Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

واشنگٹن پوسٹ میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں کا خاتمہ، سی ای او ول لیوس مستعفی

جمعرات کو واشنگٹن پوسٹ کے ہیڈکوارٹر کے باہر سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا (فوٹو: اے ایف پی)
واشنگٹن پوسٹ نے سنیچر کو اعلان کیا کہ اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور پبلشر ول لیوس فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل ہی اخبار نے بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، جس پر قارئین اور صحافتی حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔
ارب پتی بزنس مین اور ایمیزون کے بانی جیف بیزوس کی ملکیت میں موجود اس تاریخی اخبار کو گذشتہ کئی برسوں سے مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ امریکہ بھر میں اخبارات کو گرتی ہوئی آمدنی اور سبسکرپشن میں کمی جیسے مسائل درپیش ہیں، تاہم ول لیوس کے دو سالہ دورِ قیادت کے دوران کیے گئے فیصلوں پر ملازمین اور سبسکرائبرز کی جانب سے سخت تنقید کی گئی۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ مالی خسارے کم کرنے میں ناکام رہے اور ادارتی اقدار کو بھی نقصان پہنچا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ول لیوس کی جگہ جیف ڈی آنوفریو کو نیا سی ای او اور پبلشر مقرر کر دیا گیا ہے، جو اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹمبلر کے چیف ایگزیکٹو رہ چکے ہیں اور گذشتہ برس پوسٹ میں چیف فنانشل آفیسر کے طور پر شامل ہوئے تھے۔ عملے کو بھیجی گئی ایک ای میل میں ول لیوس نے کہا کہ ’میرے لیے اب الگ ہو جانا درست وقت ہے۔‘
بدھ کے روز اعلان کردہ چھانٹیوں میں سینکڑوں صحافیوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا، جن میں غیرملکی، مقامی اور سپورٹس رپورٹرز کی اکثریت شامل ہے۔ اگرچہ اخبار نے سرکاری طور پر تعداد ظاہر نہیں کی، تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 800 میں سے 300 صحافیوں کو نکال دیا گیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات پوری ٹیم اور یوکرین میں کییف سے رپورٹنگ کرنے والے نمائندے کو بھی فارغ کر دیا گیا۔
ان اقدامات کے خلاف جمعرات کو واشنگٹن پوسٹ کے ہیڈکوارٹر کے باہر سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ادارتی عمل میں مداخلت، خصوصاً صدارتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک امیدوار کی حمایت روکنے کے فیصلے، نے اخبار کی ساکھ اور مالی حالت کو مزید نقصان پہنچایا۔
اخبار کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر مارٹی بیرن نے ان چھانٹیوں کو ’واشنگٹن پوسٹ کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کمزور ہوتا ہوا میڈیا جمہوری نظام میں احتساب کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔

 

شیئر: