لینہ کے تاریخی گاؤں میں شاہ عبدالعزیز کے محل کے اندر نمائش پر رکھی گئی اشیا، انسانی تاریخ کے زرخیز اور جزیرہ نمائے عرب میں ماحولیاتی تبدیلی کے اہم پہلو کو اجاگر کرتی ہیں۔
دربِ زبیدہ ’ونٹر سیزن‘ میں یہ نمائش، امام ترکی بن عبدالعزیز رائل نیچر ریزرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے محلات کی سیریز کے بارے میں منعقد کیے جانے والے ایونٹس کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں
نمائش میں رکھے گئے تاریخی نوادرات میں سے اکثر نایاب اشیا میں شمار کیے جا سکتے ہیں کیونکہ ان کی ثقافتی اور سائنسی اہمیت ہے جو صدیوں سے اس ریجن میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں اور بدلتے ہوئے لائف سٹائل کی دستاویزی صورت اختیار کر چکی ہے۔
نوادارت میں شاید سب سے زیادہ خاص چیز وہ راویتی رائفل ہے جسے قدرتی لکڑی سے بنایا گیا تھا اور جس پر ہاتھ سے بنی ہوئی چمڑے کی پٹی نصب کی گئی تھی۔ یہ رائفل تاریخی طور پر شکار اور تحفظ کا کام دیتی تھی۔
رائفل کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے ہنرمند کتنی باریک بینی سے کام کیا کرتے تھے اور تفصیلات پر ان کی نظر کتنی گہری تھی۔

اس رائفل کے ساتھ ایک سماجی علامت بھی جڑئی ہوئی ہے جس کا تعلق اسے استعمال کرنے والے کی قوتِ بازو اور گھڑ سواری کے فنی محاسن سے ہے۔
امام ترکی بن عبدالعزیز رائل نیچر ریزرو ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ’محل کو دیکھنے کے لیے آنے والوں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ یہ نمائش مزید دو ہفتے یعنی 15 فروری تک جاری رہے گی۔ نمائش میں شرکت کی ٹائمنگ سہ تین سے رات 10 بجے تک ہیں۔













