Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خوشبو، فن اور روایت: مکہ میں ’مبخرہ‘ مہمان نوازی کی علامت

کوئی گھر ایسا نہیں جہاں بخور کی دھونی دینے کا رواج نہ ہو (فوٹو: ایس پی اے)
مکہ مکرمہ میں مہمان نوازی کی علامت ’مبخرہ‘ (بخور کی دھونی دینے کا برنر) آج بھی روایتی دستکاری میں سے ایک ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق موجودہ دور میں بھی مکہ مکرمہ کے گھروں میں ’مبخرہ‘ کی روایت آج بھی قائم ہے۔ شاید ہی کوئی گھر ہو جہاں مہمان نوازی کے لیے بخور کی دھونی دینے کا رواج نہ ہو۔
روایتی دستکاری ’مبخرہ سازی‘ انتہائی اہم ہے جس میں لکڑی اور دھات کا استعمال کیا جاتا ہے۔
مبخرہ بنانے کے لیے سب سے اہم مرحلہ اس کی لکڑی کا انتخاب ہوتا ہے جس کے بعد اسے کاٹ کر مخصوص شکل دی جاتی ہے۔
بخور کے دھوئیں کے متوازن پھیلاؤ کو یقینی بنانے کے لیے لکڑی کو نہایت احتیاط سے کھوکھلا کیا جاتا ہے۔

بعدازاں کوئلہ رکھنے کے لیے مخصوص جگہ کو دھات سے ڈھکا جاتا ہے تاکہ لکڑی کو محفوظ کیا جاسکے، پھرحجازی جمالیات کے مطابق اس کی پالش اور فنشنگ کی جاتی ہے۔
اس فن کے حوالے سے رپورٹ میں  بتایا گیا کہ مکہ مکرمہ کے 60 سے 70 فیصد خاندان آج بھی اپنے گھروں میں بخور کی دھونی کے لیے مبخرہ کا باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔
رمضان المبارک اور عیدین کے مواقع پر اس کا استعمال 30 فیصد بڑھ جاتا ہے، اسی وجہ سے اس کی طلب میں کبھی کمی نہیں دیکھی گئی۔

مبخرہ سازی کی گھریلو صنعت سے کافی خاندان منسلک ہیں جبکہ ورکشاپس بھی قائم ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک ورکشاپ میں 20 سے 50 مبخرے تیار کیے جاتے ہیں جو مختلف سائز اور معیار کے ہوتے ہیں۔
یہ روایتی دستکاری خاندانوں کو بااختیار بنانے کے لیے سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے۔

 

شیئر: