گرین کیٹگری: بغیر این او سی کفالت کیسے تبدیل کرائیں؟

معاہدہ ملازمت میں کسی بھی شق کو بعد میں تبدیل کرنا درست نہیں۔ فوٹو، عاجل نیوز
وزارت عدل و انصاف نے مملکت میں مقیم غیر ملکی کارکنوں کے حقوق او ر واجبات کے حوالے سے بعض اہم نکات کو اجاگر کیا ہے تاکہ آجر و اجیر اپنے حقوق اور فرائض سے بخوبی واقف ہو سکیں۔
وزارت کی جانب سے جاری نکات میں اہم مقدمات کی نشاندہی کرتے ہوئے بعض استفسارات کے جوابات بھی دیئے ہیں ۔ وزارت عدل وانصاف کا کہنا ہے کہ 'اگر کسی کارکن کا اپنے آجر سے اختلاف ہو جائے تو وہ لیبر کورٹ کے ذیلی آفس سے رجوع کرے جہاں معاملے کو باہمی افہام تفہیم کے ذریعے سلجھانے کے لیے 21 دن کی مہلت دی جاتی ہیـ'

اختلاف کی صورت میں مقدمے سے قبل وزارت محنت کی ابتدائی صلح کمیٹی سے رجوع کیاجائے گا۔ فوٹو، الیوم 

  'مذکورہ مہلت سے قبل لیبر کورٹ میں مقدمہ درج نہیں کرایا جاسکتا ۔ 21 دن کی مہلت گزرنے کے بعد فریقین کے مابین معاملات طے نہ ہونے پر مقدمہ درج کرکے متعلقہ عدالت کو ارسال کر دیا جاتاہے'۔
وزارت عدل نے اس امر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ' باہمی افہام و تفہیم کی مقررہ مدت جو کہ 21 دن ہے کے دوران اگر آجر یا اسکا نمائندہ پیشی پر حاضر نہیں ہوتا تو کارکن کو حق ہے کہ وہ کسی دوسری جگہ کفالت تبدیل کرسکتا ہے ۔ کفالت تبدیلی کے لیے اسے اپنے سابق کفیل کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہو گی'۔
واضح رہے مملکت میں کفالت کی تبدیلی کے لیے آجر کی جانب سے این او سی کا حصول لازمی ہوتا ہے۔ 
تاہم مذکورہ بالا صورت میں جب مقدمہ لیبر کورٹ میں ہو اور آجر ابتدائی صلح کے مقدمے کی دو پیشی پر حاضر نہ ہو تو وزارت عدل وانصاف کی شق نمبر 17 کے مطابق وزارت محنت اس امر کی پابند ہوگی کہ وہ صلح کمیٹی کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق کارکن کو کفالت تبدیل کرنے کی منظوری جاری کرے۔

وزارت محنت اس امر کی پابند ہے کہ عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرائے۔ فوٹو ، سوشل میڈیا 

قانون محنت کی شق نمبر 234 کے مطابق آجر سے حقوق کے مطالبے کے لیے انتہائی مدت 12 ماہ مقر ر ہے ۔وزارت عدل کی جانب سے قانون کی مذکورہ شق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی کارکن کی نوکری یا ملازمت کا معاہدہ ختم ہوجاتا ہے اور وہ اپنے حقوق یا دیگر واجبات کے حوالے مطمئن نہیں ہے تو اسے چاہئے کہ وہ 12 ماہ کے اندر کسی بھی اختلاف پر لیبر کورٹ سے رجوع کرے ۔ مذکورہ مدت گزرنے کے بعد اسکا دعوی قبول نہیں کیاجائے گا۔
ورک ایگریمنٹ کے حوالے سے وزارت عدل کا کہنا ہے کہ ' ملازمت کا معاہدہ انتہائی لازمی دستاویز ہے۔ معاہدہ فریقین کے پاس ہونا ضروری ہے جس پر آجر اور اجیر کے دستخط ہونا چاہئیں۔ 
معاہدے میں اگر کسی بھی فریق کی جانب سے دوسرے فریق کی مرضی کے بغیر کسی بھی شق کو تبدیل کیاجائے تو وہ قابل قبول نہیں ہو گا ۔ قانون کی رو سے آجر کو یہ حق نہیں کہ وہ معاہدے کی کسی بھی شق کو اس وقت تبدیل کرے جب کارکن کی ملازمت حتم ہو گئی ہو۔ مذکورہ صورت میں آجر قانون شکنی کا مرتکب قرار پائے گا۔

شیئر: