Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی واپسی سے زیادہ ان کی بے دخلی کے لیے سرگرم

اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ وہ رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد سختی سے محدود رکھنا چاہتا ہے تاکہ غزہ سے باہر جانے والوں کی تعداد واپسی کرنے والوں سے زیادہ ہو۔
برطانوی خبر رساں ادرے روئٹرز کے مطابق معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرنے والے تین باخبر ذرائع نے بتایا کہ مصر کے ساتھ متصل اس اہم سرحدی راستے کو آئندہ ہفتے کھولنے کا امکان ہے مگر اسرائیلی پالیسی کے عملی نفاذ سے متعلق کئی پہلو ابھی تک غیر واضح ہیں۔
امریکی حمایت یافتہ عبوری فلسطینی انتظامی کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے اعلان کیا تھا کہ رفح کراسنگ آئندہ ہفتے دوبارہ کھول دی جائے گی۔
یہ غزہ کا واحد زمینی راستہ ہے جس کے ذریعے 20 لاکھ سے زائد آبادی رکھنے والے علاقے کے لوگ اندرونی یا بیرونی سفر کر سکتے ہیں۔ یہ سرحد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں کھلنی تھی، لیکن متعدد سیاسی و عسکری پیچیدگیوں کے باعث تاخیر کا شکار رہی۔
اس ماہ واشنگٹن نے تصدیق کی کہ امن منصوبہ اب دوسرے مرحلے میں آگیا ہے، جس کے تحت اسرائیلی فوج کو مزید انخلا کرنا ہے جبکہ حماس کو انتظامی اختیارات چھوڑنا ہوں گے۔ رفح کراسنگ کا غزہ والا حصہ 2024 سے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل نے اب تک واضح نہیں کیا کہ وہ غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں پر پابندی کس طریقے سے نافذ کرے گا یا باہر جانے اور واپس آنے والوں کے درمیان کیا تناسب رکھنا چاہتا ہے۔
ماضی میں اسرائیلی حکام فلسطینیوں کو بیرونِ ملک ہجرت کی ترغیب دینے کا ذکر کر چکے ہیں لیکن وہ زبردستی آبادی کی منتقلی کی تردید کرتے رہے ہیں۔
منصوبے کے تحت سرحدی کراسنگ پر عملہ فلسطینی اتھارٹی کے تحت کام کرے گا جبکہ یورپی یونین مبصرین کی نگرانی شامل ہو گی، جیسا کہ گزشتہ سال کی عارضی جنگ بندی کے دوران ہوا تھا۔
ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کے اندر ایک نئی فوجی چیک پوائنٹ قائم کرنا چاہتا ہے جہاں سے گزرنے والے تمام فلسطینی سخت سکیورٹی جانچ سے گزریں گے۔
اس تجویز پر امریکہ کی حمایت یا مخالفت کے بارے میں امریکی سفارت خانہ تاحال خاموش ہے۔
یہ بھی غیر واضح ہے کہ اگر کسی شخص کو اسرائیلی چیک پوائنٹ سے گزرنے کی اجازت نہ ملے تو اس کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا، خصوصاً وہ افراد جو مصر سے غزہ داخل ہو رہے ہوں۔

 

شیئر: