Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فلسطینی وفد کو ویزا نہ دینے کا امریکی فیصلہ افسوسناک: عرب اسلامی وزارتی کمیٹی

امریکی انتظامیہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور اسے واپس لے (فوٹو: اخبار 24)
غزہ سے متعلق عرب اسلامی وزارتی کمیٹی نے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ستمبر میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 80 ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کرنے والے فلسطینی وفد کو ویزا نہ دینے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق مشترکہ بیان میں وزارتی کمیٹی نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا کہ ’وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور اسے واپس لے۔ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے معاہدے کے تحت ذمہ داروں کا احترام  کرنے کی اہمیت، بات چیت، اور سفارتکاری کو موقع فراہم پر بھی زور دیا۔
وزاتی کمیٹی نے نے خبردار کیا کہ’ فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنے سے  تشدد میں پھیلاو اور تنازعات کے جاری رہنے کی صورت میں امن کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔
عرب نیوز کے مطابق امریکی  محکمہ خارجہ نے جمعے کو بتایا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل صدر محمود عباس اور 80 دیگر حکام کے ویزے منسوخ کردیے۔
امریکی حکومت نے ویزا منسوح کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب صدر محمود عباس کو ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس اور فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔
صدر محمود عباس کئی برسوں سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں اور وہ عموما فلسطینی وفد کی سربراہی بھی کرتے ہیں۔
صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ نے رام اللہ میں اے پی کو بتایا ’ہم نے امریکی انتظامیہ سے اس فیصلے کو واپس لینے پر زور دیا ہے۔ یہ فیصلہ صرف کشیدگی اور تناو میں اضافہ کرے گا۔‘
فرانسیسی وزیرخارجہ نے جین نول بروٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی تک رسائی پر پابندیوں پر احتجاج کیا اور کہا کہ’ وہ اس معاملے پر یورپی یونین کے ہم منصبوں سے بات کریں گے۔‘
ان کا کہنا تھا ’اقوام متحدہ کا ہیڈ کوارٹر غیرجانبداری کی جگہ ہے، جہاں تنازعات حل کیے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں رسائی پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔‘

 

شیئر: