Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جزیرہ فرسان، جہاں موسم سرما کو شکست دی جا سکتی ہے

جزائر کا شفاف فیروزی پانی ڈالفنز کا گھر بھی ہے( فوٹو عرب نیوز)
سعودی عرب کے بیشتر باشندے سردی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ مملکت کے جنوب مغربی جزیروں میں سورج کی تپش موجود ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ وہاں کا رخ کر رہے ہیں۔
یہ چھوٹا جزیرہ نما جو 84 مونگوں کے جزیروں پر مشتمل ہے بحیرہ احمر میں جازان کے ساحل سے تقربیاً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اسے مملکت کے سب سے فطری علاقوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
اسے سعودی سیاحت اتھارٹی (ایس ٹی اے) کی جانب سے ونٹر سیزن کے سترہ مقامات میں سے ایک کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔
مینگرووز سے لے کر چمکیلی سفید ریت کے ساحلوں تک یہ جزیرے پرندوں کو دیکھنے والوں کے لیے ایک بہترین مقام  ہیں جہاں نقل مکانی کرکے آنے والے 165 سے زیادہ پرندوں کو دیکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔
غوطہ خور رنگ برنگے مونگوں کے آس پاس اپنا راستہ بناتے ہیں اور وہاں آنے والے لوگ ماضی کی جھلک دیکھتے ہیں جو کہ گاؤں کی پرانی پتھروں سے بنی عمارتوں میں موجود ہیں اس میں ایک قدیم عثمانی محل کے آثار بھی شامل ہیں جہاں ساحل دیکھا جا سکتا ہے۔
شفاف فیروزی پانی ڈالفنز کا گھر بھی ہے، 200 سے زیادہ اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں اور اگر وزیٹرز خوش قسمت ہوئے تو وہ ’ڈوکونگ ’کی ایک جھلک دیکھ سکتے ہیں جو اس کا آبائی علاقہ ہے۔
سرما کے مہینوں میں موسم اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ بارش کا امکان کم ہوتا ہے اور دھوپ کی کثرت کے ساتھ ہفتے کے آخر میں درجۂ حرارت شارٹ ٹرپ کے لیے موزوں ہے۔
سعودی سیاحت اتھارٹی (ایس ٹی اے) نے موسمِ سرما کے سیزن میں شہریوں، رہائشیوں اور جی سی سی ممالک کے وزیٹرز کے لیے مختلف قسم کی سیاحتی سرگرمیاں خاص طور پر کورونا وائرس کی لہر کے دوران مہیا کی ہیں تاکہ لوگ زندگی بھر نہ بھولنے والی یادوں اور فیملی تجربات سے محظوظ ہوں۔

نقل مکانی کرکے آنے والے 165 سے زیادہ پرندوں کو دیکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔(فوٹو عرب نیوز)

 مقامی سیاحت کو فروغ دینے کی اپنی کوششوں میں سعودی سیزن جو مارچ کے آخر تک جاری رہے گا وزٹرز کو 300 سے زیادہ ٹور آپریٹرز اور سیاحتی کمپنیوں کے ذریعے 200 سے زائد تجربات اور پیکجز مہیا کرتی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے سیاحتی حیثیت سے اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی سیاحت اتھارٹی کا آغاز کیا اور 49 ارب ڈالر مالیت کا نیا سیاحتی ترقیاتی فنڈ جاری کیا جس میں ابتدائی سرمایہ 4 ارب ڈالر اور نجی بینکوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کے لیے 45 ارب ڈالر مختص کیے ہیں۔
سعودی حکومت کا ہدف ہے کہ وہ 2030 تک سالانہ 100 ملین بین الاقوامی اور ملکی سیاحوں کی میزبانی کرکے اس شعبے کی جی ڈی پی میں شراکت میں 10 فیصد اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ 10 لاکھ روزگار کے مواقع فراہم کرے یوں سیاحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کی مجموعی تعداد 16 لاکھ تک ہوجائے گی اور سعودی عرب دنیا بھر میں پانچواں بہترین سیاحتی ملک بن جائے گا۔
سیاحت کے شعبے کو ترقی دینے کے اپنے عزم  میں سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ یہ اقوام متحدہ کے عالمی سیاحت کی تنظیم (یو این ڈبلیو ٹی او) کا پہلا علاقائی دفتر اور شماریات کے لیے ایک مرکز ہو گا اور یہ دفتر مشرقِ وسطیٰ کے 13 ممالک میں عالمی سیاحت تنظیم کے مرکز کے طور پر کام کرے گا۔
اس کا مقصد خطے میں سیاحت کے اعداد و شمار میں ایک اہم اتھارٹی بننا ہے۔

شیئر: