Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغانستان: پاکستان اور امریکہ میں بداعتمادی لیکن دونوں ایک دوسرے کی ضرورت

افغانستان کے مسئلے میں الجھے برائے نام اتحادیوں امریکہ اور پاکستان کے درمیان طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد باہمی اعتماد میں مزید کمی آئی ہے، مگر پھر بھی دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان کے طالبان قیادت کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
تاہم جو بائیڈن انتظامیہ افغانستان سے امریکی سکیورٹی کو درپیش خطرے کی روک تھام کے راستے ڈھونڈ رہی ہے اور غالباً اسے دوبارہ پاکستان کی ضرورت پڑے گی۔
افغانستان میں جاری رہنے والی دو دہائیوں پر محیط جنگ کے دوران امریکی حکام الزام لگاتے رہے کہ پاکستان ’ڈبل گیم‘ کر رہا ہے۔ وہ ایک طرف دہشت گردی کے خلاف لڑنے اور واشنگٹن کے ساتھ تعاون کا وعدہ کرتا ہے اور دوسری طالبان اور اس طرح کے گروہوں کی پرورش کرتا ہے جو افغانستان میں امریکی فوج پر حملے کرتے ہیں۔
اسلام آباد 2001 میں امریکہ اور اتحادیوں کی جانب سے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد کابل میں پاکستان دوست حکومت کے قیام کے حوالے سے وعدوں کے پورا نہ ہونے کا حوالہ دیتا ہے جب پاکستان کے خلاف برسرپیکار دہشت گرد گروپوں نے مشرقی افغانستان میں پناہ لی اور پورے پاکستان میں حملے کرنے لگے۔
لیکن امریکہ کو انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کے تعاون کی ضرورت ہے اور ہو سکتا ہے کہ اسے افغانستان کے لیے پاکستان کی فضائی حدود سے خفیہ پروازیں چلانے کی ضرورت پڑے یا اور طرح کا انٹیلیجنس پر مبنی تعاون درکار ہو۔
بدلے میں پاکستان کو امریکی فوجی اور سویلین امداد اور واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات چاہیں۔
امریکی ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی کے ممبر راجہ کرشنا مورتی کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ 20 برسوں میں پاکستان سامان کی ترسیل کے لیے امریکی فوج کے لیے اہم رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بداعتمادی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ماضی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھ سکتے ہیں؟‘
 جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کا اتحادی رہنے کے باوجود ’حوصلہ افزائی کے چند بول‘ کے بجائے پاکستان پر الزام لگائے گئے۔
پاکستان اور امریکہ کے سابق سفارتکاروں اور انٹیلیجنس آ فیسرز کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں جو کچھ ہوا اسے دیکھتے ہوئے اور پاکستان کے انڈیا کے ساتھ مسلسل مقابلے کو دیکھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون مشکل ہے۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کا اتحادی رہنے کے باوجود پاکستان پر الزام لگائے گئے (فوٹو اے پی)

انڈیا کی پشت پناہی میں کام کرنے والی سابق افغان حکومت نے مسلسل پاکستان پر طالبان کی حمایت کا الزام لگایا۔ امریکن حکام کا دعویٰ ہے کہ طالبان حکومت میں ایسے عہدیدار ہیں جن کے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ روابط ہیں۔
پاکستان کے سابق سفارتکار حسین حقانی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان گذشتہ 20 برسوں سے اس موقعے کا انتظار کر رہا تھا۔ اب وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس ایک سٹیلائٹ سٹیٹ ہے۔‘
امریکی حکام تیزی سے دہشت گردی کے خطرے کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ کسی پارٹنر ملک کے بغیر امریکہ کو خفیہ ڈرونز کو بہت دور سے اڑانا پڑے گا جس کی وجہ سے ان کی ٹارگٹ تک بروقت رسائی متاثر ہوگی۔
امریکہ نے انخلا کے ساتھ ہی افغانستان میں انٹیلیجنس نیٹ ورک بھی کھو دیا ہے اور اب اسے دیگر ممالک کی مدد لینا پڑے گی جن کے وہاں زیادہ وسائل ہیں۔
خلیج فارس سے امریکی خفیہ طیاروں کے لیے پاکستان سے پرواز کی اجازت لینے یا انسداد دہشت گردی کے لیے افغان بارڈر کے ساتھ ٹیمز کو تعینات کرنے کے لیے پاکستان امریکہ کا مددگار ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔
پاکستانی حکومت کی طرف سے جاری بیان کے مطابق رواں ماہ امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے اسلام آباد میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ ملاقات کی۔
فیض حمید اور ولیم برنز نے طالبان قیادت کے ساتھ ملاقات کے لیے علیحدہ علیحدہ کابل کے دورے کیے۔ سی آئی اے نے ان دوروں پر بات کرنے سے انکار کیا۔

نائن الیون کے بعد امریکہ کو القاعدہ کے خلاف آپریشن کے لیے پاکستان کے تعاون کی ضرورت پڑی (فوٹو اے ایف پی)

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ طالبان کے افغانستان پر کنٹرول سے پہلے اسلام آباد نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے سہولت کاری کی تھی اور جنگ کے دوران امریکی فوج کی درخواستوں پر اتفاق کیا۔
’ہم پر اکثر کچھ زیادہ نہ کرنے پر تنقید کی جاتی ہے، لیکن ہم نے جو کچھ کیا اس کے لیے ہماری تعریف نہیں کی جاتی۔‘
  شاہ محمود قریشی نے ڈرون کی پروازوں اور دیگر خفیہ سامان رکھنے کا اے پی کو براہ راست جواب نہیں دیا، لیکن کہا کہ ’انٹیلیجنس شیئرنگ کے لیے وہاں موجود رہنے کی ضرورت نہیں اسے کرنے کے اور بھی سمارٹ طریقے ہیں۔‘
آئی ایس آئی اور سی آئی اے لمبے عرصے تک افغانستان میں رہے جہاں انہوں نے سابق سویت یونین کے خلاف ’مجاہدین‘ تیار کیے۔ سی آئی اے نے پاکستان کے راستے افغانستان میں اسلحہ اور پیسہ بھیجا۔
ان جنگوؤں میں اسامہ بن لادن بھی شامل تھے۔ ان میں سے کچھ طالبان کے لیڈر بن گئے اور 1996 میں افغانستان میں حکومت قائم کی۔ طالبان نے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی دیگر قیادت کو پناہ دی جس نے بیرون ملک امریکی فوج پر حملے کیے اور پھر نائن الیون کے حملے کیے۔
نائن الیون کے بعد امریکہ کو القاعدہ کے خلاف آپریشن کے لیے پاکستان کے تعاون کی ضرورت پڑی۔ سی آئی اے نے پاکستان سے القاعدہ پر سینکڑوں ڈرون حملے کیے جن میں سینکڑوں عام شہری مارے گئے اور بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔
آنے والی کتاب ’دی ریکروٹر‘ کے مصنف ڈگلس لندن کا کہنا ہے کہ ’امریکی انٹیلیجنس کو القاعدہ اور داعش خراسان جیسے مشترکہ دشمن کے خلاف پاکستان کی محدود شراکت داری چاہیے ہوگی۔‘

شیئر: