Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور میں بینک سے رقم نکوالنے والے ہی ڈاکوؤں کے نشانے پر کیوں؟

رواں سال بینک سے نکلتے ہوئے شہریوں سے ڈکیتیوں کے ایک ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں (فائل فوٹو: اے پی پی)
لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں سہ پہر کو محمد عاطف نامی شہری بینک سے 25 لاکھ روپے کی رقم لے کر نکلا تو اس نے یہ اطمینان کرلیا کہ کوئی اسے کوئی غور سے دیکھ تو نہیں رہا۔ اس کے بعد وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا لیکن دفتر جاتے ہوئے ہوئے اس کا دھیان مسلسل اپنے پیچھے آتی ہوئی ٹریفک پر تھا۔
اپنے دفتر کے قریب پہنچ کر محمد عاطف نے سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ اس کے دونوں اطراف دو موٹر سائیکل آکر رکے اور ایک خاتون نقاب پوش نے اس پر پستول تان لیا۔ جبکہ دو دیگر مسلح افراد نے اس سے گاڑی کے شیشے کھلوا کر رقم کا بیگ چھینا اور پلک جھپکتے ہی فرار ہو گئے۔ جب محمد عاطف کے حواس بحال ہوئے تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
محمد عاطف جو کہ ایک کاروباری شخص ہیں اور وہ امپورٹ ایکسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’میرے دل میں عجیب سا خدشہ تھا۔ اس سے پہلے بھی میں نے بڑی دفعہ رقم نکلوائی یا جمع کروائی لیکن اس طرح کا خوف محسوس نہیں ہوا۔ پہلے کبھی ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس دفعہ بھی میں کوئی ایک گھنٹہ بینک کے اندر رہا اور میں نے اپنے ارد گرد خوب دھیان رکھا۔ باہر نکل کر بھی کوئی ایسی غیر معمولی حرکت نظر میں نہیں آئی۔ معلوم نہیں میرے دفتر کے قریب ہہنچتے ہی ڈاکو کہاں سے نکل آئے۔‘
پولیس نے محمد عاطف کے بیان پر ایف آئی آر درج کر لی ہے اور ارد گرد لگے سی سی ٹی کیمروں میں بھی کچھ فوٹیج بن گئی تاہم ابھی تک پولیس ڈاکوؤں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔
اسی سے ملتے جلتے واقعات آئے روز لاہور میں دیکھے جا رہے ہیں۔ صرف منگل کے روز دو واقعات پیش آئے۔ 
ٹاؤن شپ کے علاقے میں شہری 12 لاکھ روپے لے کر بینک سے نکلا تو ڈاکوؤں نے رقم چھین لی۔ اسی طرح ہربنس پورہ میں ناصر نامی شہری سے ایک لاکھ روپے اس وقت چھین لیے گئے جب وہ بینک کی اے ٹی ایم سے نکل رہے تھے۔
لاہور پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال بینک سے نکلتے ہوئے شہریوں سے ڈکیتیوں کے ایک ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جو کہ گذشتہ برس کی نسبت 40 فیصد زیادہ ہیں۔
لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق ’پولیس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر واقعے کا مقدمہ بغیر کسی تاخیر کے درج ہو۔ اسی وجہ سے مجموعی طور پر کرائم کی رپورٹنگ زیادہ ہے کیونکہ اب ایف آئی آر فوری درج ہوتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ پولیس نے ڈکیتی کے کیس حل نہیں کیے۔ صرف ایسے کیسز جہاں شناخت کا مسئلہ درپیش ہو وہاں تاخیر ہو جاتی ہے۔‘

پولیس کے مطابق زیادہ تر وارداتوں میں قریبی لوگ ملوث ہوتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ترجمان کے مطابق عام طور پر ایسے کیسز میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کوئی جاننے والا ہی آخر میں ملزم نکل آتا ہے۔ ’پولیس نے حال ہی میں ایک کیس حل کیا ہے جس میں ڈاکو اصل میں اسی کمپنی میں کام کرنے والا تھا لیکن اس کو پتا تھا کہ اتنے بجے کیشیئر رقم لے کر آئے گا۔ اس کے دوستوں نے راستے میں ہی کیشیئر کو لوٹ لیا۔ یہ ملزم اس وقت خود کمپنی آفس کے اندر تھا، لیکن موبائل فون کے استعمال سے اسے پکڑ لیا گیا۔‘
کیا کرائم رپورٹنگ زیادہ ہونے کی وجہ سے جرائم زیادہ ہو رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب فوجداری مقدمات کے ماہر اور سپریم کورٹ بار کے سابق سیکریٹری شمیم ملک یوں دیتے ہیں کہ ’اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ اب ایف آئی آر درج کروانا پہلے سے بہت آسان ہے۔ بلکہ اب تو جھوٹی ایف آئی آر کو خارج کروانا ایک عذاب بن چکا ہے۔‘
شمیم ملک نے کہا کہ ’میڈیا میں ہمیشہ اس حوالے سے بہت رپورٹ ہوتا رہا ہے کہ مقدمہ درج نہیں ہوا۔ اس لیے سسٹم کو اتنا دبایا گیا ہے کہ اب ایف آئی آر تو فوری ہو جاتی ہے لیکن دیگر معاملات جیسا کہ ان مقدمات کی درست تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری یہ دونوں مسئلے ابھی تک جوں کے توں ہیں۔‘

شیئر: