آسٹریلیا کے لیے کھیلنے والے پاکستانی نژاد بیٹر عثمان خواجہ نے کہا ہے کہ اپنے کیریئر کا آخری ٹیسٹ کھیلنے کے بعد جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عثمان خواجہ نے جمعرات کو اپنے کیریئر کا آخری اور 88 واں ٹیسٹ انگلینڈ کے خلاف کھیلا جو کہ ایشز سیریز کا پانچواں اور آخری میچ تھا۔
39 سالہ کھلاڑی کو انگلینڈ کی ٹیم نے اس وقت زبردست خراج تحسین پیش کیا جب وہ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں بیٹنگ کر کے نکلے اور مہمان ٹیم کے کپتان بین سٹوکس نے ان کے ساتھ ہاتھ ملایا۔
مزید پڑھیں
-
میلبرن ٹیسٹ: عثمان خواجہ کے جوتوں پر بیٹیوں کے نامNode ID: 822456
انہوں نے آسٹریلیا کے میچ جیتنے کے بعد سکائی سپورٹس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے 15 سالہ کیریئر اور چھ ہزار سے زائد رنز بنانے کے بعد ایک اور یادگار لمحہ ہے۔
ان کے مطابق ’یہ میرے لیے بہت اہم ہے، صرف ایک ہی چیز جو میں نے چاہی وہ جیت تھی۔‘
اس سے قبل آسٹریلیا نے پانچ وکٹوں سے انگلینڈ کو سیریز میں ایک چار سے شکست دے دی تھی۔
عثمان خواجہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس آخری جیت پر بہت خوش ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کا جشن منائیں گے۔
ان کے بقول ’یہ بہت مشکل تھا، میں میچ کے دوران خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرتا رہا مگر میرے لیے اپنے جذبات پر قابو رکھنا کافی مشکل ثابت ہوا۔‘
Thanks, Uzzy ❤️ #Ashes pic.twitter.com/h9HPM4arJy
— cricket.com.au (@cricketcomau) January 8, 2026
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ ہم یہ کر دکھایا اور یہ ایسی چیز ہے جس سے میں باقی زندگی لطف اندوز ہوں گا اور اب میں ریلیکس کر سکتا ہوں۔‘
عثمان خواجہ کے کیریئر کا اختتام اسی مقام پر ہوا جہاں سے انہوں نے انگلینڈ کے خلاف 2011 میں شروعات کی تھی۔
عثمان خواجہ بچپن میں اپنے خاندان کے ساتھ اسلام آباد سے ہجرت کر کے آسٹریلیا پہنچے تھے اور انہوں نے پہلے پاکستانی نژاد اور مسلمان کھلاڑی کے طور پر قومی کرکٹ ٹیم تک پہچنے میں کافی مشکلات کا سامنا کیا۔
ایک موقع پر وہ ایشیا سے تعلق رکھنے والے واحد ایسے کھلاڑی تھے جن کو رول ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور ان کی وجہ سے کئی دوسرے کھلاڑیوں کے لیے بھی راستے کھلے۔

عثمان خواجہ جو ایک کوالیفائیڈ پائلٹ بھی ہیں، 16 سینچریز بنا رکھی ہیں جن میں ان کی اوسط 43 سے زیادہ رہی۔
انہوں نے کیریئر کے دوران 40 ایک روزہ میچ بھی کھیلے جبکہ نو ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں بھی شریک ہوئے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’کچھ لوگوں نے اپنی فیملیز کھوئیں مگر میں خوش قسمت ہوں کہ والدین میرے پاس ہیں، میری بیوی اور بچے، جبکہ ایک راستے میں ہے۔‘
ان کے مطابق ’میں کرکٹ سے بہت محبت کرتا ہوں مگر اس سے باہر کی زندگی زیادہ اہم رہی ہے۔‘
’آخر کے چند رنز کافی مشکل تھے اور کچھ دباؤ بھی تھا مگر آخر ہم نے یہ کر ہی لیے۔‘












