سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ گہرے تعلقات مشترکہ تاریخ اور باہمی مفادات میں جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں ہی اسلام کے لیے گہری عقیدت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب مسلمانوں کے عقیدے کا مرکز ہے تو پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔
دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ذاتی تعلقات نے یکجہتی کو آگے بڑھانے بہت اہم کردار ادا کیا اور حالیہ برسوں کے دوران مشکل حالات میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
سعودی عرب اور پاکستانی فضائیہ کی مشترکہ مشقیں شروعNode ID: 800286
پاکستان حال ہی میں مشکل معاشی اور سکیورٹی صورت حال کے دوران سیاسی تبدیلی کے مشکل عمل سے گزرا ہے، گذشتہ ماہ کے اوائل میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وفاق میں ایک مخلوط حکومت وجود میں آئی جبکہ نئے صدر کا انتخاب بھی عمل میں لایا جا چکا ہے۔
پاکستان کے سیاسی رہنما اور فوجی قیادت موجودہ معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے اور ماضی کی طرح مملکت کی قیادت خوشحال مستقبل کے لیے کی جانے والی پاکستان کی جدوجہد کی حمایت کرتی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا ایک منظر گذشتہ ہفتے اس وقت سامنے آیا جب مملکت کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور یوم پاکستان کے موقع پر ہونے والی فوجی پریڈ کی تقریب میں ان کو مہمان خصوصی بنایا گیا اور صدر پاکستان کی جانب سے ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان پاکستان بھی دیا گیا۔
یوم پاکستان ہر برس 23 مارچ کو 1940 میں قرارداد لاہور کی منظوری کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
سعودی عرب اور پاکستان فوجی تعاون کی بھی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں، جس کا آغاز سنہ 1967 میں ایک دفاعی پروٹوکول کے معاہدے پر دستخط سے ہوا تھا۔ اس کا دائرہ کار سعودی عرب میں پاکستانی فوجی مشیروں اور ٹرینرز کی تعیناتی اور سعودی عرب کے فوجی افسران کو پاکستان کی فوجی اکیڈمیوں میں تربیت کے مواقع فراہم کیے جانے پر مشتمل تھا۔
اسی طرح سنہ 1982 میں ہونے والے ایک دفاعی معاہدے نے باہمی تعاون کے اس سلسلے کو مزید وسعت دی جس میں دفاعی مقاصد اور ٹریننگ کے لیے مملکت میں پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی اور دفاعی پیداوار کے علاوہ مشترکہ مشقوں کے نکات بھی شامل تھے۔

اس کے بعد دونوں ممالک کے رہنما اور دفاعی حکام دفاع کے حوالے سے تزویراتی پالیسیوں کو باہمی طور پر مربوط بنانے کے لیے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔
یہ سلسلہ ماضی قریب میں مزید اہمیت اختیار کر گیا کیونکہ دفاعی پیداوار میں خودانحصاری سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سعودی وژن 2030 کا اہم ستون ہے۔
فوجی تعاون کا سلسلہ اب دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح تک پھیل چکا ہےاور پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اب دہشت گردی کے خلاف سرگرم 42 مسلمان ممالک پر مشتمل اتحاد کے کمانڈر کے طور پر سنہ 2017 سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے ریاض کے دورے کے دوران پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور سکیورٹی کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے شہزادہ خالد بن سلمان سے بھی ملاقات کی اور انہیں یوم پاکستان کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی۔
پاکستان کے دورے کے دوران شہزادہ خالد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقاتیں کیں۔
اور سرکاری میڈیا میں ان کے بیانات چھپے جن میں کہا گیا تھا کہ ’سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مضبوط تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے خیرخواہ رہیں گے۔‘
شہزادہ خالد بن سلمان کا یہ بیان سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی پائیداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اسی طرح ماضی میں بھی سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے کئی مظاہر سامنے آتے رہے ہیں جن میں چند کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
سنہ 1940 میں قرارداد لاہور کی منظوری کے بعد اپریل میں ولی عہد شہزادہ سعود بن عبدالعزیز السعود نے کراچی کا دورہ کیا تھا جن کا استقبال مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے گرمجوشی سے کیا جن میں ایم اے ایچ اصفہانی، ایم اے مانیر اور کریم بھائی ابراہیم بھی شامل تھے
ولی عہد سعود بن عبدالعزیز السعود کے ساتھ جانے والے وفد میں ان کے پانچ بھائی بھی شامل تھے، جن میں سے دو شہزادہ فیصل اور شہزادہ فہد آگے چل کر سعودی عرب کے فرمانروا بھی بنے۔
سنہ 1943 میں مسلم اکثریت رکھنے والی ریاست بنگال شدید قحط سے دوچار ہوئی، اس وقت پاکستان کے بابائے قوم اور مسلم لیگ کے رہنما محمد علی جناح نے بنگال میں مسلم لیگ ریلیف کیمپ لگایا۔
شاہ عبدالعزیز السعود وہ پہلی غیرملکی شخصیت تھے جنہوں نے اس میں 10 ہزار پاؤنڈ کا عطیہ دیا۔
پاکستان کے قیام کے دو ماہ بعد نومبر میں محمد علی جناح کی جانب سے اپنے خصوصی ایلچی ملک فیروز خان نون کو سعودی عرب اور مشرق وسطٰی کے دیگر ممالک میں بھجوایا گیا۔
شاہ عبدالعزیز نے ان کا ذاتی طور پر استقبال کیا اور کراچی واپسی پر دھران لے جانے کے لیے انہیں اپنا شاہی جہاز بھی پیش کیا۔
شاہ عبدالعزیز کے جانشینیوں نے بھی ان کی روایت کو برقرار رکھا اور پاکستان کے ساتھ رشتے کو بخوبی نبھاتے ہوئے سعودی عرب کی نظر میں پاکستان کی اہمیت کے حامی بھی رہے۔

مثال کے طور پر سنہ 1954 میں کراچی میں سعودی عرب کے تعاون سے انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والوں کے لیے بنائی گئی کالونی سعود آباد کے افتتاح کے لیے روانہ ہونے سے قبل شاہ سعود نے پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد کو خط لکھا۔
اس میں کہا گیا تھا کہ ’ہمیں پاکستان کے مضبوط ہونے پر خوشی ہو گی، پاکستان کی طاقت ہماری طاقت ہے اور اگر یہودیوں نے مقدس سرزمین پر حملہ کیا تو اس وقت پاکستان اس کا بچاؤ کرنے والوں میں سب سے آگے ہو گا جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے۔‘
سنہ 1960 کے عشرے میں شاہ فیصل کی قیادت میں فوجی تعاون کے حوالے سے مضبوط بنیادیں رکھی گئیں۔ کراچی میں ایک ضیافت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم نے اس ملک کے ساتھ برادرانہ جذبات اور تعاون کا اظہار کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا مذہب اور عقیدہ ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے۔‘
شاہ فیصل اس سے قبل سنہ 1943 میں بھی کراچی کا دورہ کر چکے تھے۔
سنہ 1970 کی دہائی میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور فوجی تعاون کے لیے مزید اقدامات ہوئے۔ سعودی عرب نے سنہ 1971 کی جنگ میں پاکستان سفارتی اور فوجی لحاظ سے مدد کی۔ سنہ 1974 میں لاہور میں او آئی سی کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا جس سے پاکستان کو اس صورت حال سے نکلنے میں مدد ملی جس کا سامنا اس کو اپنا مشرقی حصہ کھونے سے ہوا تھا۔
اس عشرے کے دوران مملکت نے پاکستان کی ایک ارب ڈالر کے قریب مدد کی۔
سنہ 1980 کی دہائی میں سعودی عرب اور پاکستان نے افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے خلاف امریکہ کے ساتھ اتحاد کیا۔

اپنی یادداشت ’دی افغانستان فائل‘ میں شہزادہ ترکی الفیصل نے سنہ 1989 میں سوویت یونین کی شکست کے حوالے سے سعودی عرب اور پاکستان کی باہمی انٹیلی جنس کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ دسمبر 1980 میں ولی عہد شہزادہ فہد نے اس بات کے اعلان کے لیے اسلام آباد کا دورہ کیا کہ ’پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں مداخلت یا حملہ تصور کی جائے گا۔‘
مئی 1998 میں جب پاکستان انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں دھماکے کرنے پر مجبور ہوا تو اس وقت بھی سعودی عرب پاکستان کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑا ہوا۔
مملکت نے اقتصادی پابندیاں لگنے والی پابندیوں کے تباہ کن اثرات کو برداشت کرنے کے لیے پاکستان کی ہنگامی طور پر مالی مدد کی اور پاکستان کو موخر ادائیگیوں پر تیل فراہم کیا۔
میں 2001 میں نائن الیون سے تھوڑا عرصہ قبل سعودی نمائندے کے طور پر پاکستان پہنچا اور 2009 میں اپنا دورانیہ مکمل کیا۔ جب افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ زوروں پر تھی۔ اپنی قیادت کی ہدایت پر اور اس کی رہنمائی میں پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا۔
جب 2005 میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں تباہ کن زلزلہ آیا تو اس وقت سعودی عرب وہ پہلا ملک تھا جس نے متاثرین کو مدد کی فراہمی کے لیے فضائی راہداری قائم کی جبکہ دو جدید ترین فیلڈ ہسپتال بھی قائم کیے جو میڈیکل سٹاف اور جراحی کے آلات سے لیس تھے۔
جس کا مقصد اس سانحے سے نمٹنا تھا جس کی وجہ سے 80 ہزار سے زائد لوگ زندگیاں کھو بیٹھے تھے۔












