Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قصیم میں ہائیڈروپونک فارمنگ ٹیکنالوجی کا استعمال، پیداواری صلاحیت میں اضافہ

قصیم ریجن میں حالیہ برسوں کے دوران ہائیڈروپونک فارمنگ کے جدید طریقوں کو تیزی سے اپنایا جا رہا ہے جس سے زرعی پیداوار بڑھانے اور پانی کے بہتر استعمال میں مدد مل رہی ہے۔ یہ سعودی وژن 2030 کے تحت پائیداری، غذائی تحفظ اور پانی کے تحفظ پر مملکت کی توجہ سے ہم آہنگ ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے ہائیڈروپونکس زراعت کا ایک جدید طریقہ ہے جس میں پودے مٹی کے بغیر اُگائے جاتے ہیں۔ اس طریقے میں غذائی اجزا سے بھرپور پانی براہِ راست پودوں کی جڑوں تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے پودے صحت مند رہتے ہیں اور ان کی نشوونما تیزی سے ہوتی ہے۔ 
مختلف علاقوں میں ہائیڈروپونک کا سسٹم فصلوں کی نوعیت اور کسانوں کی ضروریات کے مطابق مختلف ہوتے ہیں جو پودوں اور علاقے کے ماحول سے مطابقت کی بنیاد پر جدا ہوتے ہیں۔
اس نظام کے ذریعے پودوں کی جڑوں کی براہ راست نشوونما ہوتی ہے جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ جبکہ پانی کا ضیاع کم ہوتا ہے۔
اس ٹیکنالوج کا استعمال گرین ہاؤسز اور مخصوص فارموں میں استعمال کیا جاتا ہے، جس سے سال بھر فصلیں اُگانا اور ماحول کو بہتر انداز میں قابو میں رکھنا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس سے کیمیائی زرعی ادویات پر انحصار کم ہوتا ہے، پیداوار کا معیار اور حفاظت بہتر ہوتی ہے، اور مٹی سے جڑے مسائل بھی کم ہو جاتے ہیں۔

ہائیڈروپونک سسٹم کے لیے بنائے گئے فارم ہاؤسز ایک طرح سے بیرونی ہوا اور ماحول سے براہ راست متاثر نہیں ہوتے اس لیے پیداوار میں کیڑے مار کیمیکل کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔
قصیم ریجن میں آبی کاشتکاری کے ذریعے جو زرعی اجناس حاصل کی جا رہی ہیں ان میں سلاد، پالک، جرجیر، پودینہ، ٹماٹر، ہری مرچ، سٹرابیری اور کھیرا وغیرہ شامل ہے۔

وزارت ماحولیات و پانی کے ریجنل ڈائریکٹر جنرل انجینیئرصلاح العبدالجبار کا کہنا تھا کہ ’آبی کاشتکاری کی اہمیت کے پیش نذر اسے وسعت دینا ضروری ہے کیونکہ اس کی سب سے بڑی خصوصیت پانی کا کم سے کم استعمال اور مٹی کے مسائل سے خلاصی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’قصیم ریجن میں آبی کاشتکاری کے کامیاب تجربے کے بعد اس منصوبے پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ قومی مرکز برائے زراعت کی جانب سے نئی ٹیکنالوجی کو وسعت دینے کے لیے ورکشاپس کا بھی اہتمام کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کاشتکاروں کو اس کی عملی تربیت فراہم کی جائے۔‘

 

شیئر: