Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایئر بیگ اور سیفٹی بیلٹ کے بغیر تمام گاڑیاں مارکیٹ سے واپس لی جائیں: پی اے سی 

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ آٹو موبائلز ایک مافیا ہے۔ 75  برسوں سے اب تک یہاں انجن کیوں نہیں بن سکے (فائل فوٹو: سوزوکی کارز)
پاکستان میں پارلیمںٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے ملک میں گاڑیاں بنانے والی تمام کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ بغیر ایئر بیگ، سیفٹی بیلٹ اور کمزور بریک والی تمام گاڑیاں مارکیٹ سے واپس کر لی جائیں ورنہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔  
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گاڑیوں کی قیمتیں بڑھائے بغیر ان میں تمام بنیادی سیفٹی فیچرز یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نورعالم خان کی زیر صدارت بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔
اجلاس میں گاڑیاں بنانے والی مختلف کمپنیوں کی جانب سے پیسے وصول کرنے کے باوجود گاڑیوں کی ڈیلیوری میں تاخیر کا معاملہ زیر بحث آیا۔  
کمیٹی نے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی، سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی اور کمپنیوں کے سی ای اوز کے نہ آنے پر برہمی کا اظہار کیا۔  
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کار بنانے والی کمپنی سوزوکی کے نمائندے نے بتایا کہ سوزوکی کے پاس 20 ہزار یونٹ کے آرڈرز ابھی بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے ڈیلیوری میں تاخیر ہوتی ہے۔  

’سوزوکی والوں نے سیفٹی سٹینڈرز پر جھوٹ بولا‘

اجلاس میں گاڑیوں میں سیفٹی اقدامات زیر بحث آئے تو کمیٹی کے چیئرمین نورعالم خان نے کہ سوزوکی کا سیٹ بیلٹ ٹھیک ہے۔ سیفٹی اقدامات اور ٹیکسز پر کمپرومائز نہیں ہوگا۔ ان مینوفیکچرنگ کمپنیوں سے پیسے کٹوا کر سیفٹی اقدامات مکمل کرائیں گے۔
حکام انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ نے انکشاف کیا کہ ’ہمیں نئی گاڑی میں بھی چیک کرنے کی اجازت نہیں کہ وہ سیفٹی معیار پر پورا اترتی ہے کہ نہیں۔‘ 
نمائندہ سوزوکی نے کمیٹی کو بتایا کہ ’ہماری آلٹو میں ایئربیگ موجود ہے۔‘ 
چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ’سوزوکی کا نمائندہ غلط بیان دے رہا ہے۔ آپ کی گاڑیوں میں ایئربیگ نہیں ہے۔ سوزوکی والوں نے یہاں سیفٹی سٹینڈرز پر جھوٹ بولا۔ آپ شاید پہلی بار کمیٹی اجلاس میں آئے ہیں، یہاں جھوٹ نہیں بولا جا سکتا۔ یہاں ایف آئی اے اور نیب دونوں موجود ہیں۔ غلط بیانی پر آپ کو ان کے حوالے کیا جا سکتا ہے اور ان کا حساب کتاب بہت اچھا ہوتا ہے۔ اس وارننگ کو سنجیدہ لیں اور آئندہ کمیٹی کے سامنے غلط بیانی سے کام نہ لیں۔‘
نمائندہ سوزوکی نے کہا کہ ’سوزوکی کمپنی نے ابھی تک پاکستان میں انجن بنانا شروع نہیں کیے۔ کمیٹی نے کہا کہ ’پاکستان میں ہر دوسرا بندہ سوزوکی خرید رہا ہے اور آپ نے ابھی تک یہاں پر انجن بنانا شروع نہیں کیے۔ انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ والے تنخواہیں لے رہے ہیں اور بڑے بڑے دفاتر ہیں، کچھ نہیں کر رہے۔‘  
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ آٹو موبائلز ایک مافیا ہے۔ 75 برسوں سے اب تک یہاں انجن کیوں نہیں بن سکے؟ نور عالم خان نے کہا کہ2010  میں ان کمپنیوں نے پی اے سی کو کہا تھا ہم سب کچھ مقامی سطح پر بنائیں گے جو اب تک نہ ہوا۔

اجلاس میں گاڑیوں میں سیفٹی اقدامات بھی زیر بحث آئے (فائل فوٹو: آٹو کار)

سی ای او انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ نے کہا کہ گاڑیاں کم بن رہی ہیں اس لیے مقامی مینوفیکچرنگ نہیں ہو پا رہی۔ جس پر سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ آپ کیوں نہیں ایکسپورٹ کرتے۔ آپ 22 کروڑ عوام سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ایک ارب ہو جائیں تب گاڑیاں مقامی سطح پر بنائیں گے۔  
کمیٹی نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان میں مینوفیکچر ہونے والی گاڑیاں یورو سٹینڈرز پر پورا اترتی ہیں؟ کار مینوفیکچرنگ کمپنی کی طرف سے بتایا گیا کہ تمام کمپنیاں پاکستان کے قانون کے مطابق چل رہی ہیں اور ہم ابھی یورو ٹو میں ہیں۔  
پی اے سی نے ہدایت کی کہ ای ڈی بی یورو فائیو پر عمل درآمد کرائے گا۔ 

’کار میکرز سٹینڈرز کے حوالے سے تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں‘

 اجلاس کے دوران چیئرمین پی اے سی نے پوچھا کہ سی ای او انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ آپ کتنی سیلری لے رہے ہیں؟ سی ای او ای ڈی بی نے بتایا کہ وہ 7 لاکھ روپے تنخواہ لیتے ہیں۔ جس پر چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ’آپ یورو ٹو پر بیٹھے ہیں تو سات لاکھ نہیں 60 ہزار تنخواہ لینی چاہیے۔‘  
چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ’اگر کار مینوفیکچررز کی طرف سے کوئی دباؤ آیا تو میں سب کو ایکسپوز کروں گا، میڈیا کو بھی بتاؤں گا۔ تمام متعلقہ وزارتیں یورو فائیو سمیت گاڑیوں کے دیگر سیفٹی سٹینڈرز پرعمل درآمد کرائیں۔ کارمینوفیکچررز کے سی ای اوز اربوں روپے پاکستان سے کماتے ہیں لیکن کمیٹی میں نہیں آئے۔ میں سی ای اوز کو بلانے کیلئے خصوصی اقدامات بھی کر سکتا ہوں۔ میں وارنٹ ایشو کر سکتا ہوں۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی یورو فائیو سٹینڈر پر کام کرے۔ سیفٹی سٹینڈرکے حوالے سے سائنس و ٹیکنالوجی والے کام کریں۔  
حکام وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے بتایا کہ ’جب بھی کوئی سٹینڈر بناتے ہیں اس کے لیے سٹیک ہولڈرز کو بلانا لازمی ہوتا ہے۔ آٹو سیکٹر سٹینڈرز کے حوالے سے تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں۔ ‘
 پی اے سی نے ہدایت کی کہ گاڑیوں میں ایئر بیگ سمیت تمام سیکیورٹی فیچرز یقینی بنائے جائیں۔ 15، 20 لاکھ روپے میں ایسی گاڑیاں دیتے ہیں جس کے معمولی سے حادثے میں بھی لوگوں کی اموات ہو جاتی ہیں۔

چیئرمین پی اے سی نے کہا ’امریکہ اور یورپ کے ساتھ قیمتوں کا موازنہ کیا جاتا ہے لیکن  سیفٹی فیچرز کا موازنہ نہیں کیا جاتا‘ (فائل فوٹو: ڈیلی کارز)

’امریکہ اور یورپ کے ساتھ قیمتوں کا موازنہ کیا جاتا ہے لیکن  سیفٹی فیچرز کا موازنہ نہیں کیا جاتا۔‘
’کمیٹی نےآڈیٹر جنرل آٹو سیکٹرکے اکاؤنٹ اور پروڈکشن کیپسٹی چیک کریں۔‘
کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے سی ای اوز، کسٹم حکام، انجنیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ اور دیگر اداروں کو طلب کرتے ہوئے گاڑیوں کے سیفٹی سٹینڈرز، ٹیکس معاملات اور دیگر امور پر بریفنگز طلب کر لیں۔  

شیئر: