سعودی شہریوں کے غیرملکیوں کے ساتھ نکاح سے متعلق نئے ضوابط
وزارت کی جانب سے این او سی کے بعد کارروائی مکمل کی جائے گی (فوٹو: اخبار 24)
سعودی وزیرانصاف ولید الصمعانی نے مملکت میں سعودی شہریوں کے غیرملکیوں کے ساتھ مطلوبہ اجازت کے بغیر کیے جانے والے نکاح معاہدوں سے متعلق نئے ضوابط کی منظوری جاری کی ہے۔
نئے ضوابط کے تحت سعودی شہری کی غیرملکی خاتون اور غیرملکی مرد کی سعودی شہری سے شادی کی شرائط اور نکاح نامے کے اندراج میں سہولت فراہم کی گئی ہے۔
اخبار 24 کے مطابق نئے ضوابط کے تحت سعودی اور غیرملکی شہری کے درمیان اجازت نامے کے بغیر کیے گئے نکاح معاہدے سول سٹیٹس کورٹ میں پروسیس کیے جائیں گے۔
اس نئے فیصلے کا مقصد خاندانوں کو مستحکم کرنا،جوڑے سے متعلق بعض مسائل کا حل،نکاح اور اس سے متعلق پروسیجر کو وزارت انصا ف کے طریقہ کار کے مطابق قانونی طور پر دستاویزی شکل دینا ہے۔
سعودی شہریوں کی غیرملکیوں سے شادی کے نئے طریقہ کار کے مطابق نکاح نامے کی عدالت میں رجسٹری کے لیے ضروری ہو گا کہ دی گئی درخواست وزارتِ داخلہ کی منظوری کے بعد عدالت میں جمع کرائی جائے۔
وزارت کی جانب سے این او سی حاصل کیے جانے کے بعد باقی کارروائی مکمل کی جائے گی۔

ایسے نکاح نامے کی رجسٹریشن قابل قبول نہیں ہو گی جس میں قانون کی شق 9 اور 11 کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔
یہ دونوں شقیں ایسے افراد کے بارے میں ہے جن کی عمر 18 برس سے کم ہو یا کوئی ایک فریق دماغی مرض (پاگل پن ) میں مبتلا ہو اس صورت میں شادی کو رجسٹر نہیں کیا جائے گا۔
قانون کی شق 11 میں کی گئی وضاحت میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ عدالت اس بات کی مجاز ہو گی کہ وہ پاگل یا ذہنی طورپر کمزور شخص سے اس کے سرپرست کی درخواست پر شادی کی اجازت دے سکتی ہے۔
تاہم اس کے لیے دیگر شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے جن میں سرپرست کو طبی حوالے سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ذہنی مریض خطرناک نہیں اور شادی اس کے مفاد میں ہوسکتی ہے۔
