Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خروج وعودہ ویزے پر واپس نہ آنے والوں کا سٹیٹس کیا ہوگا؟

سعودی عرب میں کورونا وائرس سے بچاو کے لیے مفت ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے
سعودی عرب میں محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ’جوازات‘مقیم غیر ملکی کارکنوں اورتارکین کے اہل خانہ کے اقاموں کے اجرا و تجدید کے علاوہ خروج وعودہ اور خروج نہائی یعنی فائنل ایگزٹ کا ذمہ دار ہے۔
ایک شخص نے خروج وعودہ کے قانون کے حوالے سے جوازت سے دریافت کیا کہ ’اگر خروج وعودہ ویزے پر اپنے ملک جا کر بحالت مجبوری وقت مقررہ پرواپس نہ آئے تو اس کا سٹیٹس کیا ہوگا علاوہ ازیں دوبارہ سعودی عرب آنے کا کیا طریقہ ہے‘؟ 
 جوازات کا کہنا تھا کہ خروج وعودہ پرجا کر مقررہ وقت پرواپس نہ آنے والوں کو’خرج ولم یعد ‘ کی کیٹگری میں شامل کردیا جاتا ہے جس کے بعد ایسے افراد کو مملکت میں تین برس کےلیے بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے۔
اس کے بعد وہ مذکورہ مدت تک ورک ویزے پرمملکت نہیں آسکتے البتہ حج و عمرہ ویزے پرآنے کی اجازت ہوتی ہے۔
مذکورہ کیٹگری میں شامل افراد اگر مقررہ مدت کے دوران آنا چاہئیں تو وہ اپنے سابق کفیل کے ویزے پر ہی آسکتے ہیں بصورت دیگر تین برس مکمل ہونے کے بعد دوسرے ورک ویزے پر آنے کی اجازت ہوتی ہے۔
واضح رہے خرج ولم یعد کے معنی ہیں مملکت سے جاکرواپس نہ آناـ یہ اصطلاح خروج وعودہ کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پرعائد کی جاتی ہے۔
 قانون کے نفاذ کا مقصد مملکت میں آجر واجیر کے حقوق کا تحفظ ہےـ
خروج وعودہ یعنی ایگزٹ ری انٹری ویزے پرجا کرواپس نہ آنے کی وجہ سے ویزا  ضائع ہوتا ہے جس کے سبب آجر یا کفیل کو اس کے مقابل دوسرا ویزہ نکالنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہےـ 
ایک شخص نے جوازات کے ٹوئٹر پردریافت کیا ’گھریلوڈرائیورجو انڈیا گیا ہوا ہے اس نے وہاں پر کورونا کی دونوں ویکسینز لگوائی ہیں اور سعودی وزارت صحت میں بھی سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا گیا ہے اس صورت میں وہ براہ راست مملکت آسکتا ہے؟ 
 جوازات کا کہنا تھا کہ انڈیا سمیت ان ممالک سے جہاں سے مسافروں کے براہ راست آنے پر پابندی عائد ہے وہاں سے صرف وہی افراد براہ راست مملکت آسکتے ہیں جنہوں نے سعودی عرب سے جانے سے قبل کورونا وائرس سے بچاو کےلیے دونوں ویکسین لگوائی ہوئی ہیں۔
جبکہ وہ افراد جنہوں نے سعودی عرب سے باہر پابندی والے ملک میں ویکسین لگوائی ہے وہ کسی ایسے ملک میں 14 دن گزارنے کے بعد مملکت آسکتے ہیں جہاں سے مسافروں کی آمد پرپابندی عائد نہیںـ
واضح رہے سعودی عرب میں کورونا وائرس سے بچاو کے لیے مفت ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ وزارت صحت کی جانب سے ویکسین کی تیسری خوراک دینے کی بھی منظوری دی جا چکی ہےـ 
وزارت صحت کے مطابق ایسے افراد جنہوں نے ویکسین کی دوسری خوراک چھ ماہ قبل لگوائی ہے انہیں بوسٹر ڈوز کےلیے کہا جارہا ہےـ 

شیئر: