مرکز میں بھیجا جا سکتا ہے یا ان کی دستاویزات کو مسترد کرکے انہیں اپنے آپ کو انڈین ثابت کرنے عمر بھر کے لیے عدالتوں کا چکر کاٹنے کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے۔
انڈیا میں شہریت کے ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف مظاہرے کئی ہفتوں سے جاری ہیں اور اس کے نتیجے میں اب تک دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
بے جی پی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت انڈیا میں بسنے والے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہ قانون پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں بسنے والے غیر مسلموں کے لیے ہے تاکہ وہ انڈیا کی شہریت حاصل کر سکیں۔ تاہم بی جے پی کی مخالف سیاسی جماعتیں اسے سیکولر انڈین آئین پر حملہ قرار دیتی ہیں۔
 

شیئر: