’ہنر اور مہارت‘ مکہ کے ’گلوبل ویلج‘ میں سعودی خواتین کی دستکاری کے چرچے
گلوبل ولیج میں کئی بین الاقوامی پویلین بھی قائم کیے گئے ہیں۔ (فوٹو: ایس پی اے)
مکہ کے ’گلوبل ویلج‘ میں سعودی عرب کی خواتیں ایک مرتبہ پھر توجہ کا محور بنی ہوئی ہیں جہاں سعودی میراث سے متاثر ہو کر انھوں نے ہنر اور مہارت کے شاندار نمونے پیش کیے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق خواتین کی طرف سے یہ فنکارانہ پیش کش، مکہ کے ’ونٹر سیزن‘ میں سامنے آ رہی ہے جس میں ثقافتی پرفارمنس شامل ہے۔ اس موقع پر کئی بین الاقوامی پویلین بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اس برس، سعودی پویلین کی خاص بات، راویتی لباس اور کشیدہ کیے ہوئے کپڑے ہیں جو مملکت کے مختلف علاقوں کے ثقافتی حُسن سے مالا مال ہونے کا ثبوت ہیں۔
اُن سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ روایتی دستکاری کو جدید بنانے اور اسے قدیم شکل میں محفوظ رکھنے میں خواتین نے کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔
انٹرایکٹیو بُوتھ اور ورکشاپس کے ذریعے، ہنرمند خواتین نے پویلن میں آنے والوں کے ساتھ بات چیت کی۔

اس کے علاوہ انھوں نے سلائی کڑھائی، کشیدہ کاری، اُون کے ساتھ بُنائی اور کئی دیگر مہارتوں کا عملی مظاہرہ بھی کر کے دکھایا جو نسل در نسل ان خواتین تک منتقل ہوتی رہی ہیں۔
یہ ایونٹ ان خواتین کے لیے ایک اہم تقریب تھی جہاں انھیں اپنے چھوٹے کاروبار اور ہنر مندی کو لوگوں کے سامنے مارکیٹ کرنے کا موقع ملا۔ اس سے اُن ہنر مند خواتین کے سامنے براہِ راست معاشی فوائد آئیں گے۔
ان پویلین میں دیکھنے کے لیے آنے والوں کی آمد و رفت زیادہ تھی جس میں کافی توجہ کا اظہار کیا گیا کیونکہ شرکا یہ جاننے میں دلچپسی لے رہے تھے کہ ہاتھ سے بنی ہوئی پروڈکٹس میں مقامی ثقافتی کی جھلک کیسے پیدا کی جاتی ہے۔

’گلوبل ویلیج‘ میں ایک گوشے میں لکڑی سے کشیدہ کاری بھی کی جا رہی ہے جہاں فنکارانہ صلاحیتوں کے مالک دستکار روایتی ہنر کو لوگوں کے سامنے نمائش کی صورت میں پیش کر رہے ہیں۔
موسمِ سرما کی سرگرمیوں کے ایک حصے کے طور پر یہ ایونٹ ایک مربوط ثقافتی اور سیاحتی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
