Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی وزارت داخلہ نے خدمات اور سکیورٹی کےلیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھا دیا

وزارتِ داخلہ، جدید ٹیکنالوجی کئی ایریاز میں بروئے کار لا رہی ہے (فوٹو:ایس پی اے)
سعودی وزارتِ داخلہ خدمات کی کوالٹی کو بہتر بنانے اور سکیورٹی اور ماحولیاتی تحفظ میں بہتری کے لیے ڈیٹا کے تجزیے اور مصنوعی ذہانت کو استعمال کر رہی ہے۔
اس مقصد کے لیے وزارتِ داخلہ، جدید ٹیکنالوجی کو کئی ایریاز میں بروئے کار لا رہی ہے جن میں ہجوم پر نگاہ رکھنا، اس کا بندوبست اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں زائرین کے لیے ترجمے کی سہولتیں شامل ہیں۔
نگرانی کو مزید بہتر بنانے اور زیادہ افراد کے انتظام کے لیے، مصنوعی ذہانت سے لیس ڈرونز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
وزارت، ٹیکنالوجی میں جدت، مل کر کام کرنے، اور درست انداز اور تیزی سے امور کی تکمیل کے لیے بھی مصنوعی ذہانت کو کام میں لا رہی ہے۔
اس کے علاوہ جمِ غفیر میں انسانوں کی رہنمائی اور ان کے انتظام کے لیے بھی تجزیے اور پیش گوئی کا استعمال ہو رہا ہے جبکہ ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کے مناسب، ضرورت کی جگہ اور بروقت استعمال کے لیے بھی وسیع پیمانے پر ڈیٹا کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق کمانڈ اور کنٹرول سینٹر کام کر رہا ہے (فوٹو: ایس پی اے)

مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق دیگر ذرائع اور آلات میں ایک کمانڈ اور کنٹرول سینٹر بھی کام کر رہا ہے جو حقیقی وقت میں ڈیٹا کا استعمال کر کے تجزیے کرتا ہے تاکہ مملکت میں جرائم میں کمی لائی جا سکے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس سے شہریوں، مقامی افراد اور زائرین کا تجربہ غلطیوں سے پاک اور کارکردگی سے بھرپور ہوتا ہے۔
یہ سینٹر، کسی ایک مقام پر زیادہ افراد کی موجودگی میں ضرورت پڑنے پر زائرین اور عمرہ ادا کرنے کے لیے آنے والوں کی مدد کے لیے بروقت، درست اور فوری ردِ عمل فراہم کرتا ہے اور حکومت کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر سیاحوں اور زائرین کی حفاظت اور سلامتی کے لیے خدمات کی بجا آوری کرتا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ نے ایک ’یونیفائیڈ ڈیٹا‘ بھی قائم کیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)

وزارتِ داخلہ کے یہ انیشیٹیو’سمارٹ پاتھ‘ پر جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ کے بتائے گئے طریقوں پر عمل درآمد سے ظاہر ہوتے ہیں جس میں داخلے کو آسان بنا دیا گیا ہے۔
اس طریقے میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کر کے مملکت میں داخل ہونے والوں کے بارے میں تفصیلات کو تیار کیا جاتا ہے جس سے داخلے کا عمل سہل، تیز اور درست ہوجاتا ہے جبکہ تصدیقی عمل میں وقت بھی کم لگتا ہے جس سے آنے والوں کا مجموعی تجربہ بہتر ہو جاتا ہے۔
وزارت نے ’یونیفائیڈ ڈیٹا‘ بھی قائم کیا ہے جو مملکت کے مختلف نظاموں کو مربوط کرنے کی سمت ایک سٹریٹیجک اقدام ہے۔

’توکلنا‘ ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل شناخت کے منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے (فوٹو: ایس پی اے)

اس سے غلطیوں سے پاک فیصلہ سازی کی جا سکتی ہے جس کی بنیاد ڈیٹا سے حاصل ہونے والے جامع تجزیے پر ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف خدمات کی کوالٹی بہتر ہوتی ہے بلکہ آپریشنل کارکردگی بھی بڑھ جاتی ہے۔
سعودی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی اتھارٹی کے تعاون سے وزارتِ داخلہ ’توکلنا‘ ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل شناخت کے ایک منصوبے پر علیحدگی سے بھی کام کر رہی ہے جس میں قومی اور مقامی شناخت شامل ہے۔

 

شیئر: