دمام میں محفل قوالی،نوشاد صابری نے کلام پیش کیا

 
محفل قوالی میں ہند سے آئے ہوئے قوالوں نے سماں باندھ دیا،سامعین جھوم اٹھے، منطقہ شرقیہ کے لوگوں کا خاص خیال رکھا جائیگا، سفیر ہند
 
انٹرنیشنل انڈین اسکول دمام کے آڈیٹوریم میں نوشاد صابری اور انکے ہمنوا وں نے اپنا کلام پیش کیا۔ آڈیٹوریم سامعین سے کھچا کھچ بھرا ہواتھا۔ نوشاد صابری کو یوم جمہوریہ کی تقریب کے لئے سہارنپور (یو پی ، ہند)سے بلایا گیا تھا۔ اس سے پہلے نوشاد صابری اور ان کے ہمنواوں نے ایک ایسا ہی پروگرام انڈین قونصلیٹ جدہ میںپیش کرکے اپنے فن کا جادو جگایا تھا۔ 
یہ محفل قوالی انڈین ایمبیسی اور انڈین کونسل فار کلچرل رِلیشن اور انٹرنیشنل انڈین اسکول دمام کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ اس یادگار شام کے انعقاد کا سہرا ہندوستانی سفیر برائے سعودی عرب احمد جاوید کے سرجاتا ہے جنھوںنے منطقہ شرقیہ کےلئے خاص دلچسپی لیکر اس پروگرام کوممکن بنایا۔ 
اس قسم کے پروگرام عام طور پر جدہ میں انڈین قونصلیٹ جدہ کے بینر تلے یا ریاض میں انڈین ایمبیسی کی سرپرستی میں ہوا کرتے تھے۔ منطقہ شرقیہ کلچرل پروگرامز کےلئے بالکل نظرانداز کردیا گیا تھا۔ محفل قوالی کے ذریعہ اس علاقہ میں نئے دور کا آغاز ہوگیا ۔ امید کی جاتی ہے ایسے بہت سے پروگرام اس علاقہ میں بھی پیش کئے جائیں گے۔ پروگرام کے کامیاب بنانے میں چیئرمین منیجنگ کمیٹی انڈین اسکول دمام محمد عبدالوارث اور پرنسپل ڈاکٹر ای کے محمد شافی کابہت بڑا حصہ ہے جنھوں نے مختصر وقت میں بہترین انتظام کیاتاکہ زیاہ سے زیاہ لوگ اس میں شریک ہوسکیں۔ 
قوال نوشاد صابری کے سامعین سے بہترین تال میل سے یہ شام اور مزید یادگار بن گئی۔ قوال نے غزل کے کچھ اشعار ہندوستانی سفیر احمد جاوید کے نام کیں اور اس حقیقت کو لوگوں پر آشکارا کیا کہ احمد جاویدہند میں اپنی ملازمت کے دوران علامتی طور پر تنخواہ صرف ایک روپیہ لیتے تھے۔ 
قوالوں نے اس دوران آلاتِ موسیقی پر اپنے فن کا ایسا شاندار مظاہرہ کیا کہ سامعین کے دلوں پر چھاگئے۔ ساز اور آواز کا اتار چڑھاو، آواز اور تھاپ کی ایسی سنگت کہ لوگوں پرخاص کیفیت طاری ہوگئی۔ 
امیر خسرو کی غزل پر تقریب اور بھی پرجوش ہوگئی ۔ امیر خسرو جو 14ویں صدی عیسوی کے مشہور ہندی زبان کے شاعر ہیں اور کہا جاتا ہے کہ قوالی ان کی ایجاد ہے۔ 
احمد جاوید نے اپنی مختصر سی تقریر میں منطقہ شرقیہ کے لوگوں کو یقین دہانی کرائی کہ ہر اعتبار اس علاقہ کے لوگوں کا خاص خیال رکھا جائیگا ۔ انھوں نے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔
اس سے قبل حفظ الرحمن نے سفیر ہند کی خدمات کو سراہا جو انھوں نے ہندوستانی ثقافت اور موسیقی کی چند جھلکیاں دیکھنے اور سننے کا انتظام کیا۔ انھوں نے منیجنگ کمیٹی انڈین اسکول دمام اور پرنسپل اور اسٹاف کا حسنِ انتظام پر شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر عرفان وحید ہیڈ ماسٹر (بی ایس ایس ایس ) نے پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دیئے۔
٭٭٭٭٭٭ 

شیئر: