Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض کو ثقافتی مرکز بنانے کے لیے 800 ارب ڈالر کا منصوبہ

منصوبے میں نجی شعبے کی جانب سےتقریباً ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے سائز کو دوگنا کرنے اور اسے مشرقِ وسطیٰ کا معاشی، معاشرتی اور ثقافتی مرکز بنانے کے لیے سعودی عرب آٹھ سو ارب ڈالر کے منصوبے کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔
رائل کمیشن دا سٹی آف ریاض کے صدر فہد الرشید نے عرب نیوز کو بتایا کہ ریاض سعودی عرب کے لیے معاشی اعتبار سے پہلے ہی بہت اہم ہے اور یہ ایک کامیاب شہر ہے، تاہم سعودی عرب کے وژن 2030  کے تحت اس شہر کو ایک کروڑ 50 لاکھ تک بڑھانا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 'ہم نے پہلے سے ہی نوکریاں پیدا کرنے اور معیشت کو فروغ دینے کے لیے شہر میں 18 میگا پراجیکٹس کا آغاز کر دیا ہے جن کی لاگت ڈھائی سو ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ ایک اہم منصوبہ ہے اور پورا شہر اس کوشش میں ہے کہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔'
اس منصوبے میں نجی شعبے کی جانب سے تقریباً ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے اور یہ رقم بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں اور سیاحت سے کمائی جائے گی۔
فہد الرشید نے مزید بتایا کہ 'آپ اگلے کچھ سالوں میں ریاض میں 70 لاکھ درخت دیکھیں گے اور کنگ سلمان پارک لندن کے ہائیڈ پارک سے بڑا ہوگا۔'
 

شیئر: