Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غیرمنصفانہ ٹرائل: جب بلاول بھٹو سپریم کورٹ میں آبدیدہ ہو گئے

بدھ کو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے نو رکنی لارجر بینچ کی جانب سے متفقہ رائے دینے کے موقعے پر اسلام آباد کے ڈی چوک میں بھیڑ معمول سے کچھ زیادہ تھی۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ سنانے کا وقت ساڑھے 11 بجے مقرر کر رکھا تھا لیکن اس سے کافی دیر پہلے ہی پیپلز پارٹی کے رہنما عدالت عظمٰی پہنچنا شروع ہو گئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرادری مقررہ وقت پر عدالت پہنچے تو کمرہ عدالت کے باہر سکیورٹی کا عملہ چوکس ہو گیا اور کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔
اگرچہ شاہراہ دستور اور اس کے سامنے ڈی چوک پر ٹریفک کافی زیادہ تھی مگر خلاف توقع سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں زیادہ لوگ موجود نہیں تھے اور کافی نشستیں خالی تھیں۔
عام طور پر سپریم کورٹ کے بڑے مقدمات کے فیصلوں کے لیے دیے گئے وقت سے ججز  تاخیر سے آتے ہیں لیکن اس ریفرنس کا فیصلہ سنانے کے لیے نو رکنی بینچ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں ساڑھے گیارہ سے تھوڑی ہی دیر بعد آ گیا اور جونہی بلاول بھٹو سامعین کی پہلی صف کے درمیان والی نشست پر بیٹھے، چیف جسٹس بھی ساتھی ججز کے ساتھ آ گئے۔
انہوں نے ریفرنس پر رائے پڑھنے سے پہلے واضح کیا کہ یہ متفقہ رائے ہے اور جو رائے وہ دینے جا رہے ہیں وہ سب ججوں کی رائے ہے۔
اس کے بعد چیف جسٹس نے رائے دینا شروع کی اور صدارتی ریفرنس میں اٹھائے گئے تمام پانچ سوالات کے فرداً فرداً جوابات دیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ متفقہ اور سب ججوں کی رائے ہے۔ (فوٹو: سکرین گریب)

چیف جسٹس نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل فوجی حکومت میں ہوا تھا لیکن سپریم کورٹ کو نظرثانی کا ریفرنس ان کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھیجا گیا۔ اور بعد میں آنے والی کسی حکومت حتٰی کہ حال ہی میں سبکدوش ہونے والی نگراں حکومت نے بھی اس کو واپس نہیں لیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس ریفرنس پر رائے لینے کی خواہش اجتماعی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو آئین کے مطابق شفاف ٹرائل نہیں ملا۔ رائے پڑھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ اس رائے کو اردو زبان میں بھی جلد جاری کر دیا جائے گا جس کے ساتھ ہی بینچ برخاست ہو گیا۔
ریفرنس پر رائے کے بعد کمرہ عدالت میں موجود صحافی بات کرنے کے لیے بلاول بھٹو کی طرف لپکے تو ان کے ساتھ موجود لوگوں نے بتایا کہ بلاول باہر جا کر میڈیا سے بات کریں گے۔
اس دوران بلاول واضح طور پر جذباتی محسوس ہوئے اور ان کی آنکھوں میں نمی دیکھی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگا لیا لیکن ان کے چہرے پر جذبات کا اتار چڑھاؤ صاف نظر آ رہا تھا۔
کمرہ عدالت سے باہر جاتے ہوئے بھی بلاول کافی مضطرب تھے اور لمبی اور گہری سانسں لے رہے تھے تاہم بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وہ پر سکون نظر آئے۔

بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ کی رائے کو تاریخی قرار دیا۔ (فوٹو: سکرین گریب)

پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے عدالت کا فیصلہ کمرہ عدالت کے مرکزی دروازے کے پاس کھڑے ہو کر سنا اور وہ بھی کچھ بے چین نظر آئے۔
پیپلز پارٹی کے کئی دوسرے رہنما میڈیا سے گفتگو میں آج کے دن کو ایک بڑا دن اور جمہوریت اور بھٹو کی فتح کا دن قرار دے رہے تھے۔
تاہم رائے کے اعلان کے بعد جو جملہ تقریباً سارے صحافی، پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور بیشتر وکیل بول رہے تھے وہ یہ تھا کہ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ ’وہ بھٹو کے قتل کے واقعے کو واپس پلٹ اور ختم نہیں کر سکتے۔‘

شیئر: