’خواب کی تعبیر‘: عازمین حج کی خدمت میں مصروف سعودی جڑواں بہنیں
سعودی ہلال الاحمر کی رضاکار ٹیم میں عازمینِ حج کی خدمت کرنے والی جڑواں سعودی بہنیں ’امجاد اور امواج العمری‘ نہ صرف شکل و صورت بلکہ خیالات میں بھی ایک دوسرے سے بہت ملتی ہیں۔
انسانی خدمت کا جذبہ انہیں ہلال الاحمر میں لے آیا اور آج وہ اس میدان میں لوگوں کی دعائیں سمیٹ رہی ہیں۔
اخبار 24 سے گفتگو کرتے ہوئے امواج العمری کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچپن سے ہی انسانی ہمدردی کے کاموں میں قلبی سکون محسوس کیا، یہی سوچ وولینٹیئرز گروپ میں لے آئی۔
’تین برس قبل ہلال الاحمر کے وولینٹیئرز ٹیم میں شامل ہوئی اور تربیت کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے آج فیلڈ میں دوسری لڑکیوں کو تربیت دے رہی ہوں۔‘
امواج العمری نے فرسٹ ایڈ کے شعبے میں شمولیت کے حوالے سے بتایا کہ ’ابتدا سے ہم بہنوں کو انسانیت کی خدمت کرنے کا شوق تھا۔ راستے میں اگر کوئی حادثہ دیکھتے تو دل بہت دکھتا تھا۔ یہ کوشش ہوتی تھی کہ کس طرح متاثرین کی مدد کریں مگر عملی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں کرسکتے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اسی سوچ نے ہلال الاحمر میں رضاکارانہ خدمت کرنے کی راہ دکھائی اور یہاں سے ہمارے خواب ’رضاکارانہ خدمت‘ کی تعبیر ملنا شروع ہوئی۔‘
امواج العمری نے اپنی بہن امجاد سے اپنے گہرے تعلق کے بارے میں بتایا کہ ’ہم بچپن سے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔‘
عازمین حج کی خدمت کے بارے میں کہنا تھا کہ ’یہ لمحات بہت فرحت انگیز ہوتے ہیں جب عازمین کی آنکھوں میں مملکت آمد کی خوشی دیکھتے ہیں، خاص کر معمرعازمین کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو دیکھتے ہیں، اس وقت ہماری تھکن ختم ہو جاتی ہے۔‘

انہوں نے رضاکارانہ کام کے بارے میں مزید بتایا کہ وہ عازمین حج کی جسمانی صحت کا چارٹ مرتب کرتی ہیں جس میں ان کا بلڈ بریشر، شوگر لیول، جسمانی درجہ حرارت اور خون میں آکسیجن کا تناسب وغیرہ شامل ہے۔ ہنگامی حالت میں ابتدائی طبی امداد بھی فراہم کرتی ہیں۔
امجاد العمری نے بتایا کہ انہیں آرٹ سے لگاؤ تھا مگر امواج کی باتیں سن کر مجھے بھی اس کام میں دلچسپی پیدا ہونے لگی اور انسانی خدمت کے شعبے سے منسلک ہو گئی۔
’آج میں سعودی ہلال الاحمر میں ٹرینر کے طور پر خدمت انجام دے رہی ہوں۔ اگرچہ میری بہن مجھ سے محض تین منٹ ہی بڑی ہے مگر میرے لیے دوسری ماں اور رول ماڈل ہے۔‘
