حکومتیں مہمان ہوتی ہیں، مہمان کو برا نہیں کہنا چاہئے

ہم میزبان، مہمان کی خاطر کرنے اور انکے غیر ملکی اکاؤنٹ بھرنے کیلئے زندہ ہیں
* * * *صبیحہ خان۔ کینیڈا* * * *
موجودہ دور کے گمبھیر اور ناگفتہ بہ حالات میں آخرانسان کس طرح جیئے ۔ بات پھر وہی آجاتی ہے کہ ہمارے ہاتھ میں کوئی ایسا اختیار نہیں کہ حالات کو صحیح رخ پر لاسکیں۔ بس لے دے کر حالات سے مفاہمت کرنا ہی آتی ہے۔ فیروز الغات اٹھاکر دیکھیں’’ الف سے ی‘‘ تک ہزاروں الفاظ ، ہزاروں معنی ،سیکڑو ںمحاورے اور ضرب الامثال ملیں گی مگر مفاہمت ہی ایک لفظ ہے جو بچاسکتا ہے کیونکہ کسی ایسے مرحلے پر جہاں آپ نے مفاہمت کی تو جان کے لالے پڑ سکتے ہیں۔ دیکھیں نا یہ مجبوری والی مفاہمت کہ جیسے ہی ڈاکو بندوق نکالتا ہے، لوگ اپنا مال واسباب اس کے حوالے کردیتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے مگر لوگ لوڈ شیڈنگ کے ساتھ بھی مفاہمت کر رہے ہیں۔
لالٹین ، موم بتی اور دیگر ذرائع استعمال کررہے ہیں مگر مفاہمت جاری ہے ۔ مہنگائی غریب آدمی کا خون چوس رہی ہے مگر غریب کیا کرے، اس نے اپنا اور اپنے کنبے کا پیٹ تو بھرنا ہے اس لئے وہ مہنگا آٹا، دال بھی جیسے تیسے خریدنے پرمجبور ہے۔ ہمارے بعض بااختیار صاحبان نے ملک کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،چونکہ سب کو اپنا مفاد عزیز ہے اس لئے مفاہمت جاری ہے۔ اس مفاہمتی پالیسی کا ایک اور اہم نکتہ بڑا اہم ہے کہ بڑے دست شفقت رکھے رہتے ہیں۔ چھوٹے ایک دوسرے کے بخیئے ادھیڑتے رہتے ہیں ۔ بڑے دست شفقت ہٹاتے نہیں، چھوٹے راہ راست پر آتے نہیں۔ ذرا گھر سے نکل کر باہر مفاہمتی پالیسی کے کرشمے دیکھیں ۔ اڑوس پڑوس، آمنے سامنے، ادھر اُدھر کے سب گھر ، کوئی کسی گھر کے آگے کچرا ڈالے یا کسی کا پرنالہ موجیں مارے ۔ کوئی شیشہ توڑے کوئی آنکھ پھوڑے، سب اچھا ہے۔ وہ ہمارے یہاں ناشتے پر ، ہم ان کے یہاں کھانے پر۔
سب محلے میں ایک دوسرے سے شاکی مگر باہم شیروشکر ، سب اچھا ہے ۔ واہ ری مفاہمتی اور سمجھوتے والی پالیسی۔ افسر اور ماتحت کی مفاہمتی پالیسی کے باعث رشوت اور بے ایمانی پھل پھول رہی ہے ۔مفاہمتی پالیسی سے کھانے پینے ،پہننے اوڑھنے ، لین دین جاری و ساری رکھنے کے ہزار فائدے ہیں۔ ہمارے ہاںبجٹ آنے کی دھوم تھی۔ لو جی بجٹ آگیا، کھودا پہاڑ نکالا مہنگائی کا موٹا چوہا۔ تمام اعدادوشمار ، تبصرے ، تجزیے اپنے اختتام کو پہنچے اور خوش گمانیاں ہائے ہائے کرتی رخصت ہوگئیں۔ میاں کی تنخواہ کے جس اضافے پر ہم پھولے نہیں سما رہے تھے، وہ مہنگائی کے مقابلے میں اشک بلبل ثابت ہوئی۔ بھئی ہم کاروباری ہیں نہ صنعت کار اور نہ ہی سرمایہ دار، ڈیوٹی اور ٹیکس وغیرہ کی ذرا سی بھی سمجھ نہیں ۔بس بجٹ سننے کا کچھ شوق تھا تاکہ ہم آٹے دال کا بھاؤجان سکیں اور سمجھ سکیں کہ گھی، دودھ اور گوشت کی قیمتیں کتنی نیچے آئیں۔ پٹرول سستا ہوا یا مزید مہنگا ہوگیا؟ بدقسمتی سے ہر سال کی طرح امسال بھی سارے سوالوں کا جواب توقع کے برعکس ملا ۔
خوشی ملی تو صرف اتنی کہ یہ انکشاف ہوا کہ پاکستان کے کروڑوں عوام میں سے نہیں بلکہ چیدہ چیدہ خواص میں سے ہیں کیونکہ کئی مہینوں سے سن رہے تھے کہ یہ بجٹ عوام دوست ہوگا۔ اس بجٹ سے عام آدمی کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بجٹ نے چونکہ ہماری زندگی پر بہت اثرات ڈالے ہیں تو ثابت ہوگیا کہ ہم عوام میں سے نہیں بلکہ خواص میں سے ہیں۔ جب روزمرہ اشیاء کی قیمتیں دوبارہ معلوم کیں تو گردن کا کلف خود بہ خود نکل گیا۔ آخر کیا کیا جائے ۔ حکومت کو برا بھلا کہنے کا کیا فائدہ۔
ویسے بھی حکومتیں مہمان ہوتی ہیں اور مہمان کو برا نہیں کہنا چاہئے۔ ہم ٹھہرے میزبان، ہم مہمان کی خاطر تواضع کرنے اور ان کے غیر ملکی اکاؤنٹ بھرنے کیلئے زندہ ہیں۔ اس لئے عوام تو پہلے ہی غیر ملکی قرضوں اور ٹیکسوں کے بوجھ سے ادھ موئے ہو چکے ہیں۔ غریب عوام کا فرض ہے کہ وہ جاگیرداروں، وڈیروں ، سرمایہ داروں اور صاحبان کو ٹیکس پروف مخلوق سمجھتے ہوئے خود بے چون و چرا ٹیکس ادا کریں۔خود وہ خواہ جئیں یا مریں۔ اب ہمارا کام یہ ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت کچھ ایسا کریں کہ لوگ عش عش کر اٹھیں۔ پہلی بات تو یہ کہ عورت میں یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ جلد حالات سے سمجھوتہ کرنے اور مفاہمت سے کام لینے کے فن سے اچھی خاصی واقف ہوتی ہے۔
آخر عورت ہی اپنی عقل اور سلیقہ مندی سے گھر کو گل زار بنا تی ہے تو کیو ں نہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اخراجات کچھ ایسے کم کئے جائیں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو اور لوگ بلاوجہ کنجوس کا خطاب نہ دے پائیں۔اس کے لئے سب سے پہلے اپنے اُن ہزاروں ارمانوں اور خواہشوں کا گلا گھونٹنا بے حد ضروری ہے جو میڈیا کی سجی سنوری میزبان خواتین کو دیکھ کر آپ کے دل میں پیدا ہوتی ہیں کیونکہ مہنگائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب جتنی چادر اتنے ہی پاؤں پھیلانے والا عیش نہیں کیا جا سکتاچنانچہ پیروں کو جتنا سکیڑ سکتے ہیں سکیڑیں، خواہ اس کے لئے آپ کو گٹھڑی ہی کیوں نہ بننا پڑے۔
گھریلو بجٹ بنائیں جس کا بڑا حصہ کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے پر خرچ ہوجاتا ہے۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ کھایا پیا مٹی اور نیا نویلا پرانا ہوجاتا ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ کھانے پینے اور بلاضرورت نئے نویلے کپڑوں، آسائشوں اور گھر کے سامان پر پیسہ خرچہ کریں۔ ہمیںکفایت شعاری کے ذریعے مہنگائی سے مفاہمت کرنی ہے۔ ہر چیز میں کفایت شعاری ہوگی تب ہی زندگی کی گاڑی چل سکے گی۔ یہاں تک کہ ملنے جلنے میں بھی کفایت شعاری برتنی ہوگی اور اس سلسلے میں ون وے ٹریفک کے اصول پر چلنا ہوگا یعنی مہمانوں کو گھر بلانا بالکل ختم، کیونکہ اس میں سراسر اسراف ہوگا البتہ وقتاً فوقتاً یعنی آئے روز دوسروں کے گھر جانے میں کوئی حرج نہیں ۔
اس سلسلے میں تھوڑی سی ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ جیسے ہی گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوتی ہیں، سارے رشتے دار اور احباب اپنے بچوں کی چھٹیاں رنگین تر بنانے اور دوسروں کی چھٹیاں بدرنگ کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر دوسرے شہر میں رہنے والی نند یا دیگر سسرالی رشتہ دار آپ کو فون کریں اور خلاف توقع نہایت خوش اخلاقی کا اظہار کریں تو سمجھ جائیں کہ دال میں کالا ہے۔ اس لئے پیشگی بہانے گھڑ کر رکھیں کہ ان چھٹیوں میںآپ اپنی بھابی کے پاس شکر پڑیاں جارہی ہیں اور خبردار اپنی بھابی کو اپنے ارادوں کی بھنک بھی نہ ہونے دیں،کہیں وہ آپ کے لئے سوا سیر نہ ثابت ہوں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے، بنیادی ضروریات زندگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
اب زندگی ہوا، پانی ، غذا، بہترین لباس، بجلی ، ٹیلیفون ، موبائل فون اور سواری کے بغیر بے کار ہے۔ ہمارے کرتا دھرتاؤں کی پوری کوشش ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو ناپید کردیں جن کے سہارے لوگ خوشحال زندگی گزار سکیں۔ وہ تو قدرت کی مہربانی سے جی رہے ہیں ورنہ صاحبان کا بس چلے تو وہ عوام کے سر سے آسمان کھینچ لیں، سورج کی روشنی سے محروم کردیں، جو بادل برس کر پانی مہیا کرتے ہیں ان کا داخلہ بھی ملک میں ممنوع کردیں کیونکہ عوام تو مضر صحت اور آلودہ پانی صبر سے پی کر جی ہی رہے ہیں۔ دوسری جانب بے چارے صاحب ثروت لوگ ، منرل واٹر سے استفادہ کرنے پر مجبور ہیں۔
بہرحال ہوا اور پانی چاہے آلودہ ملے یا مضر صحت،یہ دونوں چیزیں جیسے تیسے مل تورہی ہیںناں؟ اب آتی ہے غذا تو وہ دن بدن اتنی مہنگی ہوتی جارہی ہے کہ غریب آدمی کا تین وقت پیٹ بھرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ بکرے اور گائے کے گوشت کی قیمت نے آسمان سے باتیں کرنا شروع کیں تو لوگوں نے مرغی کھانا شروع کردی ۔ بہتر ہے کہ ان تینوں قسم کے گوشت سے جان چھڑا لی جائے ۔ دالیں اور سبزیاں کھائیں اور جان بنائیںیعنی خرچ بھی کم اور صحت بھی اچھی۔ آجکل ویسے بھی چائنیز کھانوں کا فیشن ہے جن میں سبزیاں زیادہ استعمال ہوتی ہیں اور سوپ کبھی لوکی ، کبھی ٹنڈے یا گاجر کا۔ دودھ بھی آجکل نایاب ہوتا جارہا ہے۔
عوام کی قوت خرید سے دور۔ غریب نے مہنگا ہونے کے باعث گائے کاگوشت کھانا چھوڑ ا ہی تھا ،وہ دودھ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔ ہم آپ کے سچے ہمدرد ہیں اس لئے جانتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں بہت سے غم ہیں ا س لئے بکری پالنے کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ بچت کرنے کا ایک طریقہ ڈائٹنگ بھی ہے۔ ہاتھ زیادہ تنگ ہو تو فاقے کرنا شروع کردیں۔ جیسا کہ ہمارے صاحبان بھی چاہتے ہیں۔ اس سے آپ فیشن ایبل کہلائیں گے۔ اگر پلاؤ کھانے کو دل چاہے تو خیالی پلاؤ جتنا چاہیں پکائیں، کوئی پابندی نہیں۔
چینی مہنگی ہے، خرید نہیں سکتے تو نکتہ چینی سے کام چلائیں۔ مفاہمت یہی ہے کہ اس چینی سے جان چھڑائیں ، عام آدمی کو یہ فضول خرچی زیب نہیں دیتی، اسے صرف خواص کیلئے رہنے دیں۔مہینے کے آخر میں جب دال بگھارنے کیلئے گھی نہ ہو تو شیخی بگھارنا شروع کردیں ۔ ان حالات میں بھی کوئی مہمان ’’مفلسی میں آٹا گیلا ‘‘کرنے آجائے تو دل پر جبر کرکے ایک مرغی منگوا لیں مگر اس مہنگے گوشت کو ذہانت سے استعمال کریں۔ سب سے پہلے اس مرغی کا سوپ بنائیں، خود پئیں ، بچوں کو پلائیں۔ اب ان اُبلی ہوئی بوٹیوں کا قورمہ یا بریانی بنالیں ۔ اس کے لئے آپا خیرن کی ترکیب آزمائیں جو اس کڑاکے کی مہنگائی میں اعلیٰ قسم کے کھانوں کی ترکیبیں بتاکر غریب عوام کا دل جلاتی ہیں۔ رہا لباس کا مسئلہ تو یہاں بھی آپ کی مفاہمت اور کاریگری کام دکھائے گی۔
آجکل کے دور میں لباس کا مسئلہ برگر طرز زندگی اپنانے سے حل ہوسکتا ہے یعنی بچوں کو نیکر بنیان میں رکھیں اور میاں صاحب کو بھی دو تین برمودے اور عجیب و غریب کارٹون والی شرٹس دلا دیں۔یہی کافی ہے۔ اس سے ایک پنتھ دو کاج والا معاملہ ہوگا۔ آپ کی بچت کو لوگ امیرانہ ٹھاٹ باٹ کہیں گے۔ اب رہا بناؤ سنگھار تو کیا ضرورت رنگین مٹیوں سے اپنا چہرہ رنگنے کی ۔ دل کو حسد وبغض، حرص و نقل سے پاک رکھیں پھر دیکھیں چہرے پر کیسی رونق اور شادابی آتی ہے جو مستقل چہرے پر رہے گی جبکہ میک اپ کی تہ اترتے ہی اجڑی شکل سامنے ہوگی۔ اچھائیوں سے مفاہمت بڑی دیرپا ثابت ہوتی ہے۔

شیئر: