حماس ہتھیار ڈالے گی نہ غزہ میں کسی غیرملکی مداخلت کو قبول کرے گی: خالد مشعل
حماس ہتھیار ڈالے گی نہ غزہ میں کسی غیرملکی مداخلت کو قبول کرے گی: خالد مشعل
اتوار 8 فروری 2026 16:09
خالد مشعل نے بورڈ آف پیس پر زور دیا کہ وہ ایک ’متوازن حکمتِ عملی‘ اپنائے، جس کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور وہاں کے تقریباً 22 لاکھ باشندوں تک امداد کی ترسیل ممکن ہو۔ (فوٹو: اے اے)
حماس کے ایک سینیئر رہنما نے کہا ہے کہ فلسطینی اسلامی تحریک نہ تو اپنے ہتھیار ڈالے گی اور نہ ہی غزہ میں کسی غیرملکی مداخلت کو قبول کرے گی، یوں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے مطالبات کو مسترد کر دیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو دوحہ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ ’مزاحمت، اس کے ہتھیاروں اور اسے انجام دینے والوں کو مجرم قرار دینا ایسی بات ہے جسے ہم قبول نہیں کر سکتے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جب تک قبضہ موجود ہے، مزاحمت بھی موجود رہے گی۔ قبضے کے تحت رہنے والی اقوام کے لیے مزاحمت ایک حق ہے … اور ایسی چیز ہے جس پر قومیں فخر کرتی ہیں۔‘
خالد مشعل اس سے قبل حماس کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
حماس طویل عرصے سے اس چیز کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہی ہے جسے وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ قرار دیتی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے غزہ سے اسرائیل میں ایک مہلک حملہ کیا تھا، جس کے بعد جنگ کا آغاز ہوا۔
امریکہ کی ثالثی میں غزہ میں طے پانے والی جنگ بندی اس وقت اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس میں علاقے کو غیرفوجی بنانے، بشمول حماس کو غیرمسلح کرنے، اور اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا شامل ہے۔
حماس بارہا کہہ چکی ہے کہ غیرمسلح ہونا اس کے لیے ایک ’سرخ لکیر‘ ہے، تاہم اس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی فلسطینی حکومتی اتھارٹی کو اپنے ہتھیار سونپنے پر غور کر سکتی ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کے پاس اب بھی غزہ میں تقریباً 20 ہزار جنگجو اور لگ بھگ 60 ہزار کلاشنکوف موجود ہیں۔
غزہ کی تباہ حال پٹی میں روزمرہ انتظامی امور سنبھالنے کے لیے ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
یہ کمیٹی ’بورڈ آف پیس‘ کے تحت کام کر رہی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شروع کردہ ایک اقدام کا حصہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ’بورڈ آف پیس‘ کا اعلان کیا تھا۔ (فوٹو: روئٹرز)
ابتدائی طور پر اس بورڈ کا مقصد غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو کی نگرانی کرنا تھا، تاہم بعد ازاں اس کے دائرہ اختیار میں توسیع کی گئی، جس پر ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے متبادل ادارے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر اس بورڈ کا اعلان کیا تھا، جہاں تقریباً دو درجن ممالک کے رہنماؤں اور حکام نے اس کے قیام کے چارٹر پر دستخط کیے۔
بورڈ آف پیس کے ساتھ ساتھ ٹرمپ نے ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ بھی قائم کیا، جو فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے لیے ایک مشاورتی پینل ہے۔ اس میں امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سمیت بین الاقوامی شخصیات اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر شامل ہیں۔
اتوار کے روز خالد مشعل نے بورڈ آف پیس پر زور دیا کہ وہ ایک ’متوازن حکمتِ عملی‘ اپنائے، جس کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور وہاں کے تقریباً 22 لاکھ باشندوں تک امداد کی ترسیل ممکن ہو، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ حماس فلسطینی سرزمین پر ’غیرملکی حکمرانی‘ کو قبول نہیں کرے گی۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کے پاس اب بھی غزہ میں تقریباً 20 ہزار جنگجو اور لگ بھگ 60 ہزار کلاشنکوف موجود ہیں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
حماس کے سینیئر رہنما کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے قومی اصولوں پر قائم ہیں اور سرپرستی، بیرونی مداخلت یا کسی بھی شکل میں مینڈیٹ کی واپسی کی منطق کو مسترد کرتے ہیں۔‘
خالد مشعل نے مزید کہا کہ ’فلسطینیوں پر فلسطینی ہی حکومت کریں گے۔ غزہ وہاں کے عوام اور فلسطین کا حصہ ہے۔ ہم غیرملکی حکمرانی کو قبول نہیں کریں گے۔‘