جزیرہ نُعمان: جہاں فطرت، سمندر اور تاریخ ایک ساتھ سانس لیتے ہیں
اس کے چاروں طرف فیروزی رنگ کے پانیوں کی چمک دمک ہے(فوٹو: ایس پی اے)
ضبا کے ساحل سے تقریباً 10 کلو میٹر کے فاصلے پر، سات اعشاریہ پانچ سکوائر کلو میٹر پر محیط، جزیرہ نعمان، بحیرۂ احمر کی ایک اعلٰی درجے کی سیاحتی منزل بن کر ابھر رہا ہے۔
اس جزیرے کا اونچا نیچا جغرافیائی نقشہ، بحیرۂ احمر کے متحرک اور زندگی سے بھرپور آبی ماحولیاتی نظام کے ساتھ بہت اچھی طرح یکجان ہو چکا ہے۔
اس جزیرے کے عظیم الشان پہاڑ اور دیکھنے کے قابل بناوٹیں ہوں یا پھر کم اونچی پہاڑیاں، دونوں ہی سے مملکت کے مغربی ساحلی علاقے کے دور تک پھیلے ہوئے مناظر کا سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔
اس کے چاروں طرف فیروزی رنگ کے پانیوں کی چمک دمک ہے جس کی شہرت بلوریں، صاف شفاف اور آلائشوں سے پاک ہونے کی وجہ سے ایک کنارے سے دوسرے تک پھیلی ہوئی ہے۔
اس جزیرے کی قدرتی دلکشی اپنی جگہ لیکن یہاں پانی کی نیچے ایک نایاب قسم کا میوزیم بھی ہے جہاں نینٹس نامی بحری جہاز 1969 میں کناروں سے ٹکرا کر پھنس گیا تھا۔

اس واقعے کو دہائیاں گزر چکی ہیں اور یہاں کی آبی حیات نے جہاز کی باقیات کو ایک مصنوعی لیکن ایسی چٹان نما شکل میں بدل دیا ہے جہاں سمندری حیات خوب پنپ رہی ہے۔ یہ دنیا بھر کے غوطہ خوروں کی بھی من پسند جگہ بن چکی ہے جو یہاں کھنچے چلے آتے ہیں اور تاریخ اور فطرت کی ہم آغوشی کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔
اس جزیرے میں آبی حیات اور نباتات کا ایک مقام ہر یکجا ہو کر متوازن ماحول کو جنم دینا بھی کم اہم نہیں۔

یہ بحیرہ نایاب قسم کے ’احمری حشرات‘ کی جائے پناہ بھی ہے اور نقل مکانی کے لیے پرواز کرنے والے پرندوں کا عارضی قیام بھی یہاں ہوتا ہے۔
اس جزیرے کے نزاکت سے لبریز ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے ’ریڈ سِی اتھارٹی‘ ایک سٹریٹیجک ضابطہ کار کے طور پر کام کرتی ہے۔

اتھارٹی نے ایسے فریم ورک قائم کیے ہیں جو حوصلے سے بھرپور سیاحتی سرمایہ کاری اور ماحولیاتی تحفظ میں توازن قائم رکھتے ہیں۔
ان اقدامات کا مقصد یہ بات یقینی بنانا ہے کہ یہ خوبصورت مقام نہ صرف آنے والی نسلوں کے لیے بے عیب اور صاف ستھرا مسکن بن کے قائم رہے بلکہ یہاں آنے والے ساحلی سیاحت کے ایک ایسے تجربے سے لطف اندوز بھی ہو جو ان کے لیے دیر تک یادگار رہے۔
