صعدہ کے پہاڑ وں میں قطرکی کہانی

صعدہ کے قصبے میں حوثی باغیوں کے قدم مضبوط کرنے کا قطری مقصد یہ تھا کہ وہاں ایران کے کردار کو مستحکم کیا جائے
* * * * * فہد طالب الشرفی* * * * *
(  یمنی صحافی )
2007 ء کی دوسری ششماہی کی بات ہے جب یمن میں جنگ اپنے عروج پر تھی اور قریب تھا کہ حوثی باغیوں پر ضرب کاری لگاتے ہوئے مقررہ اہداف حاصل کر لئے جاتے ۔ یمنی فوج کے چاق و چوبند دستے " مطرہ " کے دروازوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ "مطرہ " جو حوثی باغیوں کی مرکزی قیادت کیلئے 2005 ء سے انتہائی اہم پناہ گاہ اور مرکز تھا ، اس وقت کے معروف عسکری قائد بریگیڈئر جنرل ثابت مثنی جواش کی قیادت میں ( جنرل جواش جنوبی علاقے کا عسکری قائد ہے جس نے مران کی پہاڑیوں میں حوثی سر دار حسین بدر الدین کا خاتمہ کیا تھا ) 15 ویں چھاپہ مار بریگیڈ نے اس علاقے کا محاصر ہ کر کے حوثیوں کو گھیر لیاتھا ۔ یہ وہی جری اور ناقابل فراموش بریگیڈ تھی جس نے یمنی قبائل میں بغاوت کی آگ کو سرد کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور حوثی باغیوں کو دکھیلتے ہوئے سرحد ی پٹی تک محدود کر دیاتھا۔ اس مقام کے عقب میں جبل عزان واقع ہے جو ان باغیوں کی آخری اور انتہائی اہم پناہ گاہ مانی جاتی تھی ۔
یمنی فوج ہدف کے انتہائی قریب پہنچ چکی تھی اور قریب تھا کہ مران کے علاقے میں ہونے والی کہانی دہرائی جاسکے ۔ اس دوارن کمانڈر جواش نے اپنے بریگیڈ کے ساتھ مکمل طور پرساز و سامان سے آراستہ ہو کر محاذ جنگ کی جانب بڑھا اور حوثی رہنما عبدالملک جو مطرہ کے پہاڑی سلسلے کے کسی غار میں چھپا ہوا تھا کے سر پر پہنچ گیا ۔ یہ وہ وقت تھا جو حوثیوں پر انتہائی بھاری تھا۔ اس بارے میں مجھے ایک واقف کارنے بتایا جو حوثی قائدعبدالملک کا انتہائی قریبی مانا جاتاتھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ وقت ان پر بہت گراں تھا جب مران میں انہیں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اپنے بانی رہنما کو کھودیا ۔
اس کاکہنا تھا کہ اس و قت حوثی باغیوں کے پاس ایمونیشن مکمل طور پر ختم ہو چکاتھا۔ کلاشنکوف کے 5 راؤنڈز تک نہ تھے ۔ ایسے میں وہ اپنے تاریک مستقبل کاسوچ کر پریشان ہو رہے تھے۔ باغیوں کو یہ فکر تھی کہ گرفتاری کی صورت میں انکے ساتھ کیا ہوگا ؟ یہ وہ وقت تھا جب یمنی فوج اور عوام جشن فتح منانے کی تیاریاں کرنے لگے تھے مگر اچانک غیر متوقعہ تبدیلی رونما ہوئی ۔( حوثیوں کیلئے ) ایرانی نجات دہندہ نمودار ہوا جو قطری لبادے میں تھااور اس نے اپنے مشن جس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے ،پر عمل شروع کر دیا ۔ وہ سیاہ شام کبھی اہل صعدہ کے ذہنوں سے مٹ نہ سکے گی جب محاذ پر موجود عسکری قیادت کے کنٹرول روم کو پیغام ملا کہ انتہائی اہم مذاکرات شروع ہونے جارہے ہیں اس لئے محاذ کو مکمل طور پر سیز کر تے ہوئے تمام فوجی کارروائیاں روک دی جائیں ۔
یہ احکامات فوجی جوانوں پر بجلی بن کر گرے اور جو کامیابیاں انہوں نے حاصل کی تھیں ، وہ انہیں خاک میں ملتی ہوئی دکھائی دینے لگیں۔ جن معرکوں میں انہوں نے 5 ماہ کی قربانیوں کے بعد نمایاں کامیابی حاصل کی تھیں اور اس میں صعدہ کے لوگوں کی بھی مثالی قربانیاں شامل تھیں جو انہوں نے وطن اور اہل وطن کے لئے پیش کی تھیں ۔ نئی پیدا ہو نے والی صورتحال میں سب کی سب رائیگاں جاتی دکھائی دے رہی تھیں۔ سیز فائر کے احکامات نے سب کو حیرت زد ہ کر دیا تھا کیونکہ کامیابی کے اتنے قریب پہنچ جانے کے بعد یہ احکامات کس طرح صادر کئے جاسکتے ہیں۔ اندیشوں کے طوفان سب کے ذہنوں کو تہہ و بالا کر رہے تھے ۔ سیز فائر نے مختلف خدشات کو جنم دیا کیونکہ کامیابی کی آخری حد کے قریب پہنچتے ہی اچانک سیناریو تبدیل کردیا جائے تو ان لوگوں کاکیا حال ہو گا جو اس عرصے میں قربانیاں دے چکے تھے ۔ سیز فائر کی کارروائی دراصل فساد برپا کرنے اور بغاوت پھیلانے والے ان تاجروں کی تھی جو خطے میں طہران کے افکار کو رائج کرنے کے خواہاں تھے ۔
جو شر او ر فساد پھیلانے کے ماہر تھے ۔ درحقیقت اس طرح کی کارروائیاں قومی خیانت کے زمرے میں آتی ہیں۔ قطر نے اس دن سے ثابت کر دیا تھا کہ وہ درحقیقت یمنی قومی حکومت کا دشمن اور ایران کا حلیف ہے ، اس نے حوثی باغیوں کی درپردہ پشت پناہی کی جن کے ہاتھ سیکڑوں بے گناہ اور معصوم شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ،جنہوں نے خطے میں امن کو تہ و بالا کیا اور تمام حدود وقیود کو پامال کیا ۔ سیز فائر کے احکامات دراصل وہ گھناونی سازش تھی جو ایرانیوں کے ساتھ مل کر رچائی گئی تھی ۔
قطر نے خود کو ثالث کے طور پر پیش کیا جسے یمنی حکومت نے قطر کی سادگی اور دوست نوازی سمجھ کر قبول کیا ۔ قطریوں نے اعلان کیا کہ حوثی غیر مسلح ہونے اور یمنی حکومت کو تسلیم کرنے پر راضی ہیں ،وہ مصالحت کی جانب بڑ ھ رہے ہیں لیکن درپردہ ڈرامہ کچھ اور ہی رچایا جارہا تھا ۔ دوسری جانب قطری کمیٹی نے اپنے سفارتکار " ابو عینین " کی سربراہی میں مقررہ منصوبے پر عمل شروع کر دیا تھا جس کاحقیقی مقصدمذاکرات کی آڑ میں حوثیوں کو کمک پہنچانا اور انہیں موقعہ فراہم کرناتھا کہ وہ اس اثناء میں تازہ دم ہو جائیں ۔ قطری کمیٹی نے مذاکرات کی آڑ میں جو کھیل کھیلا اہل صعدہ اسے پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ" قطر نے ان کی قربانیوں کو درحقیقت خامنہ ای کی بھینٹ چڑھا دیا " ۔ صعدہ کے قصبے میں حوثی باغیوں کے قدم مضبوط کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہاں ایران کے کردار کو مستحکم کیا جائے ۔ جغرافیائی اعتبار سے صعدہ کاطویل پہاڑی سلسلہ سعودی عرب کے ساتھ ملتا ہے جس کا مقصد مملکت کے لئے مسلسل اور باقاعدہ مشکلات پیدا کرنا اور شیطانی منصوبوں کی تکمیل کیلئے راہ ہموارکرناہے۔
بعدازاں وقت نے ثابت کر دیا کہ مذکورہ بالا اندازے درست تھے ۔ ان علاقوں سے مملکت کی جانب بلیسٹک میزائل کا داغاجانا اور دیگر کارروائیاں ان کے عزائم کا واضح ثبوت ہیں ۔ قطری رویہ اس پر ختم نہ ہوا بلکہ اس نے اپنے مالی وسائل صعدہ کے قبائل اور فوج کو خریدنے کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیئے ۔ قطری سفارتکار " ابو عینین " ہفتوں حوثی باغی رہنما" علی ناصر قرشہ" اور بین الاقوامی سطح پر معروف اسلحہ کے تاجر"فارس مناع " کے گھرمیں ہفتوںمقیم رہتا جہاں سے وہ اپنے منصوبوں پرعملدرآمد کرواتا ۔ ابو عینین بظاہر ثالث کے طور پر ان افراد سے ملاقات کررہا ہوتا تھا مگر درپردہ وہ اپنے منصوبے پر کام کررہا تھا جس کا اصل ہدف حوثیوں کی قوت میں اضافہ کرنا اور ان کیلئے زیادہ سے زیادہ وفاداریا ں جمع کرناتھا جس کانتیجہ 2008-09 ء کے پانچویں معرکے میں سامنے آیا جس میں 2 ماہ سے کم عرصے میں صعدہ کے90 فیصد علاقے پر حوثیوں نے کنٹرول سنبھال لیا جو قطری ہمنوائی سے قبل محض 2 فیصد علاقے پر بھی قابض نہیں ہو سکے تھے ۔ اس موضوع پر تفصیلی بحث اور وسیع تحقیق کی ضرورت ہے ۔ میں نے جو کچھ بیان کیا وہ صعدہ قصبے کے بیٹے کی یاداشت تھی جسے ذہن نے آج تک حافظے سے نہیں مٹایا۔ وہ یادیں صرف میرے ہی نہیں صعدہ کے باسیوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں جو ان ایام میں وہاں تھے اور شعور رکھتے تھے ۔

شیئر: