Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چترال میں شادی،غیرمقامی افراد کو ’چال چلن کا سرٹیفیکٹ‘ لانا ہوگا

حالیہ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ بہت سارے غیر مقامی افراد بھی چترال میں شادی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا  کے ضلع چترال میں شادی کے لیے اب کریکٹر سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوگی۔
اب شادی کے خواہشمند لڑکے کو  تھانے سے اپنے نیک چال چلن کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔
 واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں ڈیڑھ برس قبل اس حوالے سے ایک قرارداد منطور کی گئی تھی۔
ضلع چترال اپنے قدرتی حسن اور منفرد ثقافت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں کے لوگ بھی اپنی خوش اخلاقی اور سادگی کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں دیکھا گیا کہ بہت سارے غیر مقامی افراد بھی چترال میں شادی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ان شادیوں سے جڑے متعدد ناخوشگوار واقعات رپورٹ بھی ہوئے۔
شادی شدہ چترالی خواتین پر تشدد، ان کے قتل اور جنسی استحصال جیسے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان پے در پے واقعات کے بعد چترال میں سول سوسائٹیز اور عوامی نمائندوں نے مل کر شادی کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت محسوس کی۔
اس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی اور چترال کے ایم پی اے وزیرزادہ نے 26 اپریل 2021  ایک  قرار داد خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کی جسے اسمبلی نے منظور کر لیا تھا۔
اس قرارداد میں ایک ضابطہ طے کیا گیا جس کے تحت کسی بھی غیرمقامی شخص کو چترال میں شادی کے لیے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لینا پڑے گی یعنی لڑکے کو اپنے ضلع کے پولیس افسر سے کلیئرنس سرٹیفکیٹ لانا ہوگا جس میں چال چلن،کریمینل ریکارڈ  اور دیگر تفصیلات شامل ہوں گی۔
لوئر چترال کی ڈسٹرکٹ پولیس افیسر سونیا شمروز نے اردو نیوز کو بتایا کہ پہلے غیرمقامی افراد کو شادی سے روکنے میں بہت مسائل تھے یعنی قانونی طور پر آپ کسی کو شادی سے نہیں روک سکتے تھے مگر ضلعی سطح پر مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کافی حد تک ایسے رشتوں کو روکا گیا۔


ڈی پی او سونیا شمروز نے بتایا کہ ’صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور ہونے کے بعد ہم نے این او سی لینا لازمی قرار دیا ہے۔‘
’لڑکے کے چال چلن اور خاندان  کا ریکارڈ اور اس کی تصدیق متعلقہ ضلعی پولیس افسر کرتا ہے  جس کے بعد یہ لیٹر چترال کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر کے پاس آتا ہے۔ اگر لڑکے کی رپورٹ تسلی بخش ہوتی ہے تو ہم شادی کی اجازت دیتے ہیں۔‘
ڈی پی او نے بتایا کہ ’یہاں کے لوگ غریب اور سادہ ہیں۔ ماضی میں دیگر شہروں سے لوگوں نے آ کر شادیاں کیں مگر ان کے نتائج بھیانک نکلے۔‘ 
انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع چترال میں خواتین کی خودکشی کے واقعات بھی بہت ہوتے تھے مگر اب خواتین کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے جہاں ان سے متعلق شکایات اور ان پر فوری کارروائی ہوتی ہے۔

’لڑکیوں کے والدین کی بھی کوتاہی ہے‘

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر اپر چترال منظور آفریدی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’انتظامیہ کسی بھی شہری کو اپنی بیٹی کو پنجاب یا دیگر شہروں میں شادی سے منع نہیں کر سکتی البتہ مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر جانچ پڑتال ضرور کرتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ایک دن ہمیں اطلاع ملی کہ این او سی کے بغیر ایک فیملی شادی کرنے کے مقصد سے چترال آئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے افسران نے ان کو نہ صرف روکا بلکہ متعلقہ ضلع سے کریکٹر سرٹیفکیٹ لانے کا کہا، جس کے بعد اس فیملی نے ہدایات پر عمل کیا۔‘
منظور آفریدی نے بتایا کہ ’اس معاملے میں یہاں کے والدین کی  کوتاہی بھی ہے کہ وہ بغیر تصدیق کے اپنی بیٹی کا ہاتھ کیوں دیتے ہیں۔‘
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی وزیر زادہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ شادی سے متعلق قرارداد کو منظور ہوئے 18 ماہ گزر چکے ہیں۔ اس پر کافی حد تک عمل درآمد ہورہا ہے تاہم مزید سختی کی ضرورت ہے۔

تحریکِ تحفظِ حقوقِ چترال کے چیئرمین پیر مختار کے مطابق قانون کو مزید سخت بنانا ہوگا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

وزیرزادہ نے بتایا کہ حال ہی میں کیلاش کی خاتون کا قتل پشاور میں ہوا جو کہ افسوس ناک ہے۔ اس کیس کی تفتیش میں مقتولہ کے شوہر کے بارے میں بہت سے انکشافات ہو رہے ہیں۔ اگر اس قرارداد کے تحت ملزم کی تصدیق ہو جاتی تو یہ لڑکی قتل نہ ہوتی۔‘
تحریکِ تحفظِ حقوقِ چترال کے چیئرمین پیر مختار کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی سے پاس شدہ قرار دار صرف کاغذات کی حد ہے۔ اس پر عمل کوئی نہیں کر رہا۔
پیر مختار نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اب بھی بہت سی شادیاں این او سی کے بغیر ہو رہی ہیں۔ انتظامیہ کو خبر ہونے کے باوجود کچھ نہیں ہوتا۔ ہماری بیٹیوں کو شادی کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے حقوق پامال کیے جاتے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔‘
’اس قانون کو مزید سخت بنانا ہوگا تاکہ کوئی ہماری بیٹیوں پر تشدد کا سوچ بھی نہ سکے۔‘
پیر مختار نے کہا ’ہم غیرمقامی کی چترال سے شادی کے خلاف نہیں۔ کئی لڑکیاں بہت سے اچھے گھرانوں میں بیاہی گئی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لڑکے والوں کی تصدیق ہو۔‘
دعوت عزیمت چترال کی تنظیم خصوصی طور پر چترال میں شادیوں سے متعلق مسائل پر کام کرتی ہے۔ اس تنظیم کے سربراہ جاوید خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ چترال میں پہلے سے جرگے کے تحت ایک طریقہ کار وضع کیا گیا تھا جس کو لاگو کرکے ہم نے کئی جعل ساز لوگوں کو یہاں شادی کرنے سے روکا۔ 
جاوید خان نے کہا کہ ’اگر قرارداد پر عمل درآمد ہو جائے تو اس کے اچھے نتائج نکلیں گے۔‘
 

شیئر: