Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب ماحولیاتی صحافیوں کی نئی نسل کیسے تیار کر رہا ہے؟

ماحولیاتی صحافیوں کا کام صرف واقعات کی رپورٹنگ تک محدود نہیں ہونا چاہیے (فوٹو: عرب نیوز)
بطور ایک ملک جو سرسبز مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے، سعودی عرب عوام اور حکام کے درمیان رابطے قائم کر رہا ہے، آگاہی بڑھا رہا ہے، اور ایسے مہم چلا رہا ہے جو پائیدار ترقی کو فروغ دیتی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق یہ کوششیں وژن 2030 کے تحت کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد لوگوں کو ماحولیاتی نظام کے بارے میں تعلیم دینا اور انہیں اس کی حفاظت اور بہتری میں کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
ان مقاصد کی حمایت کے لیے موثر رابطہ کاری بہت ضروری ہے، اور صحافت اس میں سب سے مؤثر طریقوں میں سے ایک ہے۔
ماحولیاتی صحافت، جو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک میں وسیع پیمانے پر ہوتی ہے، عوامی شعور کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماحولیاتی مسائل کی رپورٹنگ سے لے کر کمیونٹی کو وژن 2030 میں حصہ لینے کے لیے بااختیار بنانے تک، سعودی عرب کو مزید ماحولیاتی صحافیوں کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ شعبہ ملک میں اب بھی نسبتاً کم جانا پہچانا ہے۔
اس کمی کو پہچانتے ہوئے، نیشنل سینٹر فار انوائرنمنٹل کمپلائنس نے ماحولیات کی صحافت کی حمایت اور فروغ کے لیے اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق گزشتہ 15 bravz میں دنیا بھر کے 70 فیصد سے زیادہ ماحولیاتی صحافیوں کو اپنے کام کی وجہ سے حملوں کا سامنا کرنا پڑا (فوٹو: عرب نیوز)

نیشنل سینٹر فار انوائرنمنٹل کمپلائنس کے میڈیا اور کمیونیکیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور سرکاری ترجمان سعد المطرفی نے عرب نیوز کو بتایا  ’میرا خیال ہے کہ ہم نے گزشتہ چند برسوں میں محسوس کیا کہ تقریباً ایک دہائی پہلے عرب دنیا میں واقعی ایسا کوئی پیشہ ور اور ماہر میڈیا نہیں تھا۔‘
سعد المطرفی نے بتایا کہ’ جہاں سیاسی، کاروباری، اور کھیلوں کی صحافت کافی مقبول ہے، وہاں ماحولیاتی صحافت بہت پیچھے رہ گئی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم یہاں سینٹر میں خاص طور پر ایک ماہر نسل کو تیار کرنے پر توجہ دے رہے ہیں جو ماحولیات کے بارے میں اچھی طرح علم رکھتی ہو اور تعلیم یافتہ ہو۔‘

ماحولیاتی صحافت عوامی شعور کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ (فوٹو: عرب نیوز)

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’ماحولیاتی صحافیوں کا کام صرف واقعات کی رپورٹنگ تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں دیگر موضوعات میں حصہ لینا چاہیے، آگاہی کے پروگراموں میں شامل ہونا چاہیے، ماحولیاتی تعلیم کو فروغ دینا چاہیے، اور عوام اور پالیسی سازوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘
یہ کردار بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم شدہ ہے۔ یونیسکو نے ماحولیاتی صحافت کو ایک اہم شعبہ قرار دیا ہے جو عوام تک ماحولیاتی مسائل کی رپورٹنگ، تحقیق اور معلومات پہنچانے کا کام کرتا ہے۔
2024 کے ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ کی ایجنسی نے بتایا تھا کہ گزشتہ 15 سالوں میں دنیا بھر کے 70 فیصد سے زیادہ ماحولیاتی صحافیوں کو اپنے کام کی وجہ سے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ایک ایسے وقت میں جب ماحولیاتی مسائل پر غلط معلومات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

سعد المطرفی نے سینٹر کی جانب سے قومی سطح پر تیل کے رساؤ کی مشقوں کو بھی اجاگر کیا۔ (فوٹو:عرب نیوز)

سرکاری ترجمان نے صحافیوں کے کردار کو براہِ راست وژن 2030 کے وسیع تر اہداف سے جوڑا، جو کہ مملکت بھر میں معیار زندگی کو بہتر بنانے پر زور دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم اسے نیشنل سینٹر فار انوائرنمنٹل کمپلائنس کی حکمت عملی سے جوڑیں، تو اس کا حصہ شہریوں اور سیاحوں کی زندگی کے معیار کو بھی بہتر بنانا ہے۔‘
ان کے لیے، تعمیل کے پروگرامز اور انسپیکشن صرف کمپنیوں اور کارخانوں کی نگرانی تک محدود نہیں ہیں۔ بلکہ یہ کارکنوں، ان کے خاندانوں اور کمیونٹی کے لیے محفوظ حالات یقینی بنانے کے بارے میں بھی ہیں۔

یہ کوششیں مملکت کے وژن 2030 کے تحت کی جا رہی ہیں، (فوٹو: عرب نیوز)

انہوں نے زور دیا کہ مرکز کی کوششیں افراد کی فلاح و بہبود اور پورے معاشرے کے لیے ہیں۔
یہاں بھی صحافت ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کارکنوں، کمپنیوں اور اداروں میں آگاہی پیدا کرکے صحافی یہ سمجھانے میں مدد دے سکتے ہیں کہ ماحولیاتی قوانین اور انسپیکشن کی تعمیل کیوں ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا’ نیشنل سینٹر فار انوائرنمنٹل کمپلائنس کا مقصد خلاف ورزیوں کا پتہ لگانا اور جرمانے عائد کرنا نہیں بلکہ جانیں بچانا ہے۔‘
’تیل کے رساؤ کو روکنا اور اس کا انتظام کرنا مراکز کا ایک اہم کام ہے، جس میں نگرانی، تیاری، فوری کارروائی، اور طویل مدتی صفائی شامل ہوتی ہے تاکہ صحت اور ماحول کو نقصان سے بچایا جا سکے۔‘

نیشنل سینٹر فار انوائرنمنٹل کمپلائنس نے ماحولیاتی صحافت کی سپورٹ کے لیے اقدامات کیے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)

سعد المطرفی نے کہا کہ ’یہ تکنیکی سیٹلائٹ پروگرام بہت باریک تفصیلات کو پہچاننے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر سیٹلائٹ زمین میں کسی آلودگی کا پتہ لگاتا ہے تو وہ ہمیں نوٹس اور رپورٹس فراہم کرتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم ماحول کو بہتر بنانے میں مدد کر رہے ہیں، اور یہ آپ کی اور آپ کے بچوں کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔‘
سعد المطرفی نے سینٹر کی جانب سے کیے جانے والے قومی سطح پر تیل کے رساؤ کی مشقوں کو بھی اجاگر کیا۔

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عوام میں آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔ (فوٹو: ایس پی اے)

’ہم ہر سال دو مرتبہ تیل رساؤ کی مشقیں کرتے ہیں، آخری مشق جولائی میں ينبع میں ہوئی تھی۔ یہ مشق نمبر 17 تھی اور میرے خیال میں یہ ان دلچسپ تجربات میں سے ایک ہے جنہیں میں خود بھی کور کرنا چاہوں گا۔‘
 آخر میں کہا کہ چاہے کسی ملک کو ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کتنی ہی محنت کیوں نہ کرے، عوام میں آگاہی پیدا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ’ یہ سب کچھ آگاہی، شعور، رہنمائی اور اچھی صحافت سے ممکن ہوتا ہے۔‘

 

شیئر: