Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا معاہدہ

معاہدے میں ریاستوں کی خودمختاری اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنا شامل ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب اور ایران جمعے کو کئی برسوں کی کشیدگی کے بعد سفارتی تعلقات دوبارہ بحال کرنے اور دو ماہ کے اندر ایک دوسرے کے ملک میں اپنے اپنے سفارت خانے کھولنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔
سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ’یہ پیش رفت عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ کے شاندار اقدام اور سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان اچھے تعلقات کے فروغ کے لیے چین کی حمایت کے جواب میں ہوئی ہے۔‘
’تینوں ممالک نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ایک معاہدہ ہو گیا ہے۔‘
سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس میں ان کے درمیان سفارتی تعلقات کو دوبارہ شروع کرنے اور دو ماہ کی مدت کے اندر اپنے سفارت خانے اور مشن دوبارہ کھولنے کا معاہدہ شامل ہے، اور اس معاہدے میں ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی تصدیق شامل ہے۔‘
دونوں ممالک نے اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے کہ دونوں کے وزرائے خارجہ اس معاہدے پر عمل درآمد، اپنے سفیروں کی واپسی کے انتظامات اور دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے طریقوں پر بات چیت کے لیے ملیں گے۔

معاہدے کے متن کے مطابق ریاض اور تہران سنہ 2001 میں ہونے والے سکیورٹی تعاون کے معاہدے اور سنہ 1998 میں ہونے والے تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے معاہدے کو بھی فعال کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔
معاہدے پر ایران کی جانب سے اعلٰی سکیورٹی عہدیدار علی شمخانی اور سعودی عرب کے مشیر قومی سلامتی مساعد بن محمد العيبان نے دستخط کیے۔

شیئر: