قرآن کریم اپنے پیرو کاروںکو خوشی، غمی، تنگدستی، خوشحالی، پریشانی اور فارغ البالی ہر حال میں پرسکون رہنے کا درس دیتا ہے
ڈاکٹر محمد لئیق اللہ خان
- - - - - - - - - - - - -
امید کے دیئے روشن کرنا اور روشن رکھنا قرآن پاک کا امتیاز ی وصف ہے۔ دنیا بھر میں قرآن پاک کے سوا کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں انسانوں کو ہر حال میں امید کا دامن ہاتھ میں رکھنے اور کسی بھی شکل میں مایوس نہ ہونے کی تعلیم و ترغیب دی گئی ہو۔ قرآن کریم اپنے پیرو کاروںکو خوشی، غمی، تنگدستی، خوشحالی، پریشانی اور فارغ البالی ہر حال میں پرسکون رہنے کا درس دیتا ہے۔ قرآن پاک اپنے ماننے والوں کو انکے تمام مسائل کے حل پیش کرتا ہے۔ قرآن پاک میں سورۃ الزمر کی آیت نمبر 53ہی بطور مثال بہت کافی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں انسانوں کے سامنے رحمدلی، شادمانی اور امید کے تمام در کھول دیئے ہیں۔
ارشاد الہیٰ کا مفہوم ہے: اے نبی! کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے، وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، یقینا اللہ تعالیٰ سارے گناہ معاف کردیتا ہے، وہ بہت زیادہ مغفرت کرنے والا اور بڑا مہربان ہے۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کیلئے امید کا پیغام ہے جو خونریزی، بدکاری، چوری، رہزنی اور دیگر بڑے سخت گناہ کرنے کے باعث مایوس ہوگئے ہوں ،ان کے ذہنوں میں یہ بات جاگزیں ہوگئی ہو کہ اب انکے قصور کبھی معاف نہ ہونگے۔ اللہ تعالیٰ ان سے کہہ رہا ہے کہ تم لوگ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اگر تم یہ سب کچھ کرنے کے باوجود اپنے کئے پر نادم ہوجاؤ اور اپنے رب کے تابعدار بن جاؤ تو سارے قصور معاف ہوجائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس کی آیت نمبر58میں ا یسے لوگوں کیلئے جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ خوشی کا ایسا پیغام دیتے ہیں کہ انہیں جتنی بار بھی دہرایا جائے ان کے پڑھنے سے ایک نئی خوشی اور نئی آرزو ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مفہوم ہے: اے نبی! کہو کہ یہ اللہ کا فضل اور اسکی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی ہے اس پر تم لوگوں کو خوشی منانی چاہئے، یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں۔ قرآن پاک انسان کو ہمت، طاقت ، حوصلہ اور امید دینے والی آیتوں سے بھرا ہوا ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 139کا ترجمہ ملاحظہ ہو: دل شکستہ نہ بنو، غم نہ کرو ، تم ہی غالب رہوگے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ بہت ساری آیات میں اہل ایمان کو قیامت کے دن اللہ کے دربار میں حاضری کے وقت عظیم خوشی اور اچھے انجام کی نوید سنائی گئی ہے۔ ایسی آیتوں کی تلاوت رنج و غم کے احساسات کو مٹا دیتی ہے۔ ایسی آیتوں کی تلاوت سے مسائل ہیچ نظر آنے لگتے ہیں۔ اللہ کی رحمت شامل حال ہونے کا احساس دنیا کے سارے غموں کو بھلا دیتا ہے۔ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 156، 157میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی خصوصیت بیان کرتا ہے ترجمہ دیکھیں: ان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے، انہیں خوشخبری دیدو ان پر انکے رب کی طرف سے بڑی عنایتیں ہونگی اللہ کی رحمت ان پر سایہ کریگی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں۔
یہ آیات کریمہ اہل ایمان میں رب کی ملاقات کا عقیدہ پختہ کرتی ہیں۔ یہ آیات کریمہ مذاہب کے ان منکرین کا جواب ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن پاک رسول اکرم کی تصنیف ہے اورمحمد عربی پوری دنیا پر اپنا اقتدار قائم کرنے اور عظمت و شہرت کیلئے کوشاں تھے۔ ملحدین کو اپنے اس دعوے کا کوئی ایک ثبوت قرآن پاک میں کبھی کہیں نہیں ملا۔ قرآن میں رسول اکرم کو حکم دیا گیا ہے کہ عوام کو بتائیں کہ’’ وہ خدا نہیں انسان ہیں‘‘۔ قرآن پاک میں کہیں پیغمبر اسلام کیلئے درس ہے، کہیں عتاب اور کہیں انتباہ بھی وارد ہوا ہے۔ اگررسول اکرم ُجیسا کہ ملحدین نے شوشہ چھوڑ رکھا ہے، خدائی کے دعویدار ہوتے تووہ ایسی قرآنی آیات لوگوں کے سامنے کیوں پیش کرتے جن میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب آیا ہے۔ وہ (عبس و تولی ان جاء ہ الاعمی )کا ذکر کیوں کرکے اس آیت میں ہے کہ (محمد ()ترش رو ہوا اور اس بات پر بے رخی برتی کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا) اس میں رسول کریم کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ایک اندھے انسان کی آمد پر ترش روئی اور بے رخی ایسا کام تھا جو پیغمبر اسلام کے شایان شان نہ تھا۔ اگر رسول اکرم خدائی کے دعویدار ہوتے تو وہ خود کو شرک میں پڑنے سے خبردار نہ کرتے۔ سورۃ الزمر کی آیت نمبر 65کا ترجمہ دیکھیں: محمد() یہ بات تمہیں ان سے صاف صاف بتا دینی چاہئے کیونکہ تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام نبیوں کی طرف یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائیگا اور تم خسارے میں رہوگے۔ اگررسول اکرم خدائی کے دعویدار ہوتے تو خود کو انسان ظاہر نہ کرتے۔ سورۃ فصلت کی آیت نمبر 6 کا ترجمہ دیکھیں: اے نبی! ان سے کہو کہ میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا، مجھے تو وحی کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی ہے لہذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اسی سے معافی چاہو،تباہی ہے مشرکین کیلئے۔ یہ قرآنی آیات رسول کریم کی صداقت کا روشن ثبوت ہیں۔
یہ آیات مبارکہ قرآن پاک کے کلام اللہ ہونے کی دلیل ہیں۔ یہ آیات اس بات کی گواہ ہیں کہ رسول اکرم نے پورا قرآن کریم کسی کمی بیشی کے بغیر بنی نوع انساں تک پہنچایا۔ عصر حاضر کے علماء پر اب جاکر یہ حقیقت منکشف ہوئی ہے کہ پرامیدی امراض سے بچاتی ہے ۔ عمر کی درازی کا باعث بنتی ہے۔ ہم یہ اعتراف اس عقیدے کے ساتھ پیش کررہے ہیں کہ عمر اللہ کے قبضے میں ہے۔ امریکی اسکالرز نے اپنی نوعیت کا تازہ ترین جائزہ پیش کرکے واضح کیا ہے کہ پرامید زندگی گزارنے والے مایوسی بھری زندگی گزارنے والوں سے زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں۔ پٹسبرگ یونیورسٹی کے اسکالرز نے دیرینہ امراض میں مبتلا ایسی ایک لاکھ خواتین سے جن کی عمر 50برس اور اس سے زیادہ تھی صحتیابی سے متعلق انکے تاثرات دریافت کئے۔ ان میں سے جن خواتین نے شفایابی کے امکانات اور احساسات کا اظہار کیا ان میں اموات کی شرح 8برس کے دوران ان مریض خواتین کی بہ نسبت کم پائی گئی جو بیماری سے صحتیابی کی بابت مایوس تھیں۔ ان میں 14اور 30 فیصد کافرق ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح جو خواتین پرامید تھیں ان میں بلڈ پریشر ، ذیابیطس یا سگریٹ نوشی کارجحان کم دیکھا گیا۔
اس جائزے کے نتائج کا اعلان5مارچ 2009ء کو کیا گیا۔ پرامید رہنے کے جو فوائد مختلف جائزوں سے سامنے آئے ہیں ان میں نمایاں ترین یہ ہیں:
٭ پرامید رہنے سے امراض کو روکنے والا نظام مضبوط ہوتا ہے۔ ٭ پرامید انسان مناسب فیصلے کرتا ہے اور مشکل حالات کا مقابلہ اچھی طرح سے کرلیتا ہے۔ ٭ ایسا انسان ہر دلعزیز ہوتا ہے۔ ٭ پرامید سماجی تعلقات میں زیادہ لچکدار ہوتا ہے اور ملنے جلنے والوں کے ساتھ آسانی سے گھل مل جاتا ہے۔ ٭ پرامیدی سے خوشی ملتی ہے۔ گھر ، دفتر اور سماج وغیرہ میں ہر جگہ یہ نعمت سائے کی طرح ساتھ لگی رہتی ہے۔ ٭ پرامیدی سے دماغ کو آرام ملتا ہے۔ دسیوںگھنٹے تک مثبت سوچ سے دماغ پر بوجھ نہیں آتا جبکہ 5منٹ کی منفی سوچ دماغ کو تھکا دیتی ہے۔ ٭ پرا میدی ایمان کا اٹوٹ حصہ ہے۔مومن رب کی رحمت کی بابت سوچ کر خوش رہتا ہے۔ مایوس انسان ناقص الایمان ہوتا ہے۔ ہمہ وقت منفی سوچ کے باعث مشکل میں پڑا رہتا ہے۔ ٭ سیدنا یعقوب علیہ السلام کا واقعہ یاد کیجئے کہ وہ ایک بیٹے کو درندے کے ہاتھوں ہلاکت کی کہانی سننے اور دوسرے بیٹے پر چوری کی واردات میں قید ہوجانے کا دعویٰ سننے کے باوجود مایوس نہیں ہوئے۔ ٭ اللہ تعالیٰ نے سورۃ یوسف کی آیت نمبر 87میں سیدنا یعقوب علیہ السلام کا جو ردعمل بتایا ہے وہ روح پرور ہے۔
ترجمہ دیکھیں: میرے بچو! تم لوگ جاکر یوسف اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اللہ کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔ یہاں ایک سوال میں اسلام کے ان ناقدین سے کرنا چاہوں گا جو اسلام پر دہشتگردی کا الزام تھوپتے ہوئے ادنیٰ ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ذرا یہ توبتائیں کہ ایسا مذہب جس کی تعلیمات اس قدر پاکیزہ، اعلیٰ و ارفع ہوں وہ مذہب محبت و الفت اور امن و آشتی کا علمبردار کہلائے گا یا اس پر دہشتگردی پھیلانے کا الزام چسپاں کیا جاسکے گا؟ ٭ پیغمبر اسلام پرامید رہنا پسند کیا کرتے تھے: پیغمبر اسلام محمد مصطفی ہمیشہ پرامید رہتے تھے۔ وہ ہمیشہ نوید سنانے کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ اپنے ساتھیوں کو اگر مگر کے چکر میں پڑنے سے روکتے اور فرماتے کہ اگر مگر شیطان کے درکھولتا ہے۔ رسول کریم اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو یہ درس دیتے کہ جب تمہارے سامنے کوئی نامناسب واقعہ ہوجائے تو یہ کہا کرو: ’’نوشتہ تقدیر یہی تھا،اللہ کی مشیت یہی تھی، اس نے جو چاہا کیا‘‘۔ رسول کریم کا ’’منہاج حیات‘‘ سورہ البقرہ کی آیت نمبر 216 میں مذکور وہ قرآنی ہدایت ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اوروہی تمہارے لئے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو، اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے‘‘۔ احادیث مبارکہ میں مذکورہ واقعات میں آتا ہے کہ رسول کریم نے ایک مرتبہ اپنے ایک صحابی کو رنجیدہ اور غمزدہ دیکھا۔ ان صاحب پر قرضوں کے ڈھیر لگ گئے تھے ۔ رسول کریم نے انہیں جو درس دیا وہ معرفت کا سبق ہے جاننے سے تعلق رکھتا ہے۔
پیغمبر اسلام نے انہیں حکم دیا کہ تم یہ دعا کیاکرو: ’’اللھم انی اعوذبک من الھم والحزن ومن العجز و الکسل و من البخل والجبن ومن غلبۃ الدین، و قہر الرجال ومن فتنہ المحیا والممات ومن فتنہ المسیح الدجال‘‘ (یا اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں رنج و غم سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں عاجزی اور سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور تیری پناہ چاہتا ہوں قرض کے غلبے اورلوگوں کے دباؤ سے اور تیری پناہ چاہتاہوں زندگی اور موت کے فتنے سے اور تیری پناہ طلب کرتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے )۔ رسول کریم نے یہ بھی کہا کہ یہ دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارا دکھ درد دور کردیگا اور تمہارے قرضے ادا کرادیگا۔
حدیث شریف میں ہے کہ چند دن بھی نہ گزرے تھے کہ اس دعا کی بدولت ان صاحب کی مراد پوری ہوگئی۔ آخر میں پیغمبر برحق سیدنا یونس علیہ السلام کی وہ دعا بھی ملاحظہ ہو جو انہوں نے انتہائی مشکل گھڑی میں مانگی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول کی تھی اور انہیں غم اور ہلاکت سے نجات دی تھی۔ یہ دعا چھوٹی سی ہے اور آسان ہے۔ اسے یاد کرلیجئے بہت مؤثر اور بہت مفید ہے۔ دعا کے الفاظ یہ ہیں۔ ’’لاإلٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین‘‘ تیرے سوا کوئی خدا نہیں ،پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا۔








