مملکت خطرات کا مقابلہ کرنے سے نہیں ہچکچائے گی: سعودی کابینہ
سعودی کابینہ نے حالیہ علاقائی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ‘ سعودی عرب اپنی قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خلاف ورزی یا خطرے کا مقابلہ کرنے کےلیے ضروری اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔‘
یمن کی سلامتی، استحکام اور خود مختاری کےلیے اپنی وابستگی اور یمن کی قیادت و حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
کابینہ کا اجلاس خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت منگل کو ریاض میں منعقد ہوا۔
اجلاس کے آغاز میں ارکین کابینہ کو رشین فیڈریشن کے صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے موصول ہونے والے مکتوب کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے ‘ کے مطابق اجلاس نے سعودی، عمانی رابطہ کونسل کے تیسرے اجلاس کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین تجارتی، صنعتی، توانائی اور سرمایہ کاری کے میدانوں میں باہمی تعاون کے فروغ کا جائزہ لیا۔
وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے بتایا کہ اجلاس نے یمنی قیادت کی درخواست کے جواب میں حضرموت اور المھرہ گورنریٹس میں شہریوں کے تحفظ اور ان کی سلامتی کے حوالے سے یقین دہانی کی۔
کابینہ نے مملکت کی جانب سے برادرانہ امور کے فروغ اور بہترین ہمسائیگی کےاصولوں کی امید کا اظہار کیا جو خلیج تعاون کونسل اور عرب ممالک کو جوڑے رکھنے کے ساتھ ساتھ برادر ملک یمن کے مفاد میں بھی ہے۔

کابینہ نے امید ظاہر کی کہ’ یمنی درخواست پر متحدہ عرب امارات کی فورسز 24 گھنٹے کے اندر یمن سے واپس چلی جائیں گی۔ یہ بھی امید ہے کہ عرب امارات جنوبی عبوری کونسل اور یمن کے اندر کسی دوسرے فریق کو ہر قسم کی عسکری و مالی امداد بند کردے گا۔
یہ بھی کہا گیا کہ’ یہ بھی امید ہے کہ متحدہ عرب امارات دونوں برادر ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے کےلیے ضروری اقدامات کرے گا۔‘
ارکین کابینہ نے صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور اتحاد کے حوالے سے مملکت کی مکمل حمایت، اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے نام نہاد ’صومالی لینڈ ریجن‘ کو تسلیم کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کیا۔
سعودی وزیر اطلاعات نے بتایا اجلاس نے مملکت کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دنیا بھر میں جاری امدادی امور کوسراہا جس کے تحت ضرورت مندوں کو صحت ، تعلیم اور ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
