Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں نجی کرسمس تقریبات ثقافتی تبادلے کے لمحات کیسے فراہم کرتی ہیں؟

کمپاؤنڈ کے جنرل مینجر نے بتایا کہ مملکت میں کرسمس اب پہلے سے زیادہ منایا جا رہا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
مملکت میں رہنے والے مسیحی باشندوں کے لیے تہوار کی خوشی اب پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو چکی ہے۔
سعودی عرب میں مذہبی تنوع کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے شہروں میں کرسمس کا جوش و خروش بڑھ رہا ہے۔ ریاض میں کرسمس کی سجاوٹ ایک رہائشی کمپاؤنڈ کے اندر کی گئی۔
کمپاؤنڈ کے جنرل مینجر ژاں نوجیئم نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’کرسمس اب پہلے سے زیادہ منایا جا رہا ہے۔۔۔ جو چیزیں پہلے ناپسند کی جاتی تھیں، اب وہ آہستہ آہستہ معمول بنتی جا رہی ہیں۔‘
مہمان کرسمس مارکیٹ میں گھومتے ہوئے مصنوعی برف میں ڈھکے ہوئے تھے، خوبصورت سجاوٹ دیکھ رہے تھے، لائیو کوئیر سے لطف اٹھا رہے تھے اور اپنے بچوں کو مختلف کھیلوں اور سرگرمیوں سے خوش رکھ رہے تھے۔

غیرملکی شہری اپنے سعودی دوستوں کو بھی تقریبات میں مدعو کرتے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)

اس تقریب میں کچھ خاص مہمان بھی شامل تھے، جن میں ایلفز، گرِنچ اور اس موسم کے ہیرو سانتا کلاز شامل تھے۔
یہ اب تک کمپاؤنڈ کی سب سے بڑی تقریب تھی، جس میں تقریباً 15 سو رہائشیوں اور دو ہزار مہمانوں نے شرکت کی۔
نوجیئم نے کہا کہ ’اس سے ظاہر ہوا کہ لوگ اس طرح کی تقریبات کو کتنا یاد کر رہے تھے۔‘
یہ تقریب ہر لحاظ سے ریکارڈ توڑ رہی تھی اور سالانہ طور پر ہونے والی ایسی تقریبات میں اس بار کرسمس کی تقریب میں سعودی شہریوں کی تعداد بھی زیادہ رہی۔
نوجیئم چاہتے ہیں کہ ہر مذہب کے لوگ خود کو خوش آمدید محسوس کریں، انہوں نے زور دیا کہ یہ تقریب بچوں اور خوشی کے گرد گھومتی ہے۔
اگرچہ مملکت میں یہ تقریبات سادہ اور زیادہ تر پرائیویٹ ہوتی ہیں لیکن اب ان میں کمیونٹی کے احساس، ثقافتی تبادلے اور مل جل کر مہمان نوازی کا رنگ بڑھتا جا رہا ہے، اور اکثر اس میں سعودی دوستوں اور کولیگز کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔

تقریب میں تقریباً 15 سو رہائشیوں اور دو ہزار مہمانوں نے شرکت کی (فوٹو: عرب نیوز)

پیرو سے تعلق رکھنے والی جیزمین سولیدید ہوانکا جو سعودی عرب میں کام کرتی ہیں، نے کرسمس کو مملکت میں رہنے والے غیر ملکیوں کے لیے سال کے سب سے انتظار کیے جانے والے لمحات میں سے ایک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’کرسمس اتحاد اور خاندان کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ سب سے پہلے اپنے گھر کو سجاتے ہیں، چاہے درخت ہو، روشنی ہو یا کرسمس کی کوئی چھوٹی یاد دہانی۔ ہم قریب کے دوستوں یا خاندان والوں سے ملنے کی تیاری کرتے ہیں، تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں اور ساتھ میں کھانا کھاتے ہیں۔‘
جیزمین سولیدید ہوانکا نے مزید کہا کہ سعودی مہمانوں کی میزبانی ایک خاص خوشی دیتی ہے۔ ’یہ ایسے لگتا ہے جیسے گھر میں ایک خاص مہمان آیا ہو۔ آپ چاہتے ہیں کہ وہ آرام دہ محسوس کریں، جیسے یہ ان کا بھی گھر ہو۔‘
سعودی عرب کے بین الاقوامی سکولوں نے بھی اس سیزن کو خوشیوں بھری  تقریبات کے ساتھ منانا شروع کر دیا ہے۔
جدہ کے امریکن انٹرنیشنل سکول کے کیمپس میں خوشیوں کا ماحول تھا۔ وہاں بازار لگائے گئے، سات کرسمس کے درخت سجائے گئے، طلبہ اور اساتذہ روزانہ صبح موسیقی پیش کرتے، اور سانتا کلاز  بھی اسی دوران اچانک نمودار ہو گئے۔

کرسمس پر لوگ اپنے گھروں کو خوب سجاتے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)

سپرنٹنڈنٹ روبرٹ رینالڈو نے کہا کہ ’ہمارے سکول میں 68 مختلف قومیتوں کے 15 سو  سے زیادہ طلبہ ہیں اور ہم کرسمس کی تقریبات کو اپنی متنوع کمیونٹی کی حقیقی عکاسی سمجھتے ہیں۔ کیمپس میں تہوار کا ماحول، چاہے سجاوٹ ہو یا روزانہ موسیقی کی پرفارمنس اس تنوع کو ظاہر کرتا ہے اور سب کے لیے ایسا ماحول بناتا ہے جہاں ہر کوئی اپنے آپ کو شامل محسوس کرے اور سیزن کی خوشیوں میں سب ساتھ شریک ہو سکیں۔
جدہ پریپ اینڈ گرائمر سکول کے ہیڈ ماسٹر رضاعلی نے کہا کہ ’ایک برطانوی سکول ہونے کے ناطے ہم اس وقت کے دوران کرسمس کو مناسب طریقے سے مناتے ہیں، جیسے سکول کی سجاوٹ، موسیقی اور کچھ کلاسز میں اس کا ذکر کرنا، اور ہمیشہ یہ یقینی بناتے ہیں کہ اپنی کمیونٹی کے تمام ثقافتی پس منظر کا احترام کیا جائے۔
امریکن انٹرنیشنل سکول جدہ کے ایک طالبعلم کی والدہ وکٹوریہ جوزف نے کہا کہ ’اگرچہ ہم کیلیفورنیا میں اپنے گھر سے دور ہیں تاہم میرا بیٹا کرسمس کا وہی تجربہ کر سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے جو وہ امریکہ میں کرتا۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ سکولوں میں تہواروں کو خوشی سے منایا جاتا ہے۔‘
جیسے جیسے سعودی عرب ایک کثیر الثقافتی معاشرہ بنتا جا رہا ہے، یہ سادہ تقریبات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مختلف ثقافتیں ساتھ رہ کر کیسے تہوار مناتی ہیں، اپنی روایات کو محفوظ رکھتی ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتی ہیں اور احترام کے ساتھ ان کا تجربہ کرتی ہیں۔

شیئر: