Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کورونا وائرس کی نئی قسم ’مو‘ کو مانیٹر کر رہے ہیں، ڈبلیو ایچ او

مو ویریئنٹ کے کیسز سب سے پہلے کولمبیا میں سامنے آئے تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی ایک نئی قسم کو مانیٹر کیا جا رہا ہے جس کی سب سے پہلے شناخت جنوری میں لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا میں ہوئی تھی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ’مو‘ نامی نئے کورونا ویریئنٹ کا سائنسی نام ’بی.1.621‘ ہے جس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عالمی اداراہ صحت کے مطابق مو ویریئنٹ میں ہونے والی جنیاتی تبدیلیوں کے خلاف ویکسین کے مؤثر نہ ہونے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت نے زور دیا ہے کہ وائرس کی اس نئی قسم کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ مو وائرس میں اس قسم کی تغیراتی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جن میں مدافعاتی عمل کو نظر انداز کرنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
کورونا وائرس کی نئی اقسام بالخصوص ڈیلٹا ویریئنٹ کے حوالے سے دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے جس کے باعث متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ ڈیلٹا ویریئنٹ نے ان افراد کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی ہوئی تھی یا جن علاقوں میں وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل نہیں کیا جا رہا تھا۔
کووڈ 19 کی وجہ بننے والے ’سارس کوو ٹو‘ سمیت ہر قسم کے وائرس میں وقتاً فوقتاً تغیراتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، اکثر تبدیلیوں کا وائرس کی خصوصیات پر خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا۔
تاہم چند تبدیلیاں وائرس کی خصوصیات پر اثر انداز ہوتی ہیں جو اس کے پھیلاؤ میں تیزی کا بھی باعث بنتی ہیں، بیماری میں شدت پیدا کرتی ہیں، جبکہ ویکیسن یا دیگر ادویات ان کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔
عالمی ادارہ صحت کووڈ 19 کی چار اقسام کی شناخت کر چکا ہے جن میں سے ایلفا 193 ممالک میں جبکہ ڈیلٹا وائرس 17o ممالک میں موجود ہے۔ جبکہ مو سمیت دیگر پانچ اقسام کو فی الحال مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے۔
مو وائرس کی کولمبیا میں شناخت کے بعد یورپ اور دیگر جنوبی امریکی ممالک میں بھی اس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق مو وائرس کی عالمی سطح پر موجودگی کی شرح 0.1 فیصد سے کم ہے، جبکہ کولمبیا میں 39 فیصد ہے۔

شیئر: