کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس کی ایک مسجد میں تعزیت ہورہی تھی جب عبداللہ کو ویل چیئر پر لایا گیا۔ چار دن ہسپتال میں بستر پر پڑے رہنے کے بعد علاج مکمل ہونے پر اسے ہسپتال سے گھر کے بجائے سیدھا مسجد لایا گیا، جہاں عبداللہ کو پہلی بار یہ معلوم ہوا کہ اس سانحے نے اس کے گھر کے تین افراد کی زندگیاں چھین لی ہیں جس میں وہ خود شدید زخمی ہوئے تھے۔
بھائی، کم سن بھتیجے اور بھانجے کی ناگہانی موت کا اچانک پتہ چلنے پر وہ جذبات پر قابو نہ پاسکے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئے۔ عبداللہ کے جسم پر زخم تھے، ایک ہاتھ اور پاؤں بری طرح متاثر تھے مگر یہ صدمہ ان کے لیے ان زخموں سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔ انہیں اس بات کا بھی دکھ ہے کہ ’گھر سے تین جنازے اٹھے مگر وہ کسی کا آخری دیدار تک نہ کرسکا۔‘
ان کے بزرگ والد حاجی علی محمد، جو خود بیماری اور بڑھاپے کی وجہ سے بمشکل چلتے ہیں، بیٹے کو سنبھالنے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ ان کی ہمت بندھاتے رہے کہ یہ خدا کی آزمائش ہے اور صبر ہی واحد راستہ ہے۔
مزید پڑھیں
31 جنوری کو بلوچستان کے بارہ سے زائد شہروں میں یکے بعد دیگرے درجنوں حملے ہوئے جن کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی۔ حملوں کے دوران سرکاری دفاتر، تھانوں، بینکوں، ایف سی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیاجس کے نتیجے میں شہری علاقے بھی زد میں آئے۔ دھماکوں، فائرنگ اور جھڑپوں نے کئی شہروں میں جنگ جیسے حالات پیدا کر دیے۔
اردو نیوز کی جانب سے پولیس، ایف سی، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اور ہسپتالوں سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق 31 جنوری سے 3 فروری کے دوران بلوچستان میں کم از کم 52 عام شہری ہلاک ہوئے۔ ان میں نوشکی کے 15 (بشمول ایف سی کے سویلین اہلکار)، کوئٹہ کے 14، گوادر کے 12، خاران کے 7، کیچ کے 3 اور مستونگ کا ایک شہری شامل ہے، جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ پولیس اورسکیورٹی اہلکاروں کی اموات اس کے علاوہ ہیں۔
حکومت نے 36 سویلین اور 22 اہلکاروں کی ہلاکت جبکہ فوج نے کارروائیوں میں 216 حملہ آوروں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔
پولیس کے مطابق اس ایک دن میں صرف کوئٹہ میں کم از کم 14 شہری مارے گئے۔ ان میں متاثرین میں کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس خلجی ٹاؤن کے حاجی علی محمد کا خاندان بھی شامل ہے۔
جب اردو نیوز کی ٹیم 75 سالہ حاجی علی محمد کے پاس پہنچی تو وہ مسجد میں تعزیت لے رہے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس سانحے میں ان کا بیٹا محمد حنفیا، 12 سالہ پوتا ثناء اللہ اور 14 سالہ نواسا ثناء محمد مارے گئے جبکہ تین بیٹے اور دو بھتیجے شدید زخمی ہوئے جن میں سے تین اب بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ان کے مطابق واقعے والے دن گھر کے نوجوان باہر کھڑے یہ مشورہ کر رہے تھے کہ کام پر نکلیں یا نہیں کیونکہ گھر کے قریب مشرقی بائی پاس کی مرکزی سڑک پر شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آرہی تھیں۔
’میں مسجد کی طرف گیا ہی تھا کہ ایک بڑا دھماکا ہوا۔ واپس پہنچا تو ہم پر یہ کالی رات یہ سانحہ نازل ہوچکا تھا۔ گھر کے سامنے خون میں لت پت لاشیں اور زخمی پڑے تھے۔‘
یہ منظر سناتے ہوئے علی محمد ضبط نہیں کرسکے۔ انہوں نے بتایا کہ محمد حنفیا کا جسم دھماکے کی شدت سے ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ وہ اسے خدا کی آزمائش سمجھ کر صبر کرنے کی کوشش کرتے رہے اور بار بار کہتے رہے کہ یہ سب خدا کی طرف سے تھا، ہمیں قبول ہے۔
محمد حنفیا کے چچا زاد بھائی محب اللہ کے مطابق پوراعلاقہ جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا، فضا میں ہیلی کاپٹر گشت کر رہے تھے اور لوگ خوف کے باعث گھروں سے نکلنے سے ڈر رہے تھے۔ اسی دوران ایک گولہ آ کر ان کے گھر کی دیوار پر لگا جس کی زد میں وہاں کھڑے تمام لوگ آگئے۔ کوئی پتہ نہیں چلا کہ گولہ کہاں سے آکر گرا اور کس نے مارا۔
انہوں نے کہا کہ ’واقعہ کی جگہ پر بہت دردناک مناظر تھے۔ حنفیا کی موقع پر ہی موت ہوگئی باقی زخمیوں کو ہم نے مسلسل گولیوں کی بوچھاڑ میں ہسپتال پہنچایا لیکن دو بچے راستے میں جان کی بازی ہار گئے۔‘
انہوں نے بتایا کہ چھ بچوں کا باپ محمد حنفیا چند روز قبل دبئی سے آیا تھا اور دوبارہ جانے کی تیاری میں تھا۔ اس نے 4 فروری کی واپسی کی ٹکٹ بھی خرید رکھی تھی جبکہ اس کے 14 سالہ بھانجے کو والدہ نے بھائی کے پاس کچھ عرصہ پہلے پشین سے بھیجا تھا تاکہ وہ کام سیکھ سکے اور گھر کا سہارا بن سکے مگر موت نے دونوں کو مہلت نہ دی۔

محب اللہ نے بتایا کہ ’حنفیا کا جسم چونکہ بری طرح مسخ ہوچکا تھا اور حالات بھی انتہائی خراب تھے، اوپر سے بارش بھی ہورہی تھی۔ اس لیے ہم اسے ہسپتال لے جانے سے قاصر رہے اور فوری طور پر ہی ان کی تدفین کردی جس کی وجہ سے سرکاری ریکارڈ میں نام شامل نہ ہوسکا۔‘
علاقے کے سابق رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے کا کہنا ہے کہ ’اس خاندان میں تین اموات اور پانچ زخمی ہیں لیکن سرکاری ریکارڈ میں صرف ایک نام درج ہوا ہے، وہ بھی غلط۔‘
ان کے مطابق اس غلطی کی وجہ سے خاندان سرکاری امداد، اموات کے پیکج اور دیگر قانونی حقوق سے محروم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ تمام متاثرہ خاندانوں کا درست اندراج کیا جائے تاکہ انہیں مالی مدد مل سکے۔
’بیٹا دو گھنٹے سڑک پر تڑپتا رہا، کوئی نہ آیا‘
اس روز کوئٹہ کے دیگر علاقوں میں بھی شہری نشانہ بنے۔ ریلوے کالونی کا 24 سالہ محمد صدیق گھر سے کام پر جاتے ہوئے زرغون روڈ پر گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور ریلوے میں ملازمت کرنے والے اپنے بوڑھے والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے ایک بیکری میں کام کرتا تھا۔
صدیق گھر سے نکل کر زیادہ دور نہیں پہنچا تھا کہ حملہ آوروں کی فائرنگ کا شکار ہوگیا اور سڑک پر شدید زخمی حالت میں گرگیا۔ اس کے والد محمد جاوید کے مطابق ’ بیٹا دو گھنٹے تک سڑک پر پڑا تڑپتا رہا لیکن نہ ایمبولنس پہنچی نہ پولیس۔‘

محمد جاوید نے بتایا کہ انہوں نے متعدد بار پولیس اور ایمبولنس کو فون کیا مگر ہر بار جواب ملا کہ علاقے میں دہشت گرد موجود ہیں اور مسلسل فائرنگ کے باعث کوئی رسائی ممکن نہیں۔ ’آخرکار ہم خود گولیوں کے درمیان پہنچے ، بیٹے کو اٹھایا اور گلیوں کے راستے ہسپتال لے گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال پہنچتے ہی انہوں نے ڈاکٹروں سے بیٹے کی جان بچانے کے لیے بہت منت سماجت کی لیکن انہوں نے کہا کہ بہت دیر ہو چکی ہے، صدیق زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ چکا تھا۔ وہ روتے ہوئے کہتے رہے کہ اگر بروقت مدد مل جاتی تو ان کا بیٹا، ان کا سہارا، آج زندہ ہوتا
سول ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے مطابق اس روز شہر کے مختلف علاقوں سے 31 لاشیں اور 43 زخمی لائے گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ کئی زخمیوں کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ انہیں کس سمت سے گولی لگی۔
محمود الرحمان کی عید کے بعد شادی تھی
28 سالہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمود الرحمن بازئی بھی سریاب روڈ پر گشت کے دوران حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک ساتھی پولیس اہلکار سمیت جان سے گئے۔ محمود الرحمن کے بھائی احمد الرحمان بتاتے ہیں کہ ’وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ شہید ہوں گے۔ شاید یہ ان کی خواہش تھی جو پوری بھی ہوگئی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ہمیں اپنے بھائی کی موت پر فخر ہے انہوں نے اپنے لوگوں اور شہر کا دفاع کرتے ہوئے جان دی۔‘
انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال نومبر میں محمود الرحمان کا رشتہ طے ہوا تھا اور عید کے بعد ان کی شادی تھی۔
’ہم شادی کی تیاریاں کررہے تھے۔ بھائی کے مطابق محمود الرحمان ایک قابل انسان تھے۔ انہوں نے اے ایس آئی کی نوکری بھی پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے حاصل کی تھی۔ وہ سی ایس ایس کی تیاری بھی کر رہے تھے۔ ان کا کمرہ کتابوں سے بھرا رہتا تھا، مگر ان کے سارے خواب ادھورے رہ گئے۔‘

کانسٹیبل شہزاد خان: 20 دن پہلے والدہ وفات ہوئی، 21 ویں دن والدہ کے پہلو میں سپرد خاک
پولیس کانسٹیبل شہزاد خان کی کوئٹہ میں ڈی ایس پی کی گاڑی پر ہونےوالے حملے میں موت ہوئی۔ وہ دو کم عمر بیٹیوں اور ایک ڈیڑھ سالہ بیٹے کے باپ تھے۔ ان کے بھائی سرفراز کے مطابق بیس روز قبل ہی والدہ کا انتقال ہوا تھا اور انہیں اسی کے پہلو میں دفنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے بھائی کی شہادت پر فخر ہے اور مجھے یقین ہے والدین بھی فخر محسوس کرتے ہوں گے کہ ان کا بیٹا ملک کے لیے جان دے گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خاندان کے کئی افراد پہلے ہی پولیس میں ہیں۔ ہمارے حوصلے پست نہیں، ہم آئندہ بھی اپنے بچوں کو اسی راستے پر بھیجیں گے۔‘
نوشکی: ایک ہی خاندان کے پانچ افراد لقمہ اجل بن گئے
نوشکی میں حملے سب سے شدید تھے جہاں خودکش دھماکوں اور جھڑپوں کے ساتھ ساتھ کئی سرکاری عمارتوں، تھانوں، جیل اور ایف سی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا اور تین دن تک جھڑپیں جاری رہیں۔ ایف سی ہیڈ کوارٹر پر ہونےوالے حملے میں خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کے گاؤں شادی خیل سے تعلق رکھنے والا پورا خاندان اجڑ گیا۔
خاندان کے مطابق مفتی امشد علی خان گزشتہ سولہ برس سے ایف سی میں خطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے اور رہائشی کوارٹر میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے۔
مفتی امشد علی خان کے بھائی ناصر خان نے کرک سے ٹیلی فون پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’ایف سی کیمپ پر حملے کے دوران دہشت گردوں نے رہائشی کوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا اور اندھا دھند فائرنگ کی جس سے مفتی امشد، ان کی اہلیہ، دو بیٹے سولہ سالہ حافظ محمد طلحہ، پندرہ سالہ حافظ محمد عمر اور چار سالہ بیٹی انیقہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ ان کی ایک تیرہ سالہ بیٹی شدید زخمی ہوئی۔‘
ان کے مطابق بھائی کے خاندان میں صرف سات سالہ بیٹا ہی معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔

خاندان کے مطابق انہیں میتیں تین دن تک نہیں مل سکیں اور راستے بند ہونے کی وجہ سے چوتھے بعد بدھ کی شام کرک میں آبائی گاؤں شادی خیل پہنچایا گیا۔ ناصر خان نے شکوہ کیا کہ ’اہم شخصیات کے لیے ہیلی کاپٹر موجود ہوتے ہیں لیکن عام لوگوں کی میتوں کو چار دن بعد پہنچایا گیا جو خاندان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ ہم نے اتنے دن انتظار میں کیسے گزرے یہ آپ اندازہ نہیں کرسکتے۔‘
ناصر خان نے کہا کہ ’ہم کیسے اپنا دکھ بیان کریں۔ جس گھر سے پانچ جنازے نکلیں، اس پر کیا گزرتی ہے یہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ گھر میں خواتین نوجوان بزرگ سب غم سے نڈھال ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو بچوں اور خواتین تک کو نشانہ بناتے ہیں؟ اس کی کونسی مذہب، دین یا قوم کی روایات میں اجازت ہے؟
ناصر خان کے مطابق مفتی امشد کراچی کے احسن العلوم سے فاضل تھے۔ وہ خوش آواز قاری تھے اور اپنی طرح اپنے بچوں کو بھی ایک اچھا عالم دین بنانے کی خواہش رکھتے تھے۔ اس لیے دونوں بڑے بیٹوں کو قرآن کا حافظ بنایا۔وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے حوالے سے پر امید تھے لیکن دہشتگردوں نے اس اندھے تشدد کے ذریعے نہ صرف ایک باپ کی امیدیں بلکہ ایک پورے خاندان کے خواب اور خوشیاں بھی ہمیشہ کے لیے چھین لیں۔












