Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیش میں انتخابات کا چین، انڈیا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر کیا اثر ہوگا؟

پروفیسر دلور حسین نے کہا کہ ’پاکستان کے لیے کوئی بھی سیاسی اتحاد، چاہے وہ بی این پی ہو یا جماعت، مثبت ہو گا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش سنہ 2024 میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد اپنے پہلے عام انتخابات کی تیاری کر رہا ہے، اس انتخاب کا نتیجہ ڈھاکہ کے اہم علاقائی طاقتوں چین، انڈیا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
عرب نیوز کے مطابق موجودہ نگراں حکومت کے 18 ماہ کے اقتدار کے بعد 12 فروری کو تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ بنگلہ دیشی ووٹرز نئے قائدین کے انتخاب کے لیے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کریں گے۔
نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت نے طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک، جس نے شیخ حسینہ اور ان کی جماعت عوامی لیگ کے 15 سالہ دورِ حکومت کا خاتمہ کیا، کے بعد اقتدار سنبھالا۔
اقتدار کی دوڑ میں شامل 51 سیاسی جماعتوں میں سے دو بڑی جماعتیں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی ہیں۔ عوامی لیگ، جو دہائیوں تک انڈیا کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی رہی، کو سنہ 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران ہونے والے خونریز کریک ڈاؤن میں کردار کے باعث انتخابی عمل سے باہر کر دیا گیا۔ اس کریک ڈاؤن میں 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
شیخ حسینہ کے زوال اور نئی دہلی میں خود ساختہ جلاوطنی کے بعد بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی، تاہم توقع ہے کہ نئی منتخب حکومت کے قیام کے بعد یہ سفارتی تناؤ کم ہو جائے گا۔
بنگلہ دیش کے سابق سفیر برائے امریکہ ہمایوں کبیر نے بتایا کہ ’بنگلہ دیش میں جو بھی اقتدار میں آئے، ملک کے اندرونی دباؤ کے باعث انڈیا کے ساتھ تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینا ضروری ہو گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ توقع کی جا رہی ہے کہ انڈیا بھی نئی حکومت کے ساتھ روابط قائم کرے گا، تاہم وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا، اور ہمیں بھی یہی کرنا ہو گا۔ امکان یہی ہے کہ نئی منتخب حکومت کے تحت انڈیا-بنگلہ دیش تعلقات معمول پر آ جائیں گے۔‘
سنہ 2024 کے بعد انڈیا نے بنگلہ دیشی برآمدات کے لیے اپنی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے ذریعے ٹرانس شپمنٹ کی سہولت معطل کر دی، جبکہ بنگلہ دیشیوں کے لیے زیادہ تر معمول کی ویزا سہولیات بھی روک دی گئیں، حالانکہ وہ انڈیا آنے والے طبی سیاحوں کا ایک بڑا حصہ تھے۔
شیخ حسینہ کے سخت انڈیا نواز رجحان کے برعکس، عبوری حکومت نے بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کو دو دیگر اہم علاقائی کھلاڑیوں چین اور پاکستانکی جانب متوازن کرنے کی کوشش کی، جو انڈیا کے بڑے حریف بھی سمجھے جاتے ہیں۔
اگر انڈیا دوبارہ اہمیت حاصل کرتا ہے تو اس سے پاکستان کے ساتھ حالیہ توسیع شدہ تعلقات کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، جن کے ساتھ بنگلہ دیش نے بالخصوص معاشی میدان میں روابط بڑھائے ہیں اور گذشتہ ماہ 14 برس کے وقفے کے بعد براہِ راست پروازیں بھی بحال کیں۔

شیخ حسینہ کے زوال اور نئی دہلی میں خود ساختہ جلاوطنی کے بعد بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر دلور حسین کے مطابق نگران حکومت کے دور میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں جو بہتری آئی ہے، وہ کسی بھی نئی حکومت کے آنے کے بعد بھی برقرار رہے گی اور اچانک تبدیلی کا امکان نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے لیے کوئی بھی سیاسی اتحاد، چاہے وہ بی این پی ہو یا جماعت، مثبت ہو گا۔ بی این پی کے دورِ حکومت میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی ایک طویل اور مثبت تاریخ رہی ہے، جبکہ جماعت کا بھی پاکستان میں مضبوط اور مثبت اثر و رسوخ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے لیے اصل مسئلہ نئی حکومت نہیں بلکہ یہ ہے کہ نئی حکومت کی انڈین پالیسی کیا ہو گی اور وہ کس حد تک پاکستان کے موقف کی حمایت کرتی ہے۔‘
بی این پی اور جماعتِ اسلامی دونوں بارہا کہہ چکی ہیں کہ وہ انڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتی ہیں، اور دلور حسین کے مطابق وہ نگراں حکومت کی متعارف کردہ متوازن خارجہ پالیسی کے طریقہ کار کو بھی جاری رکھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’انڈیا بطور ہمسایہ ایک حقیقت ہے۔ اسی کے ساتھ انڈیا بھی الیکشن کے بعد منتخب ہونے والی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے یا زیادہ تعاون پر مبنی رویہ اپنانے میں دلچسپی دکھا رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ دونوں جانب سے عملی طرزِ عمل اختیار کیا جائے گا۔‘

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گذشتہ ماہ 14 برس کے وقفے کے بعد براہِ راست پروازیں بحال ہوئیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد چین کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کی حکومت نے بیجنگ کے ساتھ متعدد معاشی معاہدے کیے تھے، جنہیں عبوری حکومت نے بھی جاری رکھا۔ چین ان چند ممالک میں شامل تھا جن کا محمد یونس نے اپنے دور میں باضابطہ دورہ کیا۔
اس دورے کے دوران بنگلہ دیش نے چین سے تقریباً 2.1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، قرضوں اور گرانٹس حاصل کیں، جن میں مونگلا بندرگاہ اور چٹاگانگ میں خصوصی اقتصادی زون جیسے انفراسٹرکچر منصوبوں کی فنڈنگ شامل ہے۔ چین نے بنگلہ دیشی تاجروں، طبی مسافروں اور سیاحوں کے لیے ویزا قواعد میں بھی نرمی کی ہے۔
بنگلہ دیش کے سابق سفیر برائے چین منشی فیض احمد کے مطابق چین کی اہمیت کا کوئی متبادل نہیں، خاص طور پر اس لیے کہ حالیہ برسوں میں وہ نہ صرف سب سے بڑا سرمایہ کار بلکہ سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی بن چکا ہے۔
قومی بورڈ آف ریونیو کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 میں چین کے ساتھ بنگلہ دیش کی تجارت 21.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ انڈیا کے ساتھ یہ حجم تقریباً 11.5 ارب ڈالر رہا۔
بیجنگ پر تجارتی، بالخصوص درآمدی انحصار، حکومت کی تبدیلی سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔ تجارتی حجم کے لحاظ سے چین نے سنہ 2018 میں ہی انڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

چین ان چند ممالک میں شامل تھا جن کا محمد یونس نے اپنے دور میں باضابطہ دورہ کیا۔ (فوٹو: ای پی اے)

منشی فیض احمد نے کہا کہ ’یہاں تک کہ جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہمارے انڈیا کے ساتھ بہت قریبی تعلقات ہیں، تب بھی چین کے ساتھ تجارت اور کاروبار مسلسل بڑھتا رہا۔ چین کے ساتھ ہماری تجارت انڈیا سے زیادہ ہو چکی ہے، اور بنگلہ دیش کے ترقیاتی منصوبوں میں چین کہیں بڑا سرمایہ کار ہے۔‘
’بنگلہ دیش طویل عرصے تک چین کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا، کیونکہ جو کچھ چین فراہم کر سکتا ہے، وہ کوئی اور ملک نہیں کر سکتا۔‘

 

شیئر: