Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ اور مدینہ  میں غیرملکی زمین کے مالک بن سکتے ہیں؟

غیرملکی سعودی عرب میں کسی بھی مقام پر جائیدادوں کے مالک بن سکتے ہیں- (فوڈو سبق)
قانونی مشیر جعفر جمل اللیل نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی غیرملکی کسی بھی سعودی کے نام سے مکہ  اور مدینہ منورہ میں غیر منقولہ جائدادوں کا مالک نہیں بن سکتا- تجارتی پردہ پوشی کے ذریعے مالک بننے کی کوشش کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا- اس قسم کی جائداد نیلام کی جاسکتی ہے-
سبق ویب سائٹ کے مطابق قانونی مشیر نے بتایا کہ  غیرملکی مکہ اور مدینہ منورہ کے مقدس علاقوں میں زمینوں کے مالک صرف ورثے کی صورت میں بن سکتے ہیں۔ جائیدادوں سے استفادے کا حق بھی صرف وراثتی طور پر ہی ممکن ہوگا-
قانونی مشیر سے دریافت کیا گیا کہ ’کیا غیرملکی سعودی عرب میں جائیدادیں خرید سکتے ہیں‘؟ تو انہوں نے بتایا کہ ’مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس علاقوں کے علاوہ غیرملکی سعودی عرب میں کسی بھی مقام پر جائیدادوں کے مالک بن سکتے ہیں- اس کے لیے انہیں وزارت داخلہ سے منظوری لینا ہوتی ہے- غیرملکی رہائشی مکان خرید سکتے ہیں تاہم ایک سے زیادہ مکان خریدنے کے مجاز نہیں- غیرملکیوں کے لیے مقرر قانون ملکیت کی دفعہ  2 میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے‘-
 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے اردو نیوز گروپ جوائن کریں
 

شیئر: