فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر نے سنیچر کو امریکی حکومت سے ایپل کی ہے کہ وہ صدر محمود عباس کا ویزا منسوخ کرنے کے غیرمعمولی فیصلے کو واپس لے۔
امریکی حکومت نے ویزا منسوح کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب صدر محمود عباس کو ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس اور فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔
مزید پڑھیں
-
دو ریاستی حل ہی خطے میں امن کا واحد راستہ ہے: سعودی وزیر خارجہNode ID: 893906
عرب نیوز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے جمعے کو بتایا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل صدر محمود عباس اور 80 دیگر حکام کے ویزے منسوخ کردیے۔
صدر محمود عباس کئی برسوں سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں اور وہ عموما فلسطینی وفد کی سربراہی بھی کرتے ہیں۔
صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ نے رام اللہ میں اے پی کو بتایا ’ہم نے امریکی انتظامیہ سے اس فیصلے کو واپس لینے پر زور دیا ہے۔ یہ فیصلہ صرف کشیدگی اور تناو میں اضافہ کرے گا۔‘
ترجمان نے کہا ’ہم عرب اور دیگر ملکوں خصوصا ان ممالک سے جو براہ راست اس معاملے سے منسلک ہیں رابطے میں ہیں اور یہ کوشش دن رات جاری رہے گی۔‘

انہوں نے دیگر ملکوں پر زور دیا کہ’ وہ ٹرمپ انتظامیہ پر فیصلہ واپس لینے کےلیے دباو ڈالیں، خاص طور پر وہ ممالک جہنوں نے دو ریاستی حل کی کوششوں کی دوبارہ بحالی کےلیے 22 ستمبر کو ایک اعلی سطح کی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔‘ اس کانفرنس کی میزبانی فرانس اور سعودی عرب مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔
فرانسیسی وزیرخارجہ نے جین نول بروٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی تک رسائی پر پابندیوں پر احتجاج کیا اور کہا کہ’ وہ اس معاملے پر یورپی یونین کے ہم منصبوں سے بات کریں گے۔‘
ان کا کہنا تھا ’اقوام متحدہ کا ہیڈ کوارٹر غیرجانبداری کی جگہ ہے، جہاں تنازعات حل کیے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں رسائی پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔‘

امریکی حکومت کا یہ اقدام اس وقت سامنے ایا ہے جب اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کو جنگی علاقہ قرار یا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے ’غزہ سٹی اب بھی حماس کا مضبوط گڑھ ہے۔‘
ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینیوں کو ویزا پابندیوں کا ہدف بنانے کےلیے کئی اقدامات کیے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ’یہ ہمارے قومی سلامتی کے مفاد میں ہے کہ پی ایل او اور فلسطینی اتھارٹی کو ان کے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے اور امن امکانات کو نقصان پہنچانے پر جوابدہ ٹہرایا جائے۔‘
فلسطینی اتھارٹی نے ویزا منسوخ کرنے کو اقوام متحدہ کے میزبان ملک کے طور پر امریکی وعدوں کے خلاف ورزی قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے’ عالمی ادارہ اس معاملے پر امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے وضاحت طلب کرے گا۔‘