Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طالبان رجیم نے ویسے ہی حالات پیدا کر دیے جو نائن الیون کا باعث بنے تھے: صدر آصف زرداری

صدر زرداری نے کہا کہ مشرقی ہمیسایہ علاقائی امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نےاسلام آباد میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے پر پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار پر عالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم پر زور دیا ہے۔
اتوار کو سوشل پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ ’پاکستان عالمی رہنماؤں، حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اظہارِ ہمدردی اور یکجہتی کے جذبات پر ممنون ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پیغامات اس امر کی توثیق کرتے ہیں کہ دہشت گردی اور پرتشدد نظریات کے خلاف جدوجہد مشترکہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارامؤقف بہت واضح ہے کہ کوئی ایک ملک تنہا دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پاکستان میں ہونے والے واقعات سے یہ بات ثابت ہے کہ جب دہشت گرد گروہوں کو بیرونی مدد اور سہولت کاری حاصل ہو تو اس کے نتائج  معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔‘
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بعض ہمسایہ ممالک بدقسمتی سے دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین سے پاکستان مخالف کارروائیوں  کی اجازت دے کر اس جرم میں شریک ہیں۔ ’اُن کی جانب سےمالی معاونت کے ساتھ دہشتگردوں کو تکنیکی اور عسکری وسائل بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔‘
صدرمملکت نے افغانستان کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون کی طرح یا اُس سے بھی بدتر ہیں۔ ا ُس وقت بھی دہشت گرد تنظیمیں عالمی امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی تھیں اور اس کا نتیجہ 11 ستمبر کے سانحے کی صورت میں سامنے آیا۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’پاکستان کا مشرقی ہمسایہ طالبان رجیم کی معاونت کر کے پاکستان  کے ساتھ علاقائی اور عالمی امن کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔‘
صدرمملکت  نے مشکل گھڑی میں اظہارِ ہمدردی اور تعاون پر عالمی برادری کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ امن، استحکام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعہ کو دہشت گردی کے ایک واقعے میں 32 شہریوں کی جانیں چلی گئی تھیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس واقعے کے پیچھے پڑوسی ملکوں افغانستان کی سرزمین اور انڈیا کی مالی معاونت کا الزام عائد کیا تھا۔

 

شیئر: