یوم صحافت

کرۂ ارض پر سچ کی جستجو میں، ابن آدم کی توقیر کے علمبردار ، انسانیت کا پرچم سربلند رکھنے والے قلم کی حرمت کے پاسبان باکردار صحافیوں کو مبارکباد!
- -- - - - - - - -
جاوید اقبال
- - - - - - - -
پھر یوں ہوا کہ اراضی اور تعمیر شدہ مکانات کی خرید و فروخت کا کاروبار کرنیوالی ملک کی سب سے بڑی کمپنی کے مالک کے دل میں مصنف بننے کا سودا سمایا۔ نیم خواندہ تھا، تحریر کی باریکیاں کیسے سمجھتا۔ ایک صحافی کو پکڑا گیااور بھاری معاوضے پر اسکی خدمات حاصل کی گئیں۔ نوجوان قلمکار کیلئے یہ پیشکش ایک نعمت غیر مترقبہ تھی۔ اس نے مقررہ وقت سے بھی پہلے مسودہ سیٹھ صاحب کے حوالے کردیا اور پھر اسکے دامن کی گہرائی کم پڑ گئی۔ صرف چند برس قبل 1999 ء میں اس کے پاس ایک پھٹیچر سی کھٹارا گاڑی تھی اور وہ اکثر اردو بازار سے مستعملہ کتب خریدتا تھا۔ گاڑی تبدیل ہوئی اور رہائش کیلئے اسلام آباد کے متوسط طبقے کیلئے قائم سیکٹر آئی ایٹ میں10 مرلے کا ایک گھر خریدا۔ مصنف ایک روزنامے میں شائع ہونیوالے اپنے کالموں میں صاحب ِکتاب کی حب الوطنی اور انسان دوستی کی تعریف میں رطب اللسان رہا۔ قلم کو اجرت ملی۔ آج اسکے پاس صاحبِ کتاب کی ہاؤسنگ اسکیموں میں سے چند پلاٹ ہیں۔ اس کی رہائش اب ایف ٹین سیکٹر میں ہے جو دارالحکومت کا انتہائی مہنگا علاقہ ہے اور مارگلہ ویوز میں ایک اور گھر زیر تعمیر ہے۔ 4نئی گاڑیاں ملکیت میں ہیں اور دفتر میں نصف درجن کے قریب عملہ ہر وقت انٹرنیٹ سے معلومات حاصل کرکے اسے اسکے کالموں اور ٹی وی پروگراموں کیلئے مواد فراہم کرتاہے۔ پھر ایک اور صحافی کا ذکر ہے۔ موصوف کبھی راولپنڈی کے ایک ثانوی مدرسے میں اردو کے استاد تھے۔ تحریر کو مقامی روزناموں میں جگہ ملنا شروع ہوئی۔ یک در گیرومحکم گیر کے کلئے پر عمل کرتے ہوئے ایک سیاسی جماعت کی مدح کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیا ۔ کالم لکھتے تو روزنامے کو برائے اشاعت بھیجنے سے پہلے سیاسی جماعت کے رہنما کو فیکس کرکے منظوری حاصل کرتے۔
سندِ قبولیت ملتی تو تحریر اگلے دن شائع ہوتی۔ اس غیر مشروط وابستگی کا شجر بالآخر ثمر بار ہوا۔ جب جماعت اقتدار میں آئی تو موصوف کو قصر صدارت میں مشیر اطلاعات مامور کردیا گیا۔ مالی امور بہتری کی طرف بڑھے، مکان میں تبدیلیاں لائی گئیں۔ کمرۂ نشست کا فرش شفاف شیشے کا بنایاگیا۔ اسکے نیچے آبی حوض بناکر زندہ رنگین مچھلیاں چھوڑ دی گئیں۔ کیا منظر بنا۔ مہمان اپنے قدموں کے نیچے تیرتی قوسِ قزح دیکھتے محظوظ ہوتے رہتے اور میزبان کی قسمت پر رشک کرتے ۔ جڑواں شہر راولپنڈی کی گرمی اور فضائی آلودگی اچانک اپنا احساس دلانے لگے۔ دوبارہ حکومت اپنی ہی جماعت کی بنی تو بھی مشاورت کا فریضہ سونپ دیاگیا چنانچہ آجکل دارالحکومت کی خنک فضاؤں میں رہائش ہے۔ کالم برائے اشاعت روانہ کرنے سے پہلے منظوری اب بھی لینی پڑتی ہے۔ پھر ایک اور صحافی ہیں۔ کبھی بڑے پکے جیالے تھے۔ اشتراکیت کے علمبردار تھے۔ کمال کی انگریزی لکھتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ہراول دستے میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ پیپلز پارٹی پر ابتلاء کا وقت آیا توانہوں نے بھی اپنا رخ تبدیل کرلیا۔ غیر مشروط وفاداری نبھائی چنانچہ ایک کھیل کے امور منظم کرنے کی اہم ذمہ داری انہیں دیدی گئی۔
کچھ عرصے کے بعد صوبے کا اہم ترین عہدہ بھی انہیں مل گیا۔ میڈیا پر حاوی ہوگئے۔ ایک چڑیا پال لی جو اندر کی خبر نکال لاتی اور ان کے کان میں ڈال دیتی۔ اپنے اوپر لگنے والے الزاموں کو پرکاہ کی اہمیت بھی نہیں دیتے۔ کروڑوں کے مالک ہیں۔ اپنا ایک مجلہ بھی شائع کرتے ہیں۔ کہاں روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے اور کہاں آج کے عیش و اقتدار ! سورج مکھی کے پھول کی مانند آفتاب کے ساتھ ساتھ چہرہ گھومتا ہے۔ پھر ایک اور ہیں۔ کبھی ایک سیاسی جماعت کی آنکھ کا تارا تھے۔ اسکے صحافتی کاروان کے سپہ سالار تھے۔ جماعت کی نظریاتی اٹھان میں اہم کردار ادا کیا۔ پھر جب جماعت ایوان اقتدار سے باہر ہوئی تو حریف سیاسی جماعت کا در پکڑ لیا۔ بہت مقبولیت تھی۔ حکمرانوں کی تقاریر تحریر کیا کرتے لیکن جب اس جماعت پر مشکل وقت آیا تو فوراً علیحدگی اختیار کرلی۔زیادہ تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود مقبول کالم نویس رہے۔
آجکل اکھاڑے سے باہر ہیں…کس کس کا ذکر کیا جائے؟ ایک اورہیں۔ ایک مطلوب عرب رہنما کا انکی پناہ گاہ میں انٹرویو کیا۔ ملاقات کی تصویر منظر عام پر آئی تو امریکہ اور یورپ میں خصوصاً مقبولیت کا گراف اوپر اٹھا۔ بعد کے برسوں میں انکی حب الوطنی پر ہمیشہ سوال اٹھتے رہے۔ بنگلہ دیش کی پاکستان دشمن وزیراعظم حسینہ واجد کے ہاتھوں اسکے ملک کا " تمغۂ آزادی" وصول کیا، خصوصاً اُن دنوں جب وہ خاتون جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پاکستا ن سے پیا ر کرنے کی پاداش میں سزائے موت دے رہی تھی اور جبکہ بنگلہ دیش کے کیمپوں میں محصور بہار ی پاکستانی بنگالیوں کے ظلم و ستم کا شکار ہورہے تھے ۔ ہمارے اس صحافی نے حسینہ واجد سے مبینہ " اعزاز ـ " وصول کرتے وقت اسے اشارتاً بھی نہ کہا کہ وہ کم ازکم بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہ کرے۔ ہماری صحافت کونسا موڑ مڑ گئی ہے؟ عرصہ ہوا میں نے کسی ابراہیم جلیس کو نہیں پڑھا۔ برسوں گزر ے کسی ابن انشاء کی تحریر نظر سے نہیں گزری! کسی احمد ندیم قاسمی کی دلکش نثر نہیں دیکھی! کسی انتظار حسین کے قلم کا سحر نظرنواز نہیں ہوا۔ کوئی جمیل الدین عالی اپنی دلفریب منظوم نثر کیساتھ شائع نہیں ہوا۔ ارشاد احمد حقانی جیسا پھر کوئی نہ آیا۔ واشنگٹن پوسٹ میں 58 برس تک شہرہ آفاق کالم نگار آرٹ بکوالڈ کی تحریر شائع ہوتی رہیں۔ بے لاگ تبصرے! امریکی صدر کو بھی نہ بخشتا! طنز کا نشتر بے رحمی سے چیرتا پھاڑتا رہا۔ ذیابیطس کے باعث اسکی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی تھی۔ 2 بار نسیان کے حملے ہوئے لیکن زندگی بھر کی جمع پونجی آبائی مکان ہی رہا۔ وہیں مرا۔ 7 جنوری 2007 ء کو اس کا آخری کالم اسکی خواہش پر پس ازمرگ شائع کیاگیا۔ آرٹ بکوالڈ کے الفاظ تھے: قارئینِ کرام! میں آرٹ بکوالڈ آپ سے مخاطب ہوں۔ میںآپ کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ میں مرچکا ہوں۔ دنیا کی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک مقبول ترین کالم لکھنے والا صحافی جب مرا تو ترکے میں کچھ نہ تھا۔ اور ہمارے صحافی! شیشے کے فرش تلے تیرتی ہفت رنگ مچھلیوں کی قوس قزح، اراضی، اراضی، اراضی ، گاڑیوں کا کاروان گھر کی چمک دمک میں اضافہ کرتا اور مدح میں سیاہ کئے گئے کاغذوں کے رِم!
کرۂ ارض پر سچ کی جستجو میں، ابن آدم کی توقیر کے علمبردار ، انسانیت کا پرچم سربلند رکھنے والے قلم کی حرمت کے پاسبان باکردار صحافیوں کو مبارکباد! اُن کی عمر دراز کیلئے دعا! کہ آج عالمی یوم صحافت ہے!!

شیئر: