Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نجی شعبے میں سعودیوں کی اوسط اجرت 45 فیصد تک بڑھ گئی

2016 کے بعد سے ملکی معیشت میں 8 لاکھ ملازمتوں کا اضافہ ہوا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزیرسرمایہ کاری انجینئرخالد الفالح نے کہا ہے کہ’ ورلڈ اکنامک فورم میں مملکت کی شرکت منفرد اور مثبت ماڈل کے طور پر نمایاں تھی جو اپنے وژن اور مستقبل کے حوالے سے پراعتماد ہے۔‘
الاخباریہ کے مطابق پیر کو پریس بریفنگ میں انہوں نے واضح کیا’ سعودی اکانومی میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے، سال 2016 کے بعد سے ملکی معیشت میں 8 لاکھ ملازمتوں کا اضافہ ہوا۔‘
’تیل کے ماسوا شعبوں کا حصہ کل معیشت کا 56 فیصد ہے جبکہ مملکت کی جی ڈی پی 10 سال سے بھی کم عرصے میں دگنی ہو چکی ہے جو 2016 میں 2.6 ٹریلین ریال سے بڑھ کر 2024 میں 4.7 ٹریلین ریال تک پہنچ گئی۔‘
بے روزگاری کے حوالے سے خالد الفالح کا کہنا تھا ’مملکت میں بے روزگاری کی شرح 13 فیصد تھی جو 7 فیصد سے بھی کم  رہ گئی۔‘
’لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شرکت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، نجی شعبے میں سعودیوں کی اوسط اجرت میں مجموعی طور پر 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔‘
انہوں نے بتایا’ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری سال 2024 میں 119 ارب ریال تک پہنچ گئی، توقع ہے غیرملکی سرمایہ کاری 140 ارب ریال سے متجاوز کرجائے گی۔‘
مملکت میں سرمایہ کاری کے مجموعی حجم میں بھی اضافہ ہوا جو سال 2017 میں 672 ارب ریال سے بڑھ کر سال 2024 میں 1.44 ٹریلین ریال تک پہنچ گیا جبکہ سال 2025 میں پہلی مرتبہ 1.5 ٹریلین ریال کا ہدف عبور کرگئی۔
غیرملکی سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھی ہے جبکہ سال 2025 میں غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم ایک کھرب ریال تک پہنچ گیا، جبکہ 700 کمپنیوں نے اپنے ریجنل دفاتر مملکت میں قائم کیے۔
گزشتہ برس کے اختتام تک نجی شعبے میں کام کرنے والے سعودیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو اب 2.48 ملین ہے۔
سعودی وزیر سرمایہ کاری کا کہنا تھا ’سیاحت، اکاونٹنگ اور فارمیسی کے شعبے میں سعودیوں کو روزگار کے زیادہ بہتر مواقع فراہم کیے گئے۔‘

 

شیئر: