Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بینائی متاثر ہونے پرخاتون نے ’بقالہ‘ کھول لیا

چاروں بیٹیاں اعلی تعلیم یافتہ ہیں جو والدہ کے ساتھ اسٹور میں کام کرتی ہیں
کسب معاش کےلیے آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہونے کے بعد ہنر مند سعودی خاتون نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ مل کر ’بقالہ ‘کھول لیا۔
خمیس مشیط کے شہر میں رہنے والی باہمت  خاتون ’ام فیصل ‘نے ایم بی سی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا وہ سلائی کڑھائی میں ماہر تھیں کافی عرصے تک اپنے ہنر کے ذریعے گھرکے تمام اخراجات بخوبی پورے کرتی رہی۔
ام فیصل نے مزید کہا ’ کڑھائی کے ہنر سے اپنی چاروں بیٹیوں کو پڑھایا اور انہیں حلال روزی کما کر پروان چرھایا مگر کچھ عرصہ قبل نظر کی کمزوری اور آنکھوں کے عارضے کی وجہ سے مجھے کڑھائی کا کام چھوڑنا پڑا کیونکہ بینائی ساتھ نہیں دے رہی تھی۔

 بینائی متاثر ہونے کے بعد کڑھائی کا کام کرنا ناممکن ہو گیا تھا(فوٹو،ایم بی سی )

’سلائی کڑھائی ہی ہمارے گھرانے کے لیے واحد ذریعہ آمدنی تھی اس کے بند ہوجانے سے یہ فکر لاحق ہوئی کہ اب کیا کیاجائے؟ کیونکہ بینائی اس قدر کمزور ہو چکی تھی کہ کڑھائی کا کام نہیں کرسکتی تھی‘۔
باہمت خاتون نے مزید کہا ’کافی سوچ بچار کے بعد بالاخر میں نے اپنی چاروں بیٹیوں سے مشورہ کیا کہ کیا کام یا جائے‘۔
’ ہم نے متفقہ طور پر علاقے میں ہی کریانہ اسٹور کھولنے کا منصوبہ بنایا اورباخر جمع پونچی اس اسٹور پر لگا دی‘۔
ایک سوال پر ام فیصل نے کہا ’ میری بھی یہ خواہش ہے کہ آرام سے گھر پررہوں مگر کیا کروں کہ معاشی مجبوریاں ایسی ہیں کہ اپنی خواہش پر عمل نہیں کرسکتی اسی لیے اپنی بیٹیوں کے ساتھ اس دکان کے ذریعے ہلال روزی کمانے کےلیے محنت کرتی ہوں‘۔

متفقہ طور پراسٹور کھولنے کا فیصلہ کیا اور جمع پونچی لگا دی(فوٹو، ایم بی سی)

ام فیصل کی بڑی بیٹی ’لولو القحطانی ‘ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوکہا ’ ہم چار بہنیں ہیں ، تین نے یونیورسٹی ڈگری حاصل کرلی جبکہ چوتھی بہن ابھی آخری سال میں ہے ، جب والدہ نے اسٹور کھولنے کا فیصلہ کیا تو ہم بہنوں نے یہ سوچا کہ گھر میں فارغ بیٹھنے سے اچھا ہے کہ والدہ کا ہاتھ بٹایاجائے اس سے نہ صرف ہمارے معاشی مسائل حل ہونگے بلکہ ہمیں تجربہ بھی حاصل ہوگا‘۔

شیئر: