Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عرب دنیا میں ماضی کی سیر کراتی ’قصہ گوئی‘ کی محفلیں

قصہ گوئی کی روایت بہت قدیم ہے۔ عہد قدیم میں قصے حکایتوں اور داستانوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ قصہ گو کہانی سنانے کے دوران آواز کے اتار چڑھاؤ سے کہانی اور اس کے کرداروں میں جان ڈالتے تھے۔
 موجودہ دور میں ہو سکتا ہے کہ کچھ قصہ گو موجود ہوں، تاہم قصہ سنانے کی روایت ختم ہو چکی ہے یا پھر یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔
ماہ رمضان اپنے ساتھ صدیوں پرانی تہذیب، رسم و رواج اور بھولی بسری یادوں کو بھی لاتا ہے۔ معروف مورخ ابن جبیر اور سیاح ابن بطوطہ نے رمضان کے دوران قصہ گوئی اور عوام و خواص کی بیٹھکوں کے رواج کا تذکرہ کیا ہے۔
 رمضان میں قصہ گوئی کی مجلسیں کب شروع ہوئیں۔ انہیں کس طرح عروج حاصل ہوا یہ الگ موضوع ہے۔
اسلام کے ابتدائی دور میں رمضان کے دوران مجلسوں کا آغاز ہوا۔
صحابہ اسلام سے قبل کی زندگی کے  قصے سناتے تھے۔ جگ بیتی اور آپ بیتی کے تذکرے کرتے۔ پیغمبروں اور نبیوں کے واقعات اور پچھلی اقوام کی حکایات بیان کیا کرتے۔
اس زمانے میں عبداللہ بن سلام سب سے نامور قصہ گو تھے۔ دوسرے دور کے قصہ گو افراد میں وھب بن منبہ، طاووس بن کیسان اور موسی بن سیار کے نام آتے ہیں۔
عمر بن خطاب کے عہد خلافت میں عید بن عمر پہلے قصہ گو مانے جاتے ہیں۔
آج کل سعودی عرب میں رمضان کے دوران قصہ گوئی کے دو بڑے مرکز ہیں۔ ایک تو قدیم سعودی دارالحکومت الدرعیہ گیٹ ہے، جہاں رات ساڑھے نو سے دو بجے تک ’رمضان کی راتیں‘ کے عنوان سے ہونے والے میلے میں ’قصہ گوئی‘ پروگرام کے دوران راوی مملکت کے تاریخی واقعات اور شہسواروں کے جنگی کارناموں کی کہانیاں سناتا ہے۔
اس میں سعودی اور مقیم غیر ملکیوں کو مملکت کو نئے انداز سے دیکھنے میں کا موقع ملتا ہے۔

سعودی عرب میں قصہ گوئی کی روایت بہت قدیم ہے (فوٹو: وزارت ثقافت)

قصہ گوئی کے حوالے سے دوسرا بڑا مرکز مکہ مکرمہ ہے، جہاں (مزدلفہ) میں پیدل حج کرنے والوں کی شاہراہ پر رمضان فیسٹیول لگتا ہے۔ اس کا اہتمام مکہ اور مشاعر مقدسہ رائل کمیشن کر رہا ہے۔ فیسٹیول کا خاص پروگرام (المرکاز) کہلاتا ہے۔
اجیاد محلے کے ایک بزرگ ھاشم باشماخ بتاتے ہیں کہ ’قصہ گوئی مکہ کا پرانا رواج ہے۔ محلے کے چھوٹے بڑے (عمدہ)  کونسلر کی بیٹھک (المرکاز) میں جمع ہوتے ہیں۔ جہاں پرانے قصے اور کہانیاں دلچسپ انداز میں سنائی جاتی ہیں۔
مملکت کے بڑے شہروں میں ادبی انجمنوں کے صدر دفاتر اور قہوہ خانوں میں بھی قصہ گوئی کی محفلیں سجتی ہیں۔
 ایک زمانہ تھا جب بغداد کی سڑکیں قصہ گو افراد سے آباد ہوتی تھیں۔ معروف کتاب الف لیلہ و لیلہ اسی طرح کی قصہ گوئی کا ثبوت ہے۔

قصہ گوئی کے دو اہم مراکز میں سے ایک الدرعیہ گیٹ اور دوسرا مکہ میں ہے (فوٹو: رمان الوصل)

عربی ادب میں بھی اس کے تذکرے ملتے ہیں۔ عربی ادب میں قدیم قصہ خوانوں کا ذکر آئے تو پہلا نام ابو دھبل کا آتا ہے، جس کا اصل نام وھب بن زمعہ تھا۔ اس کا دور پہلی صدی ھجری کے نصف اول کا ہے۔
 پھر المحاکی کے نام سے دلچسپ کہانیاں اور قصے بیان کرنے والوں نے بھی اپنا نام بنایا۔
اس میں دو ٹیمیں جمع ہو جاتیں، قصہ گو عجیب و غریب کہانیاں، چٹکلے، لطیفے اور دلچسپ نکتے بیان کرتے تھے۔ معروف عرب ادیب جاحظ نے اپنی کتاب ’البیان والتبیین‘  میں متعدد  قصہ گو افراد کا ذکر کیا ہے۔ ابو دبدوبہ کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ وہ بغداد کے العباسیہ علاقے میں جو اس وقت باب الکرخ کہلاتا تھا، خچر کی آواز اس قدر مہارت سے نکالتا تھا کہ اس پر اصل کا گماں ہوتا۔
عباسی  دور کے قصہ گو خراسان، حبشہ اور سندھ سے آنے والوں کی نقلیں بھی اتارا  کرتے تھے۔
رمضان میں عوامی بیٹھکیں ایک طرح سے رت جگے تھے۔ رمضان میں قصہ گوئی کے فن کو گیارہویں صدی عیسوی میں عروج حاصل ہوا۔ پھر 656 عیسوی میں سقوط بغداد کے بعد یہ فن بھی ختم ہوگیا۔

قصہ گو مملکت کے تاریخ واقعات اور شہسواروں کے جنگی کارناموں کی کہانیاں سناتے ہیں (فوٹو: سوشل میڈیا)

چند عشرے قبل عرب شہروں میں رمضان کے  دوران تاریخی کہانیاں سنانے والوں کی عوامی بیٹھکوں کا سلسلہ نئے انداز سے شروع ہوا۔ جس میں قصہ گو آواز کے اتار چڑھاؤ اور ایکشن کے ساتھ قصے کہانیاں سناتے ہیں۔ عوامی کہانیاں رنگ بھر کر پیش کی جاتی ہیں۔
عرب صحرا میں جنم لینے والی پیار و محبت کی داستانوں، قومی جرات، بہادری، خود داری، مہمان نوازی کی کہانیاں سننے کے لیے لوگ دیر تک موجود رہتے۔
قصہ گو آخر میں کسی ایک ایسے واقعے کا انتخاب کرتا جس کا عنوان سن کر وہاں موجود لوگ چونک اٹھتے اور قصہ گو تجسس برقرار رکھنے کے لیے آئندہ رات کہانی سنانے کا وعدہ کرکے اٹھ جاتا۔
موجودہ دور میں قصہ گوئی کی روایت دم توڑ رہی ہے۔ ڈیجیٹل کہانیوں اور داستانوں کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔
 آج قدیم قصے کہانیوں کی افادیت اور تعمیری حیثیت جو بھی ہو لیکن ان کی تاریخی حیثیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

شیئر: