Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مری کی پہچان صرف برف نہیں، صدیوں پرانا ثقافتی ورثہ بھی

مری کے حالیہ واقعات نے ٹورازم کی انتظامی اور عملی  کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
حالیہ دنوں مری میں برف باری کے طوفان میں سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد مری، اس کی سیاحتی اہمیت اور اس سے جڑے انتظامی مسائل خبروں اور تجزیوں کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔
بظاہر مری کی  ناموری اور اہمیت گرمیوں میں ٹھنڈے موسم اور سردیوں میں برف باری کے نظاروں کی وجہ سے ہے۔ دنیا بھر میں سیاحتی مقامات تاریخی آثار و عمارتوں اور مناظر فطرت کی دلکشی سے جانے جاتے ہیں۔
مری میں قدرتی حسن کی کمی نہیں بلکہ اس کی پہچان پہاڑی چوٹیاں اور جنگلات سے ڈھکی وادیاں ہیں۔ اس پہچان نے مری کا صدیوں پرانا ثقافتی ورثہ اور تاریخی آثار پس منظر میں دھکیل دیے ہیں۔
باہر سے آنے والے سیاح تو درکنار خود مری کے اکثر باشندے بہت ساری قدیم عمارتوں کی موجودگی سے لاعلم ہیں جن جگہوں اور عمارتوں کے نام سے لوگ واقف بھی ہیں، ان سے وابستہ تاریخی واقعات ،شخصیات اور حالات سے بہرحال بے خبر ہیں۔
پنجاب، کشمیر اور ہزارہ کے سنگم پر آباد مری کا موسم برطانوی اور یورپی باشندوں کو یہاں کھینچ لایا مزید برآں اس کی جغرافیائی اور فوجی اہمیت کی وجہ سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی ناردرن کمانڈ نے ’فرہل کاٹیج سٹیٹ‘ نامی  جگہ خرید کر اسے جنرل آفیسر کمانڈنگ کی رہائش گاہ میں بدل دیا تھا۔ یہ عمارت اب بھی اسی  جگہ موجود ہے۔
سنہ 1851 میں اس کے ساتھ کرنل برسٹو نے تین ایکڑ کی جاگیر خرید کر اس میں رہائش اختیار کی۔ مختلف ادوار میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتی یہ عمارت اب گورنمنٹ ہاؤس کہلاتی ہے۔

1880 کے عشرے میں  میں ’پارک لاج‘ اور’نیٹ وڈ ہاؤس‘ نامی دو عمارتیں فری میسنز کے وابستگان کی سرگرمیوں کا مرکز تھیں (فوٹو: ڈاکٹر عمر مختار)

جب ہندوستان کا اقتدار ایسٹ انڈیا کمپنی سے تاج برطانیہ کو منتقل ہوا تو سن 1860میں مری کو پنجاب کا گرمائی دارالحکومت بنایا گیا۔ اس دور میں فوجی اور سول برطانوی حکام  اور متمول مقامی باشندوں نے یہاں آباد ہونا شروع کر دیا۔
آبادی میں اضافے سے پانی کی کمی کے  مسائل نے جنم لیا۔ اٹھارہ سو چھہتر کو لارڈ  لیٹن نے حکومتی دفاتر شملہ منتقل کروا لیے مگر اس سے مری کی پُرکشش ہل اسٹیشن کی حیثیت مانند نہ پڑی۔ پہاڑ کی چوٹی پر آباد اس شہر  کی معاشی اور سیاحتی سرگرمیوں کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔
مری میں پانی کی کمی پورا کرنے کے لیے 1891 میں مشک پوری کی پہاڑیوں کے دامن سے مری کے لیے پانی کی پائپ لائن بچھائی گئی۔
برطانوی فوج کے کرنل جے اے براڈبینٹ پانی کی سپلائی کے کام کی نگرانی کر رہے تھے، اس دوران ان کی بیوی جنرل نکلسن کی بھتیجی ڈورا نکلسن وفات پا گئیں تو انہیں ڈونگا گلی کے قبرستان میں دفنایا گیا۔ پانی کی فراوانی نے مری میں شہری زندگی کو پھر سے رواں دواں کر دیا۔
مری کی تاریخ پر مبنی کتاب ’مری ڈیورنگ دی  راج‘ کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر فرخ احمد خان کے مطابق مری میں کاروباری مواقع پیدا ہوئے تو کیپٹن ہال مین اور کرنل جان پال مری کے پراپرٹی ٹائیکون بن گئے۔ کرنل جان کے والد پاول فرینک رہائشی اور تجارتی زمین کی خرید و فروخت کے بانی تھے۔

1860میں مری کو پنجاب کا گرمائی دارالحکومت بنایا گیا (فوٹو: ڈاکٹر عمر مختار)

آج مال روڈ پر واقع جناح ہال کا پرانا نام جان پال کے نام پر ہوا کرتا تھا، وہ بیس برس تک مری میونسپل کمیٹی کے سربراہ رہے تھے۔
برطانوی باشندوں کے علاوہ راولپنڈی کے دو کاروباری پارسی بھی مری میں تجارتی سرگرمیوں میں  آگے آگے تھے۔ دھان جی بھائی راولپنڈی سے مری تک ٹرانسپورٹ اور ڈاک کی ترسیل کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ بہت ساری عمارتیں ان کی ملکیت تھیں۔ تقسیم کے بعد ان کا بیٹا اپنی جاگیر بیچ کر ہندوستان چلا گیا۔
مری کی ہوٹل انڈسٹری کے بانی جمشید کیکو باد تھے۔ ان کا قائم کردہ ’رز ہوٹل‘ کا شمار آج بھی مری کے قدیم ترین اور تاریخی آثار سے مزین ہوٹلوں میں ہوتا ہے۔

انیس سو ساٹھ  سے 1964 تک سہگل لاج میں امریکی سفارتی مشن کام کرتا رہا (فوٹو: ٖڈاکٹر عمر مختار)

بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں بننے والا لاک وڈ ہوٹل ابھی بھی نو آبادیاتی طرز تعمیر کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ مال روڈ پر ہولی ٹرینٹی چرچ کے عقب میں واقع اس قدیم ہوٹل کی بناوٹ اور اندرونی آرائش میں  اس دور کے طرز تعمیر اور طرز زندگی کی جھلک ملتی ہے۔
مری کے پرانے ہوٹلز انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے شروعات میں قائم ہوئے۔ اس دور کے یورپی باشندوں کے مخصوص طرز معاشرت اور ذوق کی عکاسی کرتے تھے۔ رقص و سرور اور پارٹیوں کے دلدادہ غیر ملکیوں کے ذوق کا سارا سامان ان ہوٹلوں میں  موجود ہوتا تھا۔
اس دور کے یادگار ہوٹلوں میں برائٹ لینڈ ہوٹل، ویو فورتھ ہوٹل، ہوٹل ایمبسٹر، ہوٹل دلکشا اور کشمیر ولا ہوٹل ایک صدی کی معاشرت، تفریح اور کھانوں کے بدلتے ذائقوں کے گواہ ہیں۔
ہال روڈ پر واقع ہوٹل میٹروپول برطانوی دور میں پنجاب کے تین گورنروں کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ کسی دور میں یہ مہاراجہ  کشمیر کی ملکیت بھی رہا۔ پہلے اس کا نام ہوٹل روبری ہوا کرتا تھا اب یہ میٹروپول کے نام سے اسی قدیم عمارت میں قائم ہے۔
ان سب میں مگر ہوٹل سیسل کی داستان اپنے اندر اس خطے کی  بدلتی تاریخ اور انسانی دلچسپی کے بہت سے واقعات کی تفصیل سموئے ہوئے ہے۔
اس کا قیام مری کے دارالحکومت کے وقت سے ہوا مگر اسے حقیقی عروج ہندوستان میں ہوٹل انڈسٹری کے بانی جان فلیٹی کی ملکیت بننے کے بعد ملا۔
اسی نے راولپنڈی کے ہوٹل فلیش مین ،لاہور کے ہوٹل فلیٹیز اور پشاور کے دینز ہوٹل کی بنیادیں رکھیں۔ فلیٹی بعدازاں یہ تمام ہوٹلز راج بہادر سوھن سنگھ اوبرائے کو بیچ کر واپس انگلستان چلا گیا۔

ہال روڈ پر واقع ہوٹل میٹروپول برطانوی دور میں پنجاب کے تین گورنروں کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے (فوٹو: ڈاکٹر عمر مختار)

ان پُرتعیش ہوٹلوں کا نیا مالک چکوال سے تعلق رکھتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک وقت میں وہ  سے سیسل ہوٹل میں  ویٹر کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔
تقسیم ہند کے بعد وہ انڈیا منتقل ہو گیا مگر اس نے پاکستان اور ہندوستان دونوں میں اپنی ہوٹل کمپنی قائم کر رکھی تھی۔ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے بعد پاکستان میں اس کے تینوں ہوٹلز کو دشمن کی پراپرٹی قرار دے کر حکومتی تحویل میں لے لیا گیا ۔ان کا انتظام ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے حوالے ہوگیا۔
سیسل ہوٹل 1990میں بند کر دیا گیا، بعد میں یہ جگہ  ایک تعمیراتی کمپنی نے خرید لی۔ 2014 میں پنجاب آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے اسے ’خصوصی گوشہ‘ قرار دے کر محفوظ بنایا ہوا ہے۔ اس قدیم ثقافتی ورثے کی حامل عمارت کی بحالی اسے سیاحوں کی دلچسپی کا مقام بنا سکتی ہے۔
برطانوی باشندوں کے علاوہ مری مہاراجوں اور نوابوں، جاگیرداروں اور متمول کاروباری افراد کے لیے ہمیشہ دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ کسی دور میں مہاراجہ کشمیر اور کپورتھلہ کے مہاراجہ کے بنگلے اس کی رونق میں اضافے کا باعث ہوتے تھے۔
پنجاب کا جاگیردار دولتانہ خاندان مری میں بڑی بڑی جاگیروں کے مالک رہا ہے۔ آج کا گورنمنٹ ہاؤس بھی حکومت نے اسی خاندان سے خریدا تھا۔ تاریخی فر ہل کا ٹیج ان کی ملکیت میں ہے۔ ابھی اسے ہوٹل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ نواب افتخار ممدوٹ کا ممدوٹ ولا  کسی دور میں یہاں واقع ہوتا تھا۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم فیروز خان نون  کا خاندانی نون ولا اور عیسیٰ خیل کی مشہور شخصیت اور پنجاب کے سابق وزیر بیگم ذکیہ شاہنواز کی جاگیر آج بھی ان کے خاندانوں کے استعمال میں ہے۔
موجودہ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کے والد حستم خٹک کسی ایک وقت میں یہاں گورنمنٹ کنٹریکٹر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان کا تعمیر کردہ خٹک ولا ابھی بھی ان کی ملکیت ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد بہت سارے غیر ملکی سفارتخانوں کے عارضی دفاتر یہاں قائم ہوئے (فوٹو: ڈاکٹر عمر مختار)

دلچسپ بات ہے کہ اس حکومت کے ایک اور وفاقی وزیر شفقت محمود کسی دور میں مری میں  اسسٹنٹ کمشنر تعینات رہے ہیں۔ اسی وقت ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد انہیں مری کے گورنمنٹ ہاؤس میں نظر بند رکھا گیا۔ یہیں پر ضیاءالحق سے ان کی ملاقات تلخی پر ختم ہوئی جو بعد ازاں ان پر مقدمہ قتل کا باعث بنی۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے اکثر افراد مری اور نتھیا گلی میں گھروں کے مالک ہیں۔ نواز شریف اپنے ادوار میں اہم سیاسی اور انتظامی فیصلے مری میں ہی کیا کرتے تھے۔
ساٹھ کی دہائی میں پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے کشمیر پر طویل مذاکرات جو کہ ’بھٹو سورن سنگھ‘ مذاکرات کے نام سے جانے جاتے ہیں کے بہت  سارے دور مری میں ہوئے۔
نوآبادیاتی دور میں برطانوی سرکار کے لیے اہم  خدمات سرانجام دینے والے فوجی اور سول اہلکاروں  کا تعلق کسی نہ کسی انداز میں مری سے رہا ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں روس ،برطانیہ اور افغانستان کے مابین گریٹ گیم کے مرکزی کردار فرانسس ایڈورڈ نے مری میں جنم لیا تھا
انہوں نے افغانستان اور شمالی علاقہ جات میں کہی مہمات سرانجام دیں ۔وہ ریاست کشمیر میں برطانیہ کے ریذیڈنٹ کے طور پر بھی کام کرتے تھے۔
اب ان کا آبائی گھر دولتانہ خاندان کی ملکیت اور ایک ہوٹل کا حصہ ہے۔ اسی طرح جنگ آزادی کے دوران دہلی کا قصائی کہلانے والا میجر ہڈسن مری میں مقیم رہا تھا۔
رچبل روڈ پر واقع ہڈسن لاج کی عمارت قیام پاکستان کے بعد  پولیس کی سپیشل برانچ کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ شہباز شریف کے دور میں اسے ٹیوٹا کے زیراہتمام ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں بدل دیا گیا۔
Once Upon a time in Murree مری کے تاریخی ورثے کے بارے میں ہے، ڈاکٹر عمر مختار کی کتاب میں قدیم عمارتوں کی تاریخ اور تعارف بیان کیا گیا ہے۔
وہ عالمی خفیہ تنظیم ’فری میسنز سوسائٹی‘ کی مری میں سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ 1880 کے عشرے میں ’پارک لاج‘ اور’نیٹ وڈ ہاؤس‘ نامی دو عمارتیں فری میسنز کے وابستگان کی سرگرمیوں کا مرکز تھیں۔ یہ دونوں مری بروری کمپنی کی ملکیت میں تھیں۔

ڈاکٹر عمر مختار کی کتاب میں مری کی قدیم عمارتوں کی تاریخ اور تعارف بیان کیا گیا ہے

اسی کمپنی کا راولپنڈی میں ہیڈ کوارٹر بھی ’پارک لاج‘ کے نام سے مشہور تھا۔ یہ دلچسپ امر ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کے دوران پریزیڈنٹ ہاؤس کے طور پر صدر ایوب کی رہائش گاہ بھی یہی عمارات رہی ۔آج کل اسے آرمی ہاؤس کہا جاتا ہے۔
ہندوستان کے مشہور فلمی کپور خاندان کے بانی پرتھوی راج کپور بھی کسی دور میں مری میں قیام کرتے رہے۔ ان کے خاندانی دوست لال چند کھنہ نے 1940 میں ایشلے کاٹیج کے نام سے مکان خریدا۔
اس سے قبل یہ یونینسٹ پارٹی کے بانی اور متحدہ پنجاب کے وزیر تعلیم سر میاں  فضل حسین کی ملکیت رہ چکا تھا۔ پرتھوی راج کپور اپنے خاندان کے ساتھ گرمیوں میں یہاں رہنے آتے تھے۔
آج کل یہ عمارت سابق فاٹا کے ایک کاروباری شخصیت کی ملکیت ہے۔ کپور خاندان سے تعلق رکھنے والی آج کی فلمی شخصیات کے لیے شاید یہ عمارت دلچسپی اور توجہ کا باعث ہو۔
مری کی دیگر تاریخی عمارتوں میں اٹھارہ سو ستاون میں قائم ہونے والا ہولی ٹرینٹی چرچ اور تاریخی جی پی او قدیم گو تھک طرز تعمیر کے نمائندہ ہیں۔ چرچ کے ساتھ مری کلب کی عمارت ہوتی تھی جس کی ممبر شپ کے لیے اس دور کے راجے مہاراجے سفارشی ڈھونڈا کرتے تھے۔ آتشزدگی کے بعد کلڈنہ روڈ پر نیو مری کلب کے نام سے اس کی نئی عمارت تعمیر کی گئی۔

بے نظیر بھٹو اور ان کی بہن صنم بھٹو 1964 سے 1965 تک مری کے ایک بورڈنگ میں زیرتعلیم رہیں (فوٹو: ڈاکٹر عمر مختار)

ساٹھ کی دہائی میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہونے سے مری کی معاشی اور سماجی زندگی  نے نئی کروٹ لی۔ اس دور میں بہت سارے غیر ملکی سفارتخانوں کے عارضی دفاتر قائم ہوئے۔
1960 سے 1964 تک سہگل لاج میں امریکی سفارتی مشن کام کرتا رہا۔ انہی وقتوں میں اس عمارت میں آتشزدگی کا واقعہ بھی ہوا۔ آج کل یہ بلڈنگ معروف صنعت کار طارق سہگل کی ملکیت ہے۔ امریکی سفارتی مشن کے سربراہ کا یہاں جنم لینے والا بیٹا شاید ابھی بھی اپنی جنم بھومی کو دیکھنے کا خواہش مند ہو۔
مری کے تعلیمی اداروں نے اپنے ماحول اور معیاری تعلیم کی بدولت ملک گیر شہرت حاصل کی ۔لارنس کالج نو آبادیاتی دور کا معتبر ترین تعلیمی ادارہ ہے۔

مری کی دیگر تاریخی عمارتوں میں اٹھارہ سو ستاون میں قائم ہونے والا ہولی ٹرینٹی چرچ اور تاریخی جی پی او قدیم گو تھک طرز تعمیر کے نمائندہ ہیں (فوٹو: ڈاکٹر عمر مختار)

سنہ 1876 میں ایک فرانسیسی نن میں نے کو نونٹ جیسز اینڈ میری قائم کیا۔ لڑکیوں کی تعلیم کے اس تاریخی سکول میں پاکستان کی سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو انیس سو چونسٹھ سے انیس سو پینسٹھ تک بورڈنگ میں اپنی بہن صنم بھٹو کے ساتھ زیر تعلیم رہیں۔
انہوں نے اپنی آپ بیتی میں بورڈنگ لائف کے دوران اپنے جوتے پالش کرنے اور پانی بھر کر لانے کا تذکرہ کیا ہے۔
اس قدیم تعلیمی ادارے سے صدر ایوب کی بیٹی نسیم اورنگزیب،تہمینہ درانی ،بیگم عابدہ حسین ،تصور خانم اور ملکہ ترنم نور جہاں کی بیٹیوں نے بھی تعلیم حاصل کی۔ معروف کشمیری رہنما شیخ عبداللہ کی اہلیہ تقسیم سے قبل یہاں زیر تعلیم رہیں۔
سوال یہ ہے کہ اتنے کثیر تاریخی اہمیت کے مقامات کے باوجود مری کی ٹورزم انڈسٹری میں کلچرل ٹورازم کو کیوں شامل نہیں کیا جا سکا؟
حال ہی میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ٹورازم تعینات ہونے والے اعظم جمیل نے اس حوالے سے اردو نیوز سے خصوصی بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹورازم صرف انڈسٹری نہیں بلکہ یہ مائنڈ  سیٹ کا نام بھی  ہے۔ جب ہم کلچرل ٹورازم کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ہاں معلومات کا فقدان ہے۔ ٹیکسلا اور مری اسلام آباد کے قریب واقع ہیں مگر کتنے لوگوں کو ان کی تاریخی عمارات اور ثقافتی ورثے سے اگائی حاصل ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ثقافتی ورثے کا تحفظ حکومت کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کا بھی کام ہے جس طرح خپلو  اورشگر  میں واقع تاریخی مقامات کی حفاظت اور ترویج وہاں  کی لوکل کمیونٹی کرتی ہے۔‘ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کام کے لیے حکمت مدد گار ہو سکتی ہے مگر مقامی افراد کا رویہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔

جان فلیٹی نے راولپنڈی کے ہوٹل فلیش مین ،لاہور کے ہوٹل فلیٹیز اور پشاور کے دینز ہوٹل کی بنیادیں رکھیں (فوتو کرٹسی: ڈاکٹر عمر مختار)

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے مری میں کلچرل ٹورزم کو فروغ دینے کی پالیسی کے حوالے سے کہا کہ ’ہم سب سے پہلے مقامی کمیونٹی کو اس پر آمادہ کریں گے کہ وہ ان تاریخی جگہوں کے بارے میں پہلے خود معلومات حاصل کریں اور اپنے مہمان سیاحوں کو بھی ان سے متعارف کروائیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ٹورازم پالیسی رد عمل کے بجائے تعلیم اور ترغیب سے کامیاب بنانا چاہتے ہیں۔
پاکستان میں سٹی پلاننگ اور انٹرپرنیور ٹورازم کے حوالے سے آگاہی مہم سے وابستہ  ڈاکٹر نوید افتخار نے اردو نیوز کو بتایا کہ مری میں کلچرل ٹورازم کیسے نوجوانوں کے لیے نوکریوں کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں ٹورسٹ گائیڈ اس صنعت کا اہم حصہ ہیں ۔جو تاریخی اہمیت کی جگہوں اور مقامات کی سیر کے لیے سیاحوں کو آمادہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں ٹورسٹ گائیڈ ز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پڑھے لکھے نوجوان مری کی تاریخ اور تاریخی عمارتوں اور کلچر کے بارے میں معلومات کی بنیاد پر بہت اچھے ٹورسٹ گائیڈ بن سکتے ہیں۔‘

میٹرو ہوٹل کا نام پہلے ہوٹل روبری ہوا کرتا تھا، جو آج بھی اسی عمارت میں قائم ہے (فوٹو: ڈاکٹر عمر مختار)

ڈاکٹر نوید افتخار نے بتایا کہ ’ٹورسٹ  ٹریپس کے ذریعے نہ صرف مری میں کلچرل ٹورازم فروغ پا سکتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں سیزنل ٹورازم سے پیدا ہونے والے انتظامی بدنظمی میں بھی کمی آ سکتی ہے۔‘
مری کے حالیہ واقعات نے ٹورازم کی انتظامی اور عملی  کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اس حادثے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جوابات میں سے ایک کلچرل ٹورازم کا فروغ بھی ہے ۔اگر  سیاحوں کو پورا سال اس صحت افزا مقام کی سیاحت کے لیے آمادہ کر کے مطلوبہ سہولیات دی جائیں تو مخصوص سیزن میں سیاحوں کی مری پر یلغار میں کمی آ سکتی ہے۔

شیئر: