مکی آرتھر فٹنس کلچر متعارف کرنے کے خواہاں !

سیّد جمیل سراج ہاشمی۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی

قومی ہیڈ کوچ مکی آرتھر پاکستان ٹیم کے فٹنس کے معیارسے قطعی مطمئن نہیں وہ قومی ٹیسٹ کی نمبر ون پوزیشن پر قابض ہونے کے باجود مختصر طرز کی کرکٹ میں ابتری کی وجہ اسی خامی کو قرار دیتے ہیں، مکی آرتھر پاکستان کرکٹ میں فٹنس کلچر کی روائت متعارف کرنے کے خواہاںہیںاس سلسلے میں انہوں نے موجودہ پاکستان ٹیم میں عملی اقدامات بھی شروع کردئے جس کے تحت سب سے پہلے زخمی کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ٹیسٹ آل راؤنڈر محمد حفیظ کو دورہ انگلینڈ کے دوران ہی وطن واپس بھیج دیا گیا جبکہ ٹور سلیکشن کمیٹی کی جانب سے دراز قد فاسٹ بولر محمد عرفان کو پاکستان سے خصوصی طور پر برطانیہ طلب کئے جانے کے بعد ایک روزہ سیریز کے دوران انہیں سائڈ لائن ہونا پڑا جس پر تیز بولر اپنے کوچ سے ناراض بھی رہے تاہم دیگر قومی کھلاڑیوں کیلئے یہ سب شائد ایسا پہلی بار ہو ا تھا ، ہیڈ کوچ کے ان سخت رویوں کا قومی کرکٹرز کو توقع تھی نہ ہی ٹیم انتظامیہ کو یہی وجہ ہے کہ مکی آرتھر کی جانب سے اہم بیان کہ’’فٹنس پر ہرگز سمجھوتا نہیں ہوگا‘‘کے بعد کئی قومی کرکٹرز میں پریشانی کے آثار پائے جا رہے ہیں، دوسری جانب مکی آرتھر نے پاکستان کرکٹ بورڈسے ٹیم کے فٹنس کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کیلئے وقت مانگ لیا ، ان تمام معاملات پر کرکٹ ماہرین اور کرکٹ پنڈتوں سے ان کی آراء معلوم کی گئیں جو قائرین کی نذر ہیں ، سابق چیئرمین پی سی بی خالد محموداور ڈاکٹر نسیم اشرف کے علاوہ سابق ٹیسٹ کرکٹرز عبدالقادر،سلیم ملک ،سکندر بخت اور قومی ٹیم سے نظر انداز کئے گئے ٹیسٹ بیٹسمین عاصم کمال نے اپنے تبصروں میں کہا کہ اگر مکی آرتھر ایسے اہم اقدمات کے ذریعے پاکستان کرکٹ کلچر میں ان روایات کو متعارف کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ کسی بھی کوچ کی جانب سے انقلابی اقدام ہوگا، انہیں اس کامیابی پر ہم پیش گی مبارکباد دیتے ہیں، ان ماہرین کرکٹ نے کہا پاکستان کرکٹ اور کرکٹرز کے نفسیات کو سمجھنے میں مکی آرتھر کو کافی وقت درکار ہوگا جبکہ پی سی بی سے انہوں نے جتنا وقت مانگا ہے وہ ان کیلئے ناکافی ہوگا ،اس کی بنیادی وجہ یہ کہ پاکستانی کرکٹرز کی نفسیات سے مکی آرتھر واقف نہیں اس کیلئے انہیں ایک ایک کھلاڑی کو سمجھنے کیلئے اس کی نفسیات کی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ مکمل آگہی کی ضرورت ہوگی، اس کام کیلئے انہیں یقینی طور پر کافی وقت دینا ہوگا بلکہ وقت کی باقاعدہ سرمایہ کاری کرنا ہوگی،چونکہ پاکستان کرکٹ کا کوئی مربوط بنیادی ڈھانچہ نہیں لہذاس جانب مکی آرتھر کو از سرے نو بھر پور کام کرنا ہوگا، ہر شعبے میں کرکٹ نظام کو مستقل بنیادوں پر درست کرنا ہوگا،کھلاڑیوں کے ساتھ کرکٹ کو چلانے والوں کو بھی مخلصانہ جد وجہد کرنے کی اشد ضرورت ہے اس کے بغیر قومی کرکٹ کی بنیادیں کبھی مستحکم نہیں بنائی جاسکیں گی، اس کے لئے قومی کوچ کو اپنے ذاتی اسٹاف ممبرز آسٹریلین فزیو شین ہینز اور اسٹیو رکسن کو بہت سنجیدگی اور گہری دلچسپی سے استعمال کرنا ہوگا، ان کے تجربات سے صد فیصد استفادہ کرنا ہوگا، اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مکی آرتھر اور ان کی سپورٹنگ ٹیم کوپر خطر و دشوارگزار راستوں پر چلنا ہوگا، پی سی بی اور پاکستان کرکٹ کے انفرااسٹرکچر کی بحالی، درستگی اور بہتری و ترقی کیلئے مکمل اوورہالینگ کرنا ہوگی تب جاکر قومی کرکٹ ٹیم اور ٹیم انتظامیہ کے معاملات درست ہوں گے،کسی بھی کھلاڑی کے فٹنس پر سمجھوتا نہ کرنے کے عزم کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے مکی آرتھرکو گویا ’’جوئے شیر ‘‘ لانے کے مترادف کام کرنے ہوں گے، محنت و لگن سے کام کرنا ہوگا، ہر کھلاڑی پر انفرادی توجہ اور وقت دینا ہوگا اس کے بغیر مکی آرتھر کو مطلوبہ یا اپنی خواہشات کے مطابق نتائج حاصل کرنا نا ممکن ہوگا

شیئر: