Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ روٹ مملکت کی قیادت کا حجاج کے لیے گراں قدر تحفہ ہے: ڈائریکٹر جنرل جوازات

ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ (جوازات) میجر جنرل ڈاکٹر صالح المربع کا کہنا ہے کہ ’مکہ روٹ انیشیٹیو قائدین مملکت کی جانب سے ضیوف الرحمان کے لیے گراں قدر تحفے کی حیثیت رکھتا ہے۔‘
اخبار 24 کے مطابق جدہ میں منعقدہ حج وعمرہ کانفرنس 2025 کا پانچواں ایڈیشن جس کا رواں برس سلوگن ’مکہ سے دنیا تک ‘ ہے، کے ایک مذاکرتی سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل المربع نے مزید کہا کہ ’مملکت کی یہ کوشش رہی ہے کہ عازمین حج کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں اسی تناظر میں مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں جن میں ایک ’مکہ روٹ‘ بھی شامل ہے جس کی براہ راست نگرانی وزیر داخلہ کرتے ہیں۔‘
المربع کا مزید کہنا تھا کہ ’مکہ روٹ انیشیٹیو کے تحت 9 ممالک کے 13 سٹیشنز سے یہ سہولت عازمین کو فراہم کی جا رہی ہے تاہم اس اقدام کو وسعت دینے کے لیے کام کر رہے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ ممالک کے عازمین اس سہولت سے مستفیض ہو سکیں۔
ڈائریکٹر جنرل جوازات نے بتایا کہ اس وقت 13 سے 15 لاکھ عازمین مکہ روٹ اقدام سے مستفیض ہو رہے ہیں جس کے تحت انہیں امیگریشن کی جملہ سہولیات ان کے ملک میں ہی مہیا کر دی جاتی ہیں۔
واضح رہے سعودی حکومت کے مکہ روٹ انیشیٹیو کے تحت مختلف ممالک میں محکمہ جوازات کے اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے جو ان ممالک کے عازمین حج کا امیگریشن ان کے ملک میں ہی مکمل کر لیتے ہیں  جس سے ان عازمین کو یہ سہولت ہوتی ہے کہ وہ جب مملکت پہنچتے ہیں تو یہاں انہیں امیگریشن کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا بلکہ جہاز سے اتر کر براہ راست بسوں میں سوار ہوجاتے ہیں جہاں عازمین کو مکہ مکرمہ میں ان کی رہائشی عمارتوں میں پہنچا دیا جاتا ہے۔
خیال رہے مکہ روٹ میں مزید بہتری کرتے ہوئے عازمین کا سامان بھی ان کے ملک میں ہی بک کر دیا جاتا ہے جن پر ان کی رہائشی عمارتوں کے نمبر اور ایڈریس بھی درج ہوتے ہیں، اس سے عازمین کو سامان اٹھانا اور انہیں سنبھالنا بھی نہیں پڑتا اور وہ جب اپنی عمارتوں میں جاتے ہیں تو ان سے قبل ہی ان کا سامان بھی وہاں پہنچ چکا ہوتا ہے۔

شیئر: