Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جوڑ توڑ کے ماہر‘ پرویز خٹک کسی رہنما کو قائل کرنے میں ناکام کیوں؟

پرویز خٹک نے رواں برس 17 جولائی کو اپنی نئی جماعت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
پاکستان تحریک انصاف کے سابقہ رہنما پرویز خٹک کی سربراہی میں بننے والی نئی جماعت تین ماہ کے دوران کسی بڑی سیاسی شخصیت کو اپنے ساتھ شامل نہیں کر سکی ہے۔
سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے رواں برس 17 جولائی کو نئی جماعت پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز (پی ٹی آئی پی) کے قیام کا اعلان کیا تھا جس میں سابق وزیراعلٰی خیبر پختونخوا محمود خان سمیت پی ٹی آئی کے سابق اراکین اسمبلی شامل ہوئے مگر اس کے بعد ان کے قافلے میں شامل ہونے والوں میں کوئی بڑا نام سامنے نہ آ سکا۔
پرویز خٹک نے پارٹی کے قیام کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس الیکٹیبلز کی لمبی فہرست موجود ہے جو جلد پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کا حصہ بنیں گے تاہم پارٹی کے قیام کے تین ماہ گزرنے کے بعد نہ ہی پی ٹی آئی کا کوئی رہنما شامل ہوا اور نہ کسی دوسری جماعت کی سیاسی شخصیت پرویز خٹک کے ساتھ چلنے کو رضامند ہوئی۔

پی ٹی آئی پی کے لگاتار جلسے

پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز نے خیبر پختونخوا میں عوامی رابطہ مہم کا اعلان کر کے مختلف اضلاع میں جلسے شروع کیے۔ صرف ستمبر کے مہینے میں پانچ اضلاع میں جلسوں کا انعقاد کیا گیا، سب سے پہلا جلسہ آٹھ ستمبر کو مانسہرہ میں کیا گیا اس کے بعد ڈی آئی خان میں 14 ستمبر کو عوامی جلسہ ہوا۔ پرویز خٹک اور محمود خان نے 22 ستمبر کو سوات میں جلسہ کیا جبکہ ناران کے علاوہ ضلع کوہاٹ میں بھی جلسہ منعقد کیا گیا۔

کیا جلسے کامیاب ہوئے؟

پرویز خٹک کی سربراہی میں نئی پارٹی نے صوبے میں ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں جلسہ کیا۔
ترجمان پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز ضیا اللہ بنگش نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ان کا ہر جلسہ توقعات سے زیادہ کامیاب رہا، جہاں گئے لوگوں نے پرویز خٹک کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔‘
’پی ٹی آئی پی خیبر پختونخوا کی مقبول جماعت بننے جا رہی ہے۔‘
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے جلسوں کو فلاپ شو قرار دیا۔

پرویز خٹک کی سربراہی میں نئی پارٹی نے صوبے میں ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں جلسہ کیا۔ (فائل فوٹو: اے پی)

پی ٹی آئی پی کے شمولیتی پروگرام کو بریک کیوں لگی؟

اس حوالے سے ضیا اللہ بنگش نے موقف اپنایا کہ ’پرویز خٹک کی اپنی سیاسی حکمت عملی ہے وہ ہر سیاسی رہنما کو پارٹی میں شامل کرنے کے خواہاں نہیں، پارلیمنٹیرینز جماعت کو الیکٹیبلز کی ضرورت ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سوات میں جو رہنما ہماری پارٹی میں شامل ہوئے وہ گذشتہ انتخابات میں دوسری پوزیشن پر تھے۔ ان کے حلقے میں ووٹ بنک موجود ہیں۔ اسی طرح ہر ضلع سے ان معروف شخصیات کو شامل کیا گیا ہے جن کی پوزیشن حلقے میں بہتر ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ضلع بنوں میں 23 اکتوبر کو جلسہ کرنے جا رہے ہیں جس میں سید قیصر عباس شامل ہونے جا رہے ہیں جن کا ایک سیاسی بیک گراؤنڈ ہے۔
ضیا اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ لکی مروت میں سلیم سیف اللہ خاندان سے اتحاد ہو گیا ہے۔ اسی طرح متعدد سیاسی رہنما ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں۔

کیا پی ٹی آئی کے رہنما بھی شامل ہوں گے؟

پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے تمام سابق وزرا یا اراکین اسمبلی کو شمولیت کی دعوت نہیں دی، جن کا اپنا ووٹ بنک ہو صرف انہیں شامل کیا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں سے بات چیت چل رہی ہے، امید ہے کچھ دنوں میں وہ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔‘

کیا پرویز خٹک کی پارٹی کسی بڑے سیاسی رہنما کو شامل کرنے میں کامیاب ہو گی؟

خیبر پختونخوا کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی صفی اللہ گل نے کہا کہ ’پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کو صوبے کی بڑی جماعت نہیں کہا جا سکتا البتہ وہ الیکشن میں کچھ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو جائے گی، جیسا کہ پرویز خٹک اپنے حلقے سے جیت جائیں گے اور اسی طرح سابق وزیراعلٰی محمود خان اپنے کاموں کی وجہ سے انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔‘

ضیا اللہ بنگش نے کہا کہ ’پرویز خٹک کی اپنی سیاسی حکمت عملی ہے وہ ہر سیاسی رہنما کو پارٹی میں شامل کرنے کے خواہاں نہیں۔‘ (فائل فوٹو: یوٹیوب)

انہوں نے بتایا کہ پرویز خٹک الیکٹیبلز کی مدد سے اسمبلی تک پہنچ جائیں گے۔ بعض اوقات چند سیٹوں کے ساتھ پارٹی حکومت میں آ جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’شروع میں پی ٹی آئی کے چند رہنماؤں نے سوچا تھا مگر سیاسی منظر نامے کو دیکھتے ہوئے انہوں نے پرویز خٹک کے قافلے میں شمولیت کا فیصلہ ترک کر دیا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کو شاید الیکشن میں موقع مل جائے کیونکہ ابھی تک پی ٹی آئی پر بطور جماعت پابندی نہیں لگی۔‘
’پی ٹی آئی کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہوا ہے۔ اکتوبر کا مہینہ بہت اہم ہے اس میں سب کچھ واضح ہوجائے گا۔‘

شیئر: