Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کو مصنوعی بارش کی ضرورت کیوں ہے؟

مملکت کو سالانہ 24 ارب مکعب میٹر پانی کی ضرورت ہے۔ (فوٹو عاجل)
سعودی وزیر ماحولیات و پانی و زراعت انجینیئر عبدالرحمٰن الفضلی نے ریاض ریجن میں مصنوعی بارش پروگرام کے لیے اقدامات کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
عاجل ویب سائٹ کے مطابق موسمیات کے قومی مرکز کے سرکاری اکاؤنٹ پر وزیر ماحولیات نے کہا کہ پروگرام کا پہلا مرحلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ 
وزیر ماحولیات نے قومی مرکز کے اکاؤنٹ پر ویڈیو کلپ جاری کرکے کہا ہے کہ ہم نے ریاض میں مصنوعی بارش کے لیے پہلا طیارہ استعمال کرلیا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اس سے ملک و قوم کو فائدہ ہو۔ 
اس سے قبل قومی رابطہ مرکز نے بتایا تھا کہ مملکت نے 1976 میں موسمیات کی عالمی تنظیم کے ساتھ مل کر اس پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ 
قومی رابطہ مرکز نے بتایا کہ مملکت نے 1990 میں عسیر میں مصنوعی بارش کے پہلے تجربے کے لیے امریکن یونیورسٹی وایومنگ کے ساتھ معاہدہ کیا۔ 1990 میں ہی اس پر عمل کیا گیا- اس کے بعد ریاض، قصیمِ، حائل، مملکت کے شمال مغربی اور جنوب مغربی علاقوں میں بھی مصنوعی بارش کے تجربات کیے گئے۔ 
منتخب سعودی ماہرین نے مصنوعی بارش کے تجربات میں حصہ  لیا جن سے ثابت ہوا کہ مملکت میں مصنوعی بارش پروگرام مؤثر ہوگا۔
قومی رابطہ مرکز کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو  4 اسباب کی وجہ سے مصنوعی بارش کی ضرورت ہے۔ 
مملکت میں بارش کا سالانہ تناسب 100 ملی میٹر سے اوپر نہیں جاتا جس کی وجہ سے مملکت دنیا کے خشک ترین ممالک کی صف میں ہے۔ 
گزشتہ عشروں کے دوران آبادی بڑھ جانے سے آبی ذرائع پر دباؤ بڑھا ہے۔ صنعت، تو انائی، نقل و حمل، کانکنی اور زراعت کے شعبوں میں بڑی وسعت  پیدا ہوئی ہے۔ مملکت کو سالانہ 24 ارب مکعب میٹر پانی کی ضرورت ہے۔

 

واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے اردو نیوز گروپ جوائن کریں

شیئر: